سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر مذکورہ بالا جاہلانہ عتراض کا جواب
علی محمد الصلابیگانے والی دو لڑکیوں والی حدیث میں سرے سے کوئی طعن والی بات ہے ہی نہیں۔
(اگر کوئی جاہل یا اَن پڑھ اس حدیث مبارکہ پر اعتراض کرتا تو شاید ہم اسے درخور اعتناء نہ سمجھتے۔ لیکن جامعۃالنجف کے فاضل کے اس حدیث پر اعتراضات سے یہ بخوبی واضح ہوتا ہے کہ یہ لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نفرت میں ہی مبتلا نہیں بلکہ اس نفرت کی آڑ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ پر کیچڑ اُچھالنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ دو معصوم بچیوں کے ایک ملی ترانے کو گانے بجانے کی محفل قرار دینا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کلماتِ کفر بکنا، آپﷺ کی ذات بابرکات پر کافروں جیسے اعتراضات کرنا، جبکہ وہ شخص عربی کا عالم ہونے کی وجہ سے یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ اس حدیث میں ایسی کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔ لیکن محض صدیقہ کائنات رضی اللہ عنہا کی مخالفت میں یہود و نصاریٰ اور کافروں کے منہ میں اپنی بات ڈال رہا ہے۔ اس سے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت اور گستاخی کیا ہو گی جو اس رافضی فاضل نجف(ایران) نے کی ہے۔)
کیونکہ وہ مذکورہ دو لڑکیاں بالغ نہیں تھیں اور وہ عید کے دن ترانے یا اشعار وغیرہ پڑھتی تھیں۔ ان کا گانا آج کے گانے کی طرح نہیں تھا کہ جو شہوات کو بھڑکاتے ہیں اور حرام کے ساتھ اختلاط نظر اور حرام کے استعمال کی دعوت دیتے ہیں۔ اس کی دلیل حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہ الفاظ ہیں اور وہ دونوں (بچیاں ) مشہور گائیکہ نہیں تھیں، یعنی گانا ان کی عادت نہیں تھی اور نہ ہی وہ دونوں اسی وجہ سے مشہور و معروف تھیں، بلکہ وہ جنگی کارناموں، فخر و مباہات اور شجاعت و دلیری اور فتح و کامرانی کے اشعار پڑھ رہی تھیں جب کہ اس میں کوئی گناہ نہیں۔
فتنہ پرور اور فتنہ پسند لوگ جو دعویٰ کرتے ہیں حدیث میں ایسی کوئی بات نہیں کہ نعوذ باللہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹ اور تخیلاتی گانے سنتے تھے اور وہ بھی گانے والی لڑکیوں کے منہ سے۔ اس بہتانِ عظیم کے رد کی دلیل یہ ہے کہ اسی حدیث میں جو ذکر کیا انھوں نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اپنے چہرے، کانوں اور سارے بدن کو کپڑے سے ڈھانپے ہوئے تھے تو یہ اس بات کی بھی واضح دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے مکمل بے رخی و بے رغبتی کی ہوئی تھی۔ کیونکہ جو مقام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے عطا کیا تھا، وہ اس بات کا تقاضا کرتا تھا کہ آپ ان کے فعل پر توجہ اور دھیان نہ دیں۔
لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ایسے مواقع کی نسبت سے ایسا کچھ کرنا (یعنی اسلامی اشعار، اور جنگی فتوحات و شہداء کے کارنامے بیان کرنا) جائز ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسلمانوں کے ساتھ نرمی، رحمت اور شفقت کی یہ بہت بڑی دلیل ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا: ’’عیدوں اور خوشی کے مواقع پر خوشی کا اظہار کرنا دین کا شعار ہے۔‘‘
(فتح الباری لابن حجر رحمہ اللہ: جلد 2 صفحہ 443)
بلکہ یہ فتنہ پرور فسادی تو یہاں تک کہتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر بھی (نعوذباللہ) جھوٹ بولتی تھیں اور وہ دلیل کے طور پر ایک حدیث بیان کرتے ہیں:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو کلب کی ایک عورت سے منگنی کا ارادہ کیا اور عائشہ کو اسے دیکھنے کے لیے بھیجا، وہ گئیں پھر واپس آ گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم نے کیا دیکھا؟ انھوں نے کہا: مجھے آپ کا اس کے ساتھ شادی کرنے کا کوئی مقصد دکھائی نہیں دیا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں یوں مخاطب کیا: تجھے میرا اس کے ساتھ شادی کا مقصد بخوبی سمجھ آ گیا ہے۔ تم نے جونہی اس کے رخسار پر تل (الخال: جسم پر تل کو کہتے ہیں۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 94) دیکھا تو تمھارے بدن کے سارے بال کھڑے ہو گئے۔ تب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپﷺ سے راز کی کوئی بات چھپی نہیں رہ سکتی۔
(اسے ابن سعد نے الطبقات: جلد 8 صفحہ 160 پر نقل کیا اور تاریخ بغداد: جلد 1 صفحہ 301 پر خطیب بغدادی نے اور وہاں سے تاریخ دمشق: جلد 51 صفحہ 36 پر ابن عساکر نے نقل کیا۔ امام ابن القطان رحمہ اللہ نے لکھا: یہ روایت صحیح نہیں۔ احکام النظر: صفحہ 396)
اس کی سند میں جابر جعفی شیعی ہے جو ضعیف ہے اور دوسرے راوی عبدالرحمٰن بن سابط نے اسے مرسل روایت کیا۔ فضیلۃ الشیخ محدث دوراں علامہ ناصر الدین البانی (محمد ناصر الدین بن نوح نجاتی ابن آدم، اپنے ملک البانیہ کی نسبت سے البانی مشہور ہوئے۔ موجودہ زمانے کے بہت بڑے محدث، رجال الحدیث کے مشہور نقاد اور نمایاں عالم تھے اور اس کی تدریس و تصنیف انھوں نے بڑے صبر آزما طریقہ سے سرانجام دی۔ مالی طور پر بہت سخی اور غریبوں، مسکینوں اور طلاب علم پر خرچ کرنے والے تھے۔ 1332 ہجری میں پیدا ہوئے۔ 1420 ہجری میں وفات پائی۔ انھوں نے گراں قدر متعدد تصانیف اپنے پیچھے چھوڑی ہیں جو ان کے لیے رہتی دنیا تک صدقہ جاریہ اور آخرت کے لیے بیش بہا اجر و ثواب کا خزینہ ثابت ہوں گی۔ ان شاء اللہ۔ ان میں سے ’’سلسلہ الاحادیث الصحیحۃ‘‘ اور ’’سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ‘‘ زیادہ مشہور و متد اول ہیں۔ (محمد ناصر الدین الالبانی، محدث العصر و ناصر السنۃ لابراہیم محمد علی اور حیاۃ الالبانی و آثار و ثناء العلماء علیہ لمحمد بن ابراہیم الشیبانی۔) رحمہ اللہ نے لکھا: یہ روایت ابن سعد (محمد بن سعد بن منیع ابو عبداللہ بصری زہری علامہ، حجت اور حدیث کے مشہور ترین حافظ تھے۔ یہ واقدی کے کاتب تھے۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’الطبقات الکبری‘‘ زیادہ مشہور ہے۔ 230 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 10 صفحہ 664۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 5 صفحہ 118) نے ’’الطبقات‘‘ میں نقل کی۔ جو کہ موضوع یعنی من گھڑت اور جھوٹی روایت ہے۔
یہ روایت مرسل بھی ہے کیونکہ محمد بن عمر واقدی کذاب ہے اور ایک شیعہ نے بھی اس باطل روایت سے غیر شریفانہ استدلالات کیے ہیں اور اس کے ذریعے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر طعن و تشنیع کی ہے اور اس کی طرف جھوٹ کی نسبت کی۔
(السلسلۃ الضعیفۃ: حدیث نمبر 4965)