مفصل روایت شیعوں کا اعتراض اور اس کا مفصل و مدلل جواب
علی محمد الصلابیوہ حدیث صحیح بخاری و صحیح مسلم میں موجود ہے۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر 5763۔ صحیح مسلم حدیث نمبر 2189۔ بخاری کی روایت کے یہ الفاظ ہیں: بنو زریق کے ایک آدمی جسے لبید بن اعصم کہا جاتا تھا، نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا۔ حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خیال آتا کہ آپ نے کوئی کام کر لیا ہے حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کیا ہوتا۔ یہاں تک ایک دن یا رات کو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تھے، اور لیکن آپ مسلسل دعا کر رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! کیا تمھیں معلوم ہے؟ بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ بات بتا دی جو میں نے اللہ سے پوچھی تھی۔ میرے پاس دو آدمی آئے۔ ان میں سے ایک میرے سر کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس بیٹھ گیا۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اس آدمی کو کیا بیماری ہے؟ دوسرے نے کہا: اس پر جادو کیا گیا ہے۔ پہلے نے کہا: اس پر کس نے جادو کیا ہے؟ دوسرے نے کہا: لبید بن اعصم نے۔ پہلے نے پوچھا: کس چیز میں جادو کیا ہے؟ دوسرے نے کہا: کنگھی اور بالوں میں اور نر کھجور کے خشک گابھے میں۔ پہلے نے پوچھا: وہ کہاں ہے؟ دوسرے نے کہا: وہ چاہ ذروان میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ہمراہ ان کھجوروں کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور فرمایا: اے عائشہ! اس کنویں کا پانی گویا مہندی کی طرح سرخ ہے یا اس کی کھجوروں کے گابھے شیطانوں کے سروں کی مانند تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے اسے نکالا نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے عافیت دے دی تو میں نے ناپسند کیا کہ میں اس معاملہ پر لوگوں کو اس کے خلاف شدید ابھاروں۔ لہٰذا میں نے اسے دفن کرنے کا حکم دے دیا۔
تاہم بخاری و مسلم کی اس متفق علیہ حدیث میں قطعاً ایسی کوئی دلیل نہیں جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص کا پہلو نکلتا ہو۔ چونکہ وہ بھی ان دیگر مصائب و آزمائشوں کی طرح ایک مصیبت اور ایک بہت بڑی آزمائش تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدر میں اللہ تعالیٰ نے لکھ دی تھیں، جیسا کہ غزوۂ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رُخ انور لہولہان کر دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے والے چاروں دندان (رباعیۃ: منہ میں بالکل سامنے والے دو بالائی اور دو زیریں دانتوں کو ثنیہ یا ثنایا کہتے ہیں اور بالائی ثنیہ کی دونوں طرف ایک ایک دانت اور زیریں ثنیہ کے دونوں طرف ایک ایک دانت یعنی ثنایا اور انیاب کے درمیان چار دانتوں کو رباعیہ کہتے ہیں۔ (لسان العرب لابن منظور: جلد 8 صفحہ 99۔) مبارکہ شہید ہو گئے اور جیسا کہ آپﷺ کو دو آدمیوں کے بخار کے برابر بخار ہوتا تھا۔ اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دہرا اجر ملے گا اور جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتا دیا کہ سب سے بھاری آزمائشیں انبیاء پر آتی ہیں۔
ان کے علاوہ بھی اس طرح کی متعدد احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکالیف و آزمائشوں اور صدمات کی تفصیل موجود ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو بھی ایک آزمائش تھی، لیکن جادو نے آپ کی عقل، دل اور وحی کی تبلیغ پر اثر نہیں کیا بلکہ اس جادو کے ذریعے سے زیادہ سے زیادہ جو کہا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم نہ کرتے تھے۔ لبید یہودی کا جادو ایک آزمائش تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے نجات و شفا دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو ہو جانے میں آپﷺ کے بشر ہونے کی دلیل بھی ہے اور ہمیں اس سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں غلو نہ کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو ہونے سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی نفی نہیں ہو جاتی:
وَاللّٰهُ يَعۡصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۞ (سورۃ المائدةآیت 67)
ترجمہ: ’’اور اللہ تجھے لوگوں کی (سازشوں) سے بچائے گا۔‘‘
کیونکہ سورۂ مائدہ قرآن کی آخری نازل ہونے والی سورت ہے اور اگر یہ کہا بھی جائے کہ جادو والا قصہ آیت مذکورہ کے نزول کے بعد پیش آیا اور یہ بات تسلیم کر لی جائے تو اس کا جواب یہ ہے کہ آیت میں عصمت سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تبلیغ رسالت میں لوگوں کے شر سے محفوظ رکھنا ہے، کیونکہ آیت کا ابتدائی حصہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يٰۤـاَيُّهَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ۞ (سورۃ المائدةآیت 67)
ترجمہ: ’’اے رسول! جو کچھ تمھارے رب کی طرف تم پر نازل کیا گیا ہے۔‘‘اس کی تبلیغ کرو۔
جادو ہونے کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ عصمت و حفاظت حاصل تھی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ وحی پر جادو کا اثر نہ ہوا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الموت تک اس جادو کا بالکل اثر نہ ہوا۔ جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا کہ یہ جادو ایک قسم کا مرض تھا اور جب یہ تاویل قبول کر لی جائے تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو ہو جانے اور اللہ تعالیٰ کا آپﷺ کو معصوم و محفوظ قرار دینے میں کوئی خلاف نہیں۔ و اللّٰہ اعلم۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی جن مرویات پر شیعہ اعتراض کرتے ہیں ، ان میں سے ایک روایت وہ بھی ہے کہ جس میں عید کے دن دو بچیاں میرے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دف بجاتے ہوئے اشعار پڑھ رہی تھیں، کا ذکر ہے۔
(اس کی تخریج گزر چکی ہے)
چنانچہ مرتضیٰ حسینی شیعی (مرتضیٰ بن محمد بن محمد باقر بن حسین حسینی فیروز آبادی، 1329 ہجری میں نجف میں پیدا ہوا۔ نجف یونیورسٹی میں ہی تعلیم مکمل کی۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’السبعۃ من السلف‘‘ اور ’’منتخب المسائل‘‘ ہیں یہ 1410 ہجری میں فوت ہوا۔ (معارف الرجال لمحمد حرز الدین: جلد 2 صفحہ 389۔ معجم المولفین العراقیین لکورکیس عواد: جلد 3 صفحہ 292۔) لکھتا ہے: (باب: عائشہ نے جو باطل افسانے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیے ہیں ) مصنف نے اس باب میں جہاں دیگر احادیث نقل کی ہیں وہیں یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ عائشہ( رضی اللہ عنہا ) کہتی ہے: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے تو میرے پاس دو نو عمر لڑکیاں گا رہی تھیں۔‘‘
شیعہ مصنف کہتا ہے:
’’کیا یہ بات مناسب اور قابل فہم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں دو لڑکیاں دف بجا رہی اور گا رہی ہوں؟ اگرچہ وہ عید کا دن ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہیں اور کچھ نہ کہیں؟ کیا یہ معقول بات ہے کہ ابوبکر( رضی اللہ عنہ ) اس قباحت کو محسوس کر ے اور وہ عائشہ کو جھڑک دے۔ جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس فعل کی قباحت اور عبث محسوس نہ کریں اور ابوبکر عائشہ( رضی اللہ عنہا ) کو ڈانٹتے ہوئے کہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں شیطانی باجے کیوں ہی؟
بقول مصنف ’’میری عمر کی قسم! عائشہ( رضی اللہ عنہا ) پر کوئی تعجب نہیں۔ کیونکہ اس نے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یہ جھوٹے افسانے منسوب کیے ہیں، لیکن ہمیں تو ائمہ حدیث پر تعجب ہی تعجب ہے اور جو احادیث کے راوی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو کیسے اندھا کر دیا ہے۔ چنانچہ وہ بصیرت و بصارت سے محروم ہو گئے اور شعور کی نعمت سے بھی وہ لوگ تہی دامن ہیں اور بلا جھجک و بلا شرم و حیا ایسی جھوٹی احادیث اپنی کتابوں میں درج کرتے چلے آ رہے ہیں وہ ذرہ بھر خجالت محسوس نہیں کرتے۔‘‘
کیا ایسا نہیں کہ جب یہود و نصاریٰ اور دیگر غیر مسلم یہ روایات پڑھیں اور سنیں گے، تو ضرور وہ یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ مسلمانوں کا نبی ایک عیاش شخص تھا۔ اسے صرف اپنی شہوات کی تکمیل کی فکر رہتی تھی اور عورتوں کے ساتھ کھیل کود اور ان سے لذت حاصل کرنا اس کا محبوب مشغلہ تھا۔
(یہ اعتراض نما کلماتِ کفر ہم اہل سنت کی طرف سے نہیں، بلکہ نجف یونیورسٹی کے اس فاضل ’’مرتضیٰ حسین حسینی‘‘ کے ہیں۔
تو پھر یہی ائمہ حدیث ہی ان غیر مسلموں کی گمراہی اور سرکشی کا سبب بنیں گے۔ روئے زمین پر اس سے بڑا جرم کوئی نہیں۔ العیاذ باللّٰہ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا:
وَلَا تَحۡسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا يَعۡمَلُ الظّٰلِمُوۡنَ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمۡ لِيَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِيۡهِ الۡاَبۡصَارُ ۞ (سورۃ ابراهيم آیت 42)
ترجمہ: اور یہ ہرگز نہ سمجھنا کہ جو کچھ یہ ظالم کر رہے ہیں، اللہ اس سے غافل ہے۔ وہ تو ان لوگوں کو اس دن تک کے لیے مہلت دے رہا ہے جس میں آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔
(السبعۃ من السلف: صفحہ 166)