سنیوں کے خلاف شیعوں کا دسیسہ کاری - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

سنیوں کے خلاف شیعوں کا دسیسہ کاری

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 2 از 3

خراسان میں مسلمان سنیوں کا ایک پروگرام بھی نہیں ہوتا جبکہ ہزاری شیعوں کو وہاں دو گھنٹے وقت ملتا ہے فارسی اور پشتو میں وہ اپنی نشریات جاری رکھتے ہیں سنیوں کو بالکل محروم رکھا گیا ہے حکومتِ ایران پرائمری سے لے کر آخری تعلیمی مرحلے تک سنی بچوں کو شیعہ عقائد و افکار پر پروان چڑھاتے ہیں انہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے نفرت دلاتے ہیں شیعہ اساتذہ ایسی کتابیں دیتے ہیں جن میں ان کے مذہب کے مطابق ایسے واقعات بیان ہوتے ہیں جو سفید جھوٹ ہیں اور ان سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تنقیض ہوتی ہے ایران میں سنی لوگوں کو ان کے اجتماعی اور ثقافتی حقوق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے علمی مراکز طبع خانے تجارتی لائبریریاں یہ سب شیعیت کے حوالے ہیں سنیوں کو اس بارے میں قطعاً اجازت نہیں یہی وجہ ہے کہ ایران میں صرف شیعی کتابیں چھپتی ہیں چند سنی کتابیں چھپتی ہیں وہ بھی بڑی مشکل کے بعد اور سنی کتابیں حکومت کے قبضے میں ہیں انہیں نشر کرنے اور تبع کرنے کی اجازت نہیں مل رہی ہے مجبوراً بعض سنی لوگ اپنی کتابیں پاکستان میں چھاپ رہے ہیں ایران میں سنی نوجوان پڑھنے کے لیے سوائے شیعوں کی کتابوں کے اور کچھ پاتے ہی نہیں جن میں گمراہ کن عقائد مجوسیوں کی اولاد شیعوں کا یہی مقصد ہے کہ سنیوں کو یہ منحرف عقائد والی کتابیں ہی پڑھائیں:

سبق دیتے ہیں شاہیں بچوں کو خاکبازی کا وزارت ارشاد و تبلیغ ایران تو کام ہی صرف اس خاص نقطہ فکر کے مطابق کرتی ہے اور حکومتِ ایران اس کی پوری سپورٹ کرتی ہے یہ وزارت بہت ہی زیادہ جدوجہد کرتی ہے کہ شیعیت پوری دنیا میں پھیل جائے یہ موجود 40 زبانوں میں اپنا لٹریچر پھیلاچکی ہے جن کی تعداد تیس چالیس کتابوں تک پہنچ چکی ہے اور اپنی ثقافتی طرز پر یہ انہیں دنیا کے ہر کونے میں پہنچا رہی ہے عرب یورپ افریقہ ایشیاء وغیرہ ممالک میں پہنچا رہے ہیں اور شیعہ کتب ان کی وزارت جو نمائندے بھیجتی ہے ان کے ذریعے تقسیم کی جاتی ہے اہم شخصیات کے نام بذریعہ ڈارک ارسال کر دیتے ہیں یا یہ وزراۓ ثقافت دعوت کے لیے آدمی روانہ کرتی ہے ان کے ذریعے تقسیم کی جاتی ہے ان کتابوں میں وہ مضامین اور افکار ہوتے ہیں انہیں عام آدمی نہیں سمجھ سکتا دھوکے میں آ جاتا ہے ذہین آدمی حقیقت جانتا ہے یا وہ جانتا ہے جو شیعوں کے پسِ منظر سے واقف ہےجبکہ سنیوں کو اپنے نظریے اور عقائد کی کتاب چھاپنے کی اجازت نہیں (والله المستعان) سنیوں کے ساتھ ایرانی شیعی تعلیمی سیاست کھیلتے ہیں پرائمری سے لے کر یونیورسٹی سطح تک مردوں اور خواتین کے لیے کچھ کلاسوں کا انتظام کر رکھا ہے اس کا نام انہوں نے (نا خواندگی ختم کرنا رکھا ہے) یہاں بھی صرف اپنے دعوتی مطلوبہ مقاصد کی اجازت دیتے ہیں اس کی آڑ میں شیعیت عام کرتے ہیں کیوں کہ انہوں نےنصاب ہی شیعہ کتاب سے بنا رکھا ہے سنیوں کے ہر شہر میں انہوں نے خاص مرکز اور لائبریریاں قائم کر رکھی ہیں جن میں مطالعے کے لیے وہی کتب ہیں جو ثقافت شیعہ پر روشنی ڈالتی ہے اور طلباء کو یہی پڑھنے کی اجازت دی جاتی ہے ان ملاؤں کی حکومت سے پہلے سنیوں کا ایک مستقل نہج تربیت اسلام کے نام سے موجود تھا مشہور سنی علماء اس کے مہتمم تھے انہوں نے اسے ترتیب دیا تھا جس کی وجہ سے حکومت کی سطح تک توحید کا منہج قائم تھا اب صرف شیعہ عقائد پڑھائے جاتے ہیں یا اب دیکھا کہ طلباء جو سنی نوجوان ہیں وہ ان عقائد پر توجہ نہیں دیتے تو انہوں نے نام سنیوں کا لے کر شیعہ علماء کی لکھی کتاب دوبارہ تعلیم میں لگا دی اس کا نام "سیرتِ اہلِ سنت" اوپر سرورق پر لکھ دیا: 

اطلع على الكتاب مولوي محمد اسحاق مدني مستشار وزير التربيه لشؤن اهل السنه والجماعة۔

اس کی نظرِ ثانی مولوی محمد اسحاق نے کی ہے جو سنی معاملات کی وزارت تربیت کا مشیر ہے۔

یہ وہم ڈالا ہے کہ یہ کتاب سنی عالم کی نظرِ ثانی شدہ ہے مگر خیانت یہ ہوئی ہے کہ اس میں اہلِ سنت کے طریقے پر سنیوں سے نفرت دلائی گئی ہے اور اس میں ایسی دعوت بھی ہے جو شیعوں کی دعوت سے میل نہیں کھاتی یہ ایسی چال چلے ہیں انہوں نے بعض سنی علماۓ سو خرید لیے ہیں انہیں اعلیٰ عہدوں پر بٹھا دیا رہائش گاہیں تعمیر کر دی ماہانہ تنخواہیں لگا دی اس قسم کے مولوی جو لیکچر یا خطاب کرتے ہیں تو یہ عنوان ہوتا ہے 

واعتصموا بحبل الله جميعا ولا تفرقوا۔

اور اس میں یہ بیان کرتا ہے کہ 

ان الخلاف بین السنة والشىعة خلاف سطحی 

"کہ شیعوں اور سنیوں کے درمیان معمولی اور سطحی سا اختلاف ہے " پھر کہتا ہے کہ:

واننا نؤمن ان ما يقولونه يعنى الشيعة حق وان القول بولاية الفقيه قول حق يجب علينا اتباعه و ان الخلاف الوحيد بيننا و بين اخواننا الشيعة هو فى ارسال اليه وقبضه و هذا خلاف قد وقع بين اهل السنة كما هو رأى عند بعض المالكية۔

"ہمارا یقین ہے کہ ہمارے شیعہ بھائی سچے ہیں ان کا یہ عقیدہ جو ولایت فقیہہ کا ہے ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اسے مانیں۔ ہمارے اور ہمارے شیعہ بھائیوں کا اختلاف ایک ہی ہے کہ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنا یا پکڑ کر پڑھنا یہ سنیوں میں بھی ہے جیسا کہ مالکیوں نے کہا۔ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھی جائے"

جب شیعہ ملاؤں کی حکومت آئی ہے سنی اسلامی رنگ اس نے ملیا میٹ کر دیا ہے۔ مدارس کے نام اس نے تبدیل کر دئیے ہیں جن سے اسلامی مہر نظر آتی تھی ایک مدرسہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نام پر تھا اب اس کا نام بدل کر مدرسہ آیت اللہ بہشتی رکھ دیا ہے ۔ایک مدرسہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نام پر تھا اب اس کا نام قمبر رکھ دیا ہے انقلاب کے بعد سنیوں نے جتنے مدارس یا مساجد قائم کیے ہیں ان کے نام حکومت کی مرضی سے رکھے گئے ہیں آیت اللہ طالقانی، مدرسہ آیت اللہ خمینی، بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نام پر بھی مدارس کا نام رکھتے ہیں، ابو ذر، سلمان فارسی، علی بن ابی طالب، حسن، حسین رضی اللہ عنھم کے ناموں پر رکھتے ہیں دوسروں کے ناموں پر نہیں رکھتے۔

صفحہ 2 از 3