سنیوں کے خلاف شیعوں کا دسیسہ کاری - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

سنیوں کے خلاف شیعوں کا دسیسہ کاری

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 3 از 3

انہوں نے تو بہت سارے شہروں اور بستیوں کے نام شیعہ کے ناموں میں تبدیل کر دئیے ہیں اور ہر سنی مدرسہ کی دیوار پر انہوں نے اپنے اماموں کے نام لکھ دئیے ہیں۔ ان کے گھروں کی دیواروں پر اور محلوں پر اور حکومتی کاغذوں پر مثلاً برتھ سرٹیفکیٹ، زمینوں کے چیک، اور رسمی سندوں پر اماموں کے نام ہیں۔ اور ٹیلیفون کے بلوں پر بھی اماموں کے نام لکھتے ہیں، گرمیوں کی چھٹیوں میں سنی طلباء میں سے ذہین اور کامیاب طلباء کا ایک وفد تشکیل دیتے ہیں، مازندران کے وزٹ پر لے کر جاتے ہیں یا دیگر علاقوں میں جاتے ہیں، شیعہ علماء ان کی نگرانی کرتے ہیں اور اتنے دن وہی ان کی تربیت کرتے ہیں جب واپس آتے ہیں تو انہیں کتابیں اور دیگر تحائف دیتے ہیں اس حکومت نے کہا ہے کہ سنی اسلامی مدارس جو پرانے آ رہے ہیں انہیں باقی رکھا جائے مگر نئے سرے سے مدارس یا مساجد کی انہیں اجازت نہیں۔ ایک تنظیم کامیٹا کے نام سے نئی وجود میں آئی ہے۔ رفسنجانی اس کا بانی ہے، یہ ہمہ وقت سنی مدارس کا وزٹ کرتے رہتے ہیں تاکہ ان کے پڑھانے کے طریقہ کار پر اور احوال پر نظر رکھیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اسلامی مدارس میں ان شیعہ کی کتب شامل کی جائیں ۔

ایک پاسداران اور سانداز کی تنظیم ہے یہ بھی بستیوں میں چکر لگاتے رہتے ہیں اور ایک معین جگہ پر یہ سنی طلباء کو جمع کرتے ہیں اور ویڈیو کے زریعے انہیں فلمیں دکھاتے ہیں اور انہیں دینی لیکچر دیتے ہیں جو انہیں متاثر کرنے کے لیے تیر بہدف ہوتا ہے۔ اس لیکچر کے بعد بسکٹ اور حلوی حاضرین کو دیتے ہیں، اپنے مقررہ پروگرام کے مطابق یہ بستی بستی اس طرح چلتے ہیں۔

پیارے بھائیو! آپ نے کبھی یہ سنا ہے کہ ماہِ رمضان المبارک میں سنی مساجد میں چار سو لیکچر شیعہ علماء نے دئیے ہوں۔ ہزاروں شیعہ علماء ہیں جنہیں حکومتِ ایران بھاری تنخواہیں دیتی ہے، اس لیے کہ یہ سنی علاقوں میں لیکچر دیں اور لوگوں کی شیعہ مذہب کے لیے برین واشنگ کریں۔ اس کے برعکس سنی ایک داعی نہیں جو فارغ ہو کر اللہ کی طرف دعوت دے واہ اسفاہ! شیعہ علماء وقتی اور مذہبی مراسم سے فائدہ اٹھاتے ہیں کبھی ہفتہ وحدت کے نام سے، کبھی یومِ انقلاب کے نام سے، کبھی ایامِ عید کے نام پر اور کبھی دیگر مجالس کے نام سے یہ لوگوں کو شیعیت کی طرف مائل کرتے ہیں اور حکومت ان کی مکمل سرپرستی اور نگرانی کرتی ہے اور اہم شخصیات اور اندرونی اور بیرونی سربرآوردہ لوگوں کو ان میں شمولیت کی دعوت دیتی ہے اور ان کے ساتھ سنی علماء، طلباء اور ملازمین کو بھی ان میں شرکت پر مجبور کیا جاتا ہے اور دعویٰ یہی کرتے ہیں اور آڑ یہی بناتے ہیں شیعہ اور سنی برابر ہیں آپس میں تعاون کرتے ہیں جبکہ اس کے برعکس ہے کہ سنیوں کی کثرت زبردستی، مجبوراً اور دھمکی سے اور ہراساں کر کے یقینی بنائی جاتی ہے۔


صفحہ 3 از 3