روافض کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تیسرا بہتان
علی محمد الصلابی’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ اور حفصہ(رضی اللہ عنہما) کو یوں بددعا دی: اے اللہ! تو ان دونوں کی سماعت ختم کر دے۔‘‘
ابان بن ابی عیاش نے سلیم بن قیس سے یہ روایت کی کہ میں نے علی علیہ السلام کو کہتے ہوئے سنا: ’’جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سینے کے ساتھ لگایا اور آپ کا سر مبارک میرے کان کے پاس تھا۔ دو عورتوں (عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما) نے گفتگو سننے کے لیے کان لگا دئیے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ تو ان دونوں کے کان بند کر دے۔‘‘
(کتاب سلیم بن قیس الہلالی: صفحہ 360)
اس روایت کا جواب یہ ہے کہ اس کی سند میں ابان بن عیاش راوی مجروح ہے۔ عمرو بن علی نے کہا: یہ متروک الحدیث ہے اور دوسرے مقام پر اس نے کہا: یحییٰ اور عبدالرحمٰن دونوں اس کی حدیث قبول نہیں کرتے تھے۔ ابو طالب احمد بن حمید نے کہا: میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا: ابان بن عیاش کی احادیث مت لکھو۔ میں نے کہا: کیا وہ بدعتی ہے؟
امام احمد رحمہ اللہ نے کہا: ’’وہ منکر الحدیث ہے۔‘‘
معاویہ بن صالح نے یحییٰ بن معین سے روایت کی کہ یہ ضعیف ہے۔ نیز اس نے کہا: ابان متروک الحدیث ہے۔
ابو حاتم رازی رحمہ اللہ نے کہا: ’’یہ متروک الحدیث ہے۔ یہ تھا تو نیک آدمی لیکن اس کا حافظہ خراب تھا۔‘‘
عبدالرحمٰن بن ابی حاتم نے کہا: ابو زرعہ رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: اس کی حدیث ترک کر دی گئی اور ہمارے سامنے اس کی حدیث نہیں پڑھی جاتی۔ ان سے پوچھا گیا، کیا یہ جان بوجھ کر جھوٹ بولتا تھا؟ ابو زرعہ نے کہا: نہیں وہ انس، شہر اور حسن سے احادیث سنتا، پھر اسے ان کے درمیان فرق معلوم نہ ہوتا۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’شعبہ رحمہ اللہ اس کے بارے میں بری رائے رکھتا تھا۔‘‘
امام نسائی رحمہ اللہ نے کہا: ’’یہ متروک الحدیث ہے۔‘‘ اور دوسرے مقام پر انھوں نے کہا: ’’یہ ثقہ نہیں ہے اور نہ اس کی حدیث لکھی جاتی ہے۔‘‘
ابو احمد بن عدی نے کہا: ’’عموماً اس کی احادیث کی کوئی متابعت نہیں کرتا اور یہ اس کے ضعف کی واضح علامت ہے۔‘‘
(تہذیب الکلمال للمزی: جلد 2 صفحہ 20)
بلکہ شیعہ بذات خود سلیم بن قیس کی کتاب کو ضعیف کہتے ہیں اور اس سے یہ کتاب جس نے روایت کی ہے وہ اسے بھی ضعیف کہتے ہیں اور وہ ابان بن عیاش ہے۔
تفریشی نے کہا: ’’یہ مشہور کتاب اس کی طرف منسوب کی جاتی ہے، حالانکہ ہمارے ائمہ کہتے تھے کہ سلیم غیر معروف ہے اور کسی روایت میں اس کا تذکرہ نہیں ملتا۔ تاہم مجھے اس کی کتاب کے علاوہ دیگر مصادر میں اس کا تذکرہ مل گیا۔ البتہ بلاشک اس کی کتاب موضوع ہے۔‘‘
(نقد الرجال للتفریشی: جلد 2 صفحہ 355)
ابن الغضائری نے کہا: ’’یہ (ابان بن عیاش) ضعیف ہے، توجہ کے قابل نہیں اور ہمارے علماء سلیم بن قیس کی طرف منسوب کتاب کو وضع کرنے کی نسبت اس (ابان بن عیاش) کی طرف کرتے ہیں۔‘‘
(رجال ابن الغضائری: جلد 1 صفحہ 36۔ لیکن کتنے ہی رافضی اور شیعہ ہیں کہ اس کتاب کو مرجع کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ اس کتاب میں اصحابِ رسول کے بارے میں بدزبانی اور فحش کلامی کی حد کر دی گئی۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیے: علامہ احسان الہٰی ظہیر رحمہ اللہ کے عربی محاضرات جو کہ انٹر نیٹ پر آسانی سے دستیاب ہیں۔