صحیح احادیث کے معنیٰ اپنی خواہشات کے مطابق بدل دینا
علی محمد الصلابیقدیم و جدید شیعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عائشہ و حفصہ( رضی اللہ عنہما ) کے ہاتھوں زہر پلانے کی روایت مسلسل بیان و تحریر کرتے ہیں اور پرزور طریقے سے کہتے ہیں کہ ان دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر پلایا۔ ذیل میں وہ روایت من و عن تحریر کی جاتی ہے جو امام بخاری و مسلم نے صحیحین میں روایت کی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: ’’ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی مرض میں منہ کی ایک جانب سے دوا پلائی (اللدود: جب مریض کو منہ کی ایک جانب (دائیں یا بائیں ) سے دوا پلائی جائے اور زبان اور باچھ کے درمیان دوا ڈالی جائے۔ قدیم عربوں میں یہ بات مشہور تھی کہ جسم خصوصاً پیٹ اور سینہ میں جس طرف درد ہو منہ کی اسی طرف سے دوا پلانے سے افاقہ ہوتا ہے۔ (تہذیب اللغۃ للازہری: جلد 14 صفحہ 49۔ الفائق فی غریب الحدیث للزمخشری: جلد 3 صفحہ 85۔ لسان العرب لابن منظور: جلد 3 صفحہ 390۔) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اشارے سے ہمیں کہہ رہے تھے: تم مجھے منہ کی ایک جانب سے دوا نہ پلاؤ۔‘‘
راوی کہتا ہے: ہم نے کہا: مریض دوا کو ناپسند کرتا ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو افاقہ ہوا تو آپ نے فرمایا: کیا میں نے تمھیں منہ کی ایک جانب سے دوائی پلانے سے منع نہیں کیا تھا؟
راوی کہتا ہے: ہم نے کہا: مریض دوا سے نفرت کرتا ہے۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے سامنے عباس کے علاوہ تم سب کو اس کے منہ کی ایک جانب سے دوا پلائی جائے، کیونکہ عباس تمہارے ساتھ شامل نہیں ہوئے تھے۔‘‘
(صحیح بخاری: حدیث نمبر 6897۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر 2213)
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
’’ابتدا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں بیمار ہوئے اور آپﷺ کا مرض اتنا شدید ہو گیا کہ آپﷺ پر غشی طاری ہو گئی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے آپﷺ کے منہ کی ایک جانب سے دوا پلانے کے بارے میں مشورہ کیا۔ چنانچہ سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طریقے سے دوا پلا دی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو افاقہ ہوا تو فرمایا: یہ کیا طریقہ ہے؟ ہم نے کہا: یہ ان عورتوں کا فعل ہے جو وہاں (سرزمین حبشہ) سے آئی ہیں۔ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بھی ہجرت حبشہ میں شامل تھیں۔ اے رسول اللہ! وہ کہنے لگیں: ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اندیشہ تھا کہ آپ کو درد قولنج (ذَاتَ الْجَنْبِ: پہلو میں ہونے والا درد۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 1 صفحہ 303۔ لسان العرب لابن منظور: جلد 1 صفحہ 281۔) پڑ گیا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مجھے اس میں مبتلا نہ کرے گا۔
(لِیَقْرُفَنِی: یعنی اللہ تعالیٰ مجھے اس میں مبتلا کرنے کا قصد نہیں کرے گا۔ محدث سندھی کی یہ رائے ہے۔ (تحقیق مسند احمد: 45، 462)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس گھر میں موجود سب لوگوں کو اسی طرح دوا پلائی جائے، سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس کے۔‘‘
بقول راوی: ’’اس دن میمونہ رضی اللہ عنہا اگرچہ روزہ سے تھیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی وجہ سے اسے بھی منہ کی ایک جانب سے دوا پلائی گئی۔‘‘
(مسند احمد: جلد 45 صفحہ 460 حدیث نمبر 27469۔ مصنف عبدالرزاق: جلد 5 ص 428 حدیث نمبر 9754۔ مسند ابن راہویہ: جلد 5 صفحہ 42، حدیث نمبر 2145۔ شرح مشکل الآثار للطحاوی: جلد 5 صفحہ 195، حدیث نمبر 1935۔ صحیح ابن حبان: جلد 14 صفحہ 552، حدیث نمبر 6587۔ المعجم الکبیر للطبرانی: جلد 24 صفحہ 140، حدیث نمبر 372۔ مستدرک حاکم: جلد 4 صفحہ 225 حدیث نمبر 7446 ۔ حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شیخان کی شرط پر یہ حدیث صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے فتح الباری: جلد 8 صفحہ 148 پر صحیح کہا اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے السلسلۃ الصحیحۃ: حدیث نمبر: 3339 پر صحیح کہا۔
مذکورہ دونوں نظریوں کی بنیاد پر استوار مذکورہ بہتان کا متعدد طریقوں اور دلائل سے رد کیا جائے گا۔
(اس بہتان کے رد کے لیے مطالعہ کریں: الصاعقۃ فی نسف اباطیل و افترأ ات الشیعۃ لعبد القادر عطا صوفی: صفحہ 51، 70 اور شیخ عبدالرحمٰن طوخی کا مقالہ بعنوان رد الشبہ و الافتراء ات عن السیدۃ عائشۃ)
دلیل نمبر 1 زہر والا قصہ تاریخی کذب بیانی کی ایک بھونڈی مثال ہے اور یہ ایسا عجیب و غریب افسانہ ہے جو کتب شیعہ میں قدیم سے جدید دور میں ایک تسلسل اور تواتر کے ساتھ موجود ہے۔
چنانچہ شیعہ جب اپنی لغویات اور حفوات کی تائید و توثیق کرنا چاہتے ہیں تو اپنے دعویٰ کو کچھ قرآنی آیات سے مزین کرتے ہیں اور پھر ان آیات کی تفسیر میں اپنے من گھڑت قصے اور خود ساختہ افسانے احادیث کے طور پر لاتے ہیں، جو ان کے نزدیک ان کے بہتانات کی تائید و توثیق کرتے ہیں، حتیٰ کہ نوآموز شیعہ یہ اعتقاد بنا لیتے ہیں کہ اس بہتان کی تاکید و تائید میں مذکورہ آیات قرآنیہ نازل ہوئی ہیں اور یہی مقصد اس بہتان سے حاصل کرنا چاہتے ہیں جو انھوں نے انبیاء مرسلین کے بعد روئے زمین پر سب سے بہترین افراد سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور ان دونوں کی بیٹیوں پر لگایا ہے۔
(الصاعقۃ فی نسف اباطیل و افتراء ات الشیعۃ: صفحہ 51 معمولی رد و بدل کے ساتھ نقل کیا گیا۔)
انھوں نے یہ من گھڑت کہانی جو سورۂ تحریم کی تفسیر کے ضمن میں تحریر کی ہے کتب شیعہ کے علاوہ ہمیں کسی اور کتاب میں نہیں ملی۔
جبکہ صحیح ترین احادیث کی رو سے حقیقت یہی ہے کہ سورت تحریم کا سبب نزول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے اوپر شہد حرام کر لینا تھا۔ جیسا کہ صحیح بخاری و صحیح مسلم کی روایت میں ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس شہد پیتے تھے اور آپﷺ ان کے پاس ٹھہر جاتے تھے، پھر میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے اتفاق کر لیا۔
(فَوَاطَیْتُ: میں نے اتفاق کیا۔ (شرح مسلم للنووی: جلد 10 صفحہ 74۔)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے جس کے پاس بھی آئیں اسے یہ کہنا ہو گا: کیا آپ نے مغافیر (بدبودار گوند) کھائی ہے! مجھے آپ سے مغافیر کی بو آ رہی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں میں سے کسی ایک کے پاس گئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے! میں نے زینب بنت جحش کے ہاں شہد پیا ہے۔ آئندہ میں ہرگز نہیں پیوں گا اور میں نے قسم کھا لی تو اس کے بارے میں کسی کو نہ بتا۔‘‘
(صحیح بخاری: حدیث: 4912، 5267۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر 1474)
اس حدیث کو پڑھ کر رافضیوں کا جھوٹ اور بہتان واضح ہو جاتا ہے اور ان کی ان من گھڑت اور خود ساختہ روایات کا پول کھل جاتا ہے جو انھوں نے اپنے برے مقاصد کے لیے گھڑی ہیں اور جو ان کے فاسد مذہب کی تائید کرتی ہیں۔
دلیل نمبر 2 نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ کی ایک جانب سے دوا ڈالنے کا جو واقعہ سیدہ عائشہ اور سیدہ اسماء رضی اللہ عنہما نے روایت کیا، اس سے رافضیوں نے وہی سمجھا جو ان کے بہتان کے موافق تھا۔ آئیے! ان کی کوتاہ عقلی کو عقل سلیم کے پیمانے پر پرکھتے ہیں۔
1۔اللدود: مریض کے منہ کی ایک جانب سے دوا ڈالنے کو کہتے ہیں۔
(تہذیب اللغۃ للازہری: جلد 14 صفحہ 49۔ الفائق فی غریب الحدیث للزمخشری: جلد 3 صفحہ 85۔ لسان العرب لابن منظور: جلد 3 صفحہ 390)
تو شیعوں کو دوا کے اجزاء کے متعلق کیسے پتا چلا جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پلائی تھی؟
2۔ اس واقعہ کو روایت کرنے والی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خود ہیں۔ تو کیا وہنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے بعد لوگوں کو بتلا رہی ہیں کہ انھوں نے اپنے خاوند، اپنے محبوب اور اللہ کے محبوب نبی کے ساتھ کیا کیا؟
3۔ جو زہر یہودیوں نے بکری کے گوشت میں ملا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیا تھا اس کے متعلق تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس بھنی ہوئی بکری کی زبانی بتلا دیا کہ اس میں زہر ملا ہوا ہے۔ تو پھر جو زہر عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پلایا اس کے متعلق (روافض کے بقول) اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں نہ بتلایا؟
4۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو دوا پلائی گئی وہ بلاوجہ نہیں پلائی گئی بلکہ اس درد کو رفع کرنے کے لیے پلائی گئی جس میں آپﷺ مبتلا تھے۔
5۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے گھر میں موجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب بیویوں سے مشورہ کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوا پلائی تھی۔
6۔ ہمیں کسی کے متعلق علم نہیں جو لوگوں کے سامنے بلاخوف و خطر جرم کا ارتکاب کر لے صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے ہی نہیں بلکہ سب گھر والوں کے سامنے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر پلا رہی تھیں؟
7۔ ہمیں احادیث صحیحہ سے معلوم ہو گیا ہے کہ جو دوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پلائی گئی تھی وہ اس وقت گھر میں موجود سب لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے بعد پلائی گئی، صرف عباس رضی اللہ عنہ کو دوائی نہ پلائی گئی۔ تو زہر کا اثر صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر کیوں ہوا؟ گھر کے دیگر افراد کے جسموں پر اس زہر کا کوئی اثر کیوں نہ ہوا؟
8۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سالہا سال تک یہ کام کیوں نہ کر سکیں، انھیں کس نے روکا تھا؟ حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض جب شدت اختیار کر گیا تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شیعوں کے بقول زہر کیوں پلائی؟
9۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس اعلانیہ قتل پر کس نے مجبور کیا؟ جو سراسر بہتان و کذب بیانی ہے اور انہیں یہ مشکل ترین طریقہ اور آخری لمحات کیوں منتخب کرنے پڑے۔ باوجود اس کے وہ ہر وقت گھر میں رہتی تھیں، کیا ان کے لیے ممکن نہ تھا کہ سوتے میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا (نعوذ باللہ) گلا گھونٹ دیتیں ۔یا کوئی بھاری پتھر آپ پر گرا دیتیں۔ نہ تو قاتل کو کوئی دیکھتا اور نہ مقتول کا کوئی عینی شاہد ہوتا اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کسی یہودی کو اس فعل بد کے لیے منتخب کرتیں۔ جو ایسی گھناؤنی سازشوں میں ید طولیٰ رکھتے تھے اور وہ بہت باریک اور گہرے مکر و دغا کے ماہر تھے۔ خصوصاً جب ان کی تاریخ اور ان کے حالات اس بات کے شاہد تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی دشمنی بھی واضح تھی۔
10۔ ہمیں اس بات سے بالکل انکار نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زہر سے ہی وفات پائی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کون سا زہر تھا؟ جی ہاں! یہ وہی زہر تھا جو یہودی عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلانے کے لیے بکری کے گوشت میں ملایا تھا اور جب اللہ تعالیٰ نے بکری کی زبانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر کے بارے میں بتایا تو آپ نے منہ میں ڈالا گیا لقمہ باہر پھینک دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں یہ بتایا کہ آپﷺ اپنے بدن پر اس زہر کا اثر محسوس کر رہے ہیں۔ اسی لیے ہمارے اسلاف میں سے کسی نے کیا خوب کہا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبوت اور شہادت اکٹھی کر دیں۔
11۔ تو کیا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو اس دوا کے اجزاء کے متعلق علم تھا یا انھیں معلوم نہیں تھا۔ اگر اہل تشیع ثابت کر دیں کہ عباس رضی اللہ عنہ کو اس کا علم تھا تو بلاشبہ تم ایک بہت بڑا بہتان تراشتے ہو۔ کیونکہ عقل سلیم اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتی کہ عباس رضی اللہ عنہ اس چیز کا علم ہونے کے باوجود خاموش رہے اور وہ اٹھتے بیٹھتے چپ رہے۔ نہ انھیں غصہ آیا نہ انھوں نے قاتلوں سے قصاص لینے کا کبھی تذکرہ کیا۔ اگر یہ کام غیر شرعی تھا تو وہ اپنے بھتیجے کی حمایت میں کیوں نہ اٹھے جو نسبی خون کا طبعی تقاضا ہے۔ یا اہل تشیع عباس رضی اللہ عنہ سے ان کی اصلی عربی غیرت چھیننا چاہتے ہیں جیسا کہ خوئی (ابو القاسم بن علی اکبر بن ہاشم تاج الدین موسوی خوئی۔ 1317 ہجری میں پیدا ہوا ایرانی امامی شیعوں کا مرجع شمار ہوتا ہے۔ نجف کے مرکز علمی کا رئیس تھا۔ ’’المعجم فی تفصیل طبقات الرواۃ‘‘ اور ’’المسائل المنتخبۃ فی بیان احکام الفقہ‘‘ اس کی تصنیفات ہیں۔ 1412 ہجری میں فوت ہوا۔ (سرکاری ویب سائٹ www.ALkhoei-netمؤسسۃ الخوئی الاسلامیۃ۔)) نے لکھا۔
وہ کہتا ہے: ’’کشی نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے تعارف میں اپنی سند کے ذریعے ابو جعفر( علیہ السلام ) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ یہ آیت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَنۡ كَانَ فِىۡ هٰذِهٖۤ اَعۡمٰى فَهُوَ فِى الۡاٰخِرَةِ اَعۡمٰى وَاَضَلُّ سَبِيۡلًا ۞ (سورۃ الإسراء آیت 72)
ترجمہ: اور جو شخص دنیا میں اندھا بنا رہا، وہ آخرت میں بھی اندھا، بلکہ راستے سے اور زیادہ بھٹکا ہوا رہے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی اسی کے بارے میں نازل ہوا:
وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِىۡۤ اِنۡ اَرَدْتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ هُوَ رَبُّكُمۡ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ۞ (سورۃ هود آیت 34)
ترجمہ: اگر میں تمہاری خیر خواہی کرنا چاہوں تو میری خیر خواہی اس صورت میں تمہارے کوئی کام نہیں آسکتی جب اللہ ہی نے (تمہاری ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے) تمہیں گمراہی کرنے کا ارادہ کر لیا ہو۔ وہی تمہارا پروردگار ہے، اور اسی کے پاس تمہیں واپس لے جایا جائے گا۔
اگر اہل روافض کہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے زہر پلانے کے منصوبے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لاعلم تھے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اس بارے میں کوئی وحی نازل کی تو یہ ایسی بات ہے جسے کوئی عقل سلیم کا مالک انسان قبول نہیں کر سکتا۔
چنانچہ تم کہتے ہو کہ جس چیز کا علم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو نہ تھا حالانکہ وہ اس وقت گھر میں موجود تھے اور جس کے متعلق وحی بھی نازل نہیں ہوئی اور تمھیں اس کی پوری پوری خبر ہو گئی۔ تو یہ بہت بڑا اور گھناؤنا بہتان ہے جو انسان کو عقل و ایمان سے ایک ساتھ بیگانہ کرتا ہے۔
13۔ روایت کے الفاظ سے واضح ہوتا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس طریقہ سے دوا پلانے سے روکا تو آپﷺ کی بیویاں اسے شرعی نہی کے طور پر نہ سمجھیں بلکہ ان کے مطابق مریض کو جیسے دوا سے نفرت ہوتی ہے ایسے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوا سے نفرت کی وجہ سے یہ کہہ رہے تھے۔ ان کی اس سمجھ کا کوئی منکر نہیں، باوجودیکہ ان کے پاس اس طریقے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دوا پلانے کا کوئی عذر نہیں ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں منع بھی کیا۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب ہے۔ تاہم ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی تشخیص میں غلطی ہوئی اس لیے انھوں نے آپﷺ کو ایسی دوا پلا دی جو آپ کے مرض کے موافق نہ تھی۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں
’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طریقہ علاج سے انکار کیا کیونکہ وہ آپ کے مرض کے موافق نہیں تھا۔ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے یہ سمجھا کہ آپ کو درد قولنج ہے۔ اس لیے انھوں نے آپﷺ کو وہی دوا پلائی جو اس مرض کے موافق تھی۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مرض میں مبتلا نہ تھے، جیسا کہ خبر کے سیاق سے یہ بات بخوبی سمجھ میں آتی ہے۔‘‘
(فتح الباری لابن حجر: جلد 8 صفحہ 147)
انسان کو جس چیز پر تعجب ہوتا ہے وہ رافضیوں کی یہ حرکت ہے کہ انھوں نے فتح خیبر کے موقع پر یہودیوں کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر کھلانے والے واقعہ کو بالکل نہیں چھیڑا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کے مرض الموت میں اس زہر کے جو اثرات اور درد انگیز اذیتیں ظاہر ہوئیں حتیٰ کہ آپ نے ہم سب کی ماں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا: اے عائشہ! میں نے جو کھانا خیبر میں کھایا تھا اس کا درد ابھی تک محسوس کر رہا ہوں۔ پس ان لمحات میں اس زہر کے اثرات سے میں اپنے حلق کی رگوں کو کٹتا ہوا محسوس کر رہا ہوں۔
(اس کی تخریج گزر چکی ہے)
پھر رافضی یہ افتراء ام المؤمنینؓ پر باندھتے ہیں گویا انھوں نے دو اقسام کی شرارتوں کو اپنی جھولی میں ڈال لیا۔ اللہ کے اعلانیہ دشمنوں سے دوستی کا اظہار اور ان کے جرم سے انھیں بے گناہ قرار دینا اور اللہ تعالیٰ کے خصوصی دوستوں میں طعن کرنا اور انھیں ایسے افعال میں مطعون کرنا جن سے اللہ تعالیٰ نے انھیں بری کر دیا ہو۔
آخر میں ہم کہتے ہیں: ’’رافضیوں کا بہتان لگانا معمول کا کام ہے کیونکہ ان کے شبہات و شکوک ان کے دعوؤں سے زیادہ ہوتے ہیں جو ان کے جھوٹ اور دھوکا بازی کی واضح دلیل ہیں۔