وہ الزامات جن کا تعلق اہل بیت رضی اللہ عنہم سے ہے
علی محمد الصلابیپہلا بہتان
روافض کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی وفات کے وقت اسے اس کے نانا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دفن ہونے کی اجازت نہ دی۔ کیونکہ وہ حسن کے ساتھ بغض رکھتی تھی اور تمام اہل بیت کے ساتھ عداوت بھی۔
چنانچہ کلینی نے الکافی میں اپنی سند کے ساتھ محمد بن مسلمؒ سے روایت کی ہے کہ میں نے ابوجعفر علیہ السلام کو کہتے ہوئے سنا: جب حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے حسین علیہ السلام سے کہا: اے میرے بھائی! میں تمھیں ایک وصیت کرتا ہوں تم اسے یاد کر لو۔ جب میں مر جاؤں تو تم مجھے غسل کفن دے کر تیار کرنا، پھر تم مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے جانا تاکہ ان کے ساتھ کیا ہوا میرا ایک وعدہ پورا ہو جائے۔ پھر تم مجھے میری امی رحمہ اللہ کے پاس لے جانا، پھر تم مجھے لوٹا کر ’’بقیع‘‘ میں دفن کر دینا اور تمھیں علم ہونا چاہیے کہ میرے ساتھ عائشہ وہی سلوک کرے گی جس کا لوگوں کو اس کے متعلق علم ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی دشمن ہے اور ہم اہل بیت کے ساتھ بھی اس کی کھلم کھلی عداوت ہے۔
جب حسن علیہ السلام کی روح قبض ہو گئی اور چارپائی پر ان کا جسد اطہر رکھ دیا گیا تو لوگ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقرر کردہ جنازہ گاہ کی طرف لے گئے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی نماز جنازہ پڑھایا کرتے تھے۔ وہاں جا کر حسین علیہ السلام نے اپنے بھائی کی نماز جنازہ پڑھائی، پھر ان کی چارپائی اٹھا کر مسجد نبوی میں لائی گئی۔ جب ان کی چارپائی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس رکھا گیا تو چھوٹی چھوٹی آنکھوں والا ایک شخص عائشہ کی طرف گیا اور اسے بتایا کہ لوگوں نے حسن کا جنازہ اٹھایا ہوا ہے تاکہ وہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دفن کر دیں۔ تو عائشہ یہ خبر سن کر ایک زین پہنائے خچر پر سوار ہو کر آ گئیں اور وہ پہلی مسلمان عورت ہے جو زین پر سوار ہوئی۔ اس نے کہا: تم اپنے بیٹے کو میرے گھر سے دور لے جاؤ، کیونکہ اسے میرے گھر میں نہیں دفنایا جائے گا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حجاب پھاڑ دے۔
چنانچہ حسین علیہ السلام نے اسے یوں مخاطب کیا: قدیم زمانے سے تو اور تیرا باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حجاب پھاڑ چکے ہو، تو نے اس کے گھر میں ایسے لوگوں کو دفنانے کی اجازت دے دی جس کی قربت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پسند نہیں کرتے تھے اور اے عائشہ! بے شک اللہ تعالیٰ تجھ سے اس کے بارے میں سوال کرنے والا ہے۔
یہ روایت تمام معتبر قدیم و جدید کتب شیعہ میں موجود ہے۔
(الکافی للکلینی:جلد 1 صفحہ 300، 302۔ الوافی للکاشانی: جلد 2 صفحہ 340۔ بحار الانوار للمجلسی: جلد 44 صفحہ 142، 144، جلد 17 صفحہ 31۔ شرح اصول الکافی للمازندرانی: جلد 6 صفحہ 158۔ مدینۃ المعاجز لہاشم البحرانی: جلد 3 صفحہ 340۔ الانوار البہیۃ لعباس القمی: صفحہ 92۔ جامع احادیث الشیعۃ للبروجردی: جلد 3 صفحہ 397، 398۔ مواقف الشیعۃ للمیانجی: جلد 1 صفحہ 374، 375۔ تفسیر نور الثقلین للحویزی: جلد 4 صفحہ 296۔ اعلام الوری باعلام الہدی للطبرسی: جلد 1 صفحہ 414۔ جواہر التاریخ لعلی الکورانی العاملی: جلد 3 صفحہ 238)
مذکورہ بالا روایت کتب شیعہ کی مشہور ترین اور مکمل ترین روایات میں سے ایک ہے۔ جس سے اس بہتان پر شیعہ کے نزدیک مہر تصدیق ثبت ہوتی ہے اسی وجہ سے ہم نے دیگر شیعی روایات سے اعراض کر لیا۔
اس بہتان کا جواب متعدد وجوہ سے دیا جا سکتا ہے:
الف: یہ روایت مکذوب، موضوع اور باطل ہے۔ کسی صورت میں صحیح نہیں ہو سکتی اور اس کی وضاحت کے بھی متعدد پہلو ہیں۔
اس روایت کی سب اسناد باطل و غیر ثابت ہیں۔
چونکہ شیعہ مصنفین نے بذات خود اپنی مشہور کتابوں میں اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔
الکافی للکلینی کی روایت کی شرح میں مازندرانی لکھتا ہے کہ اس کی روایت (علی بن ابراہیم نے اپنے باپ سے اس نے بکر بن صالح سے) کے متعلق کلینی اور ہمارے متعدد ائمہ نے کہا: بکر بن صالح مجہول اور ضعیف کے درمیان مشترک ہے۔ اگر وہ بکر بن صالح جعفر علیہ السلام سے روایت کرتا ہو تو مجہول ہے اور اگر وہ بکر بن صالح رازی ہے، جو کاظم علیہ السلام سے روایت کرتا ہے تو وہ ضعیف ہے۔ اگر اس روایت میں اول مذکور مراد ہو تو اس کی سند متصل ہوتی ہے اور مرسل ہونے کا بھی احتمال ہے، کیونکہ ابراہیم بن ہاشم جس سے روایت کرتا ہے اس کا باقر علیہ السلام سے بلا واسطہ روایت کرنا بہت ہی بعید ہے اور اگر اس روایت میں دوسرا مذکور بکر بن صالح رازی ہو جیسا کہ روایت سے ظاہر ہے، کیونکہ ابراہیم بن ہاشم اس سے روایت کرتا ہے تو پھر یہ سند مرسل ہے۔ یا دوسری سند کی محتاج ہے اور یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ دوسرا بکر بن صالح رازی اور پہلا بکر بن صالح ایک ہی شخص ہو۔ جیسا کہ فن رجال کے کسی ماہر نے یہ بھی کہا ہے۔ لہٰذا غور کرنا چاہیے۔
(شرح اصول الکافی: جلد 6 صفحہ 158)
ب: جب اس روایت کا مقابلہ دوسری روایات سے کیا جائے تو اس کے بودے پن کا بخوبی علم ہو جاتا ہے۔
اگرچہ وہ تمام روایات جو شیعہ اس مفہوم پر دلالت کرنے کے لیے روایت کرتے ہیں ان سب میں اختلاف شدید ہونے کے باوجود ان کے موضوع اور باطل ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ وہ صرف اہل تشیع کی ہی روایات ہیں کسی اور نے ان کی طرف دھیان نہیں دیا۔ نیز وہ نقل میں تو متعدد ہیں لیکن ان میں اختلاف اتنا زیادہ ہے جو ان کے جھوٹی اور سرے سے باطل ہونے کی چغلی کھا رہا ہے۔
(الصاعقۃ فی نسف اباطیل و افتراء ات الشیعۃ لعبد القادر محمد عطا صوفی: صفحہ 143، 144)
ج: ان روایات کے متون اور مفاہیم پر جب نقد و جرح کی جاتی ہے تو ان کا بطلان کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔
روافض کی قدیم زمانے سے یہ عادت چلی آتی ہے کہ جب وہ کوئی روایت وضع کرتے ہیں تو (کاہنوں کی طرح)اس کے ساتھ ایک آدھ لفظ سچا اور صحیح بھی لگا دیتے ہیں تاکہ سادہ لوح لوگوں کو اس پوری من گھڑت روایت کے سچ ہونے کا وہم ہو جائے اور یہ کہ جو کچھ انھوں نے وضع کیا ہے اس کے سچا ہونے کا خیال بن جائے، نیز یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ جب وہ کسی ایسے شخص کی طرف طعن و تشنیع کی نسبت کرنے لگیں جس سے وہ بغض رکھتے ہوں، تو ابتداء میں قصداً وہ ایسی روایت لاتے ہیں جس میں اس شخص کی نیکی اور صلاح کا ثبوت ہو لیکن روافض ایسی روایات میں سے بھی اس شخص کے لیے طعن و تشنیع اور سب و شتم کے دلائل نکال لیتے ہیں اور اسے برے القاب سے ملقب کر کے ہی چھوڑتے ہیں۔ لعنۃ اللّٰہ علیہم۔
یہ معمول سرکش جنات و شیاطین کا ہے جو آسمان کی خبریں چوری کرتے ہیں اور ایک خبر کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر اپنے انسانی اور شیطانی دوستوں پر القاء کر دیتے ہیں، پھر ان سے حسن ظن رکھنے والا سادہ لوح کہہ اٹھتا ہے: وہ اس ایک بات میں تو سچے ہیں۔
مثلاً سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی موت کا واقعہ اور ان کے چھوٹے بھائی حسین رضی اللہ عنہ کے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے انھیں ان کے کمرے میں دفنانے کی اجازت طلب کرنے کی روایت اہل سنت کی کتابوں میں ثابت و موجود ہے۔
(الاستیعاب فی معرفۃ اصحاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 376)
لیکن سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے لیے اپنے کمرے میں اس کے نانا صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں دفنانے کی ممانعت اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا زین رکھے ہوئے خچر پر سوار ہونے اور سب سے پہلی مسلمان عورت کا شرف اسے ملنے وغیرہ جیسے لغویات رافضیوں کی بہتان تراشی اور احادیث وضع کرنے کی عمدہ مثال ہیں، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ کوئی بھی عقل سلیم رکھنے والا شخص ایسی روایات کو دیکھ اور سن کر فوراً ایسے شر و فساد سے اللہ کی پناہ چاہے گا۔
(الصاعقۃ فی نسف اباطیل و افتراء ات الشیعۃ لعبد القادر عطا صوفی: صفحہ 141)
اس روایت کے متن پر نقد کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا جائے گا کہ اس روایت میں ایک منکر و زائد جملہ بھی ہے اور وہ ہے رافضیوں کا یہ دعویٰ کہ سب سے پہلے زین پر مسلمانوں میں سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے سواری کی اور یہ قول شیعہ و اہل سنت دونوں کا مخالف ہے۔ یہ سرے سے جھوٹا دعویٰ ہونے کے باوجود شیعہ کی اپنی کتابوں میں اس جملے پر نقد و جرح موجود ہے۔
چنانچہ ان کی روایات میں اس قسم کے جملے بھی موجود ہیں کہ سیدہ فاطمہ الزہرا اپنی رخصتی والے دن خچر پر سوار ہوئیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انھیں گدھے پر سوار کرایا اور مہاجروں اور انصار کے گھروں پر انھیں گھمایا (کشف الغمۃ للاربلی: جلد 1 صفحہ 368۔ اور رافضیوں کے دعویٰ کے مطابق جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے لیے بیعت کی گئی تو یہ اس وقت کا واقعہ ہے۔
(السقیفۃ لسلیم بن قیس: صفحہ 81۔ الاحتجاج للطبرسی: صفحہ 81، 82۔ شرح نہج البلاغۃ لابن ابی الحدید: جلد 6 صفحہ 13۔ منار الہدی لعلی البحرانی: صفحہ 200 ۔ البرہان للبحرانی: جلد 3 صفحہ 43۔ الزام الناصب للحائری: جلد 2 صفحہ 269۔ سیرۃ الائمۃ اثنا عشر لہاشم المعروف حسینی: جلد 1 صفحہ 124، 126)
لہٰذا ان تمام روایات کے بعد روافض یہ دعویٰ کیسے کرتے ہیں کہ سب سے پہلے عائشہ خچر اور زین پر سوار ہوئی۔
(الصاعقۃ فی نسف اباطیل و افتراء ات الشیعۃ لعبد القادر عطا صوفی: صفحہ 141)
2۔ بعض عقلمند اور دانشور اہل تشیع نے یہ بات تاکیداً کہی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے لیے اپنے کمرے میں اس کے نانا صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں دفنانے کی اجازت دے دی تھی اور ان کے نزدیک اس واقعہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی منقبت ظاہر ہوتی ہے۔
چنانچہ ابو الفرج اصبہانی (علی بن حسین بن محمد ابو الفرج اصبہانی: 284 ہجری میں پیدا ہوا۔ بہت بڑا ادیب اور مصنف تھا۔ ماہر انساب، قصہ گو اور شاعر تھا۔ اعلانیہ شیعہ تھا۔ مہلبی وزیر کا ہم مجلس تھا۔ اس کی مشہور تصنیفات ’’الاغانی‘‘ اور ’’جمہرۃ الانساب‘‘ ہیں۔ 358 ہجری میں وفات پائی۔ (تاریخ الاسلام للذہبی: جلد 26 صفحہ 144۔ النجوم الزاہرۃ لتغری بردی: جلد 4 صفحہ 15) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتا ہے: کہ حسن بن علی نے عائشہ کی طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں اپنے دفن ہونے کی اجازت کے لیے قاصد بھیجا۔ اس نے کہا: ہاں مجھے منظور ہے، میرے کمرہ میں صرف ایک قبر کی جگہ باقی تھی جب بنو امیہ کو اس بات کا پتا چلا تو وہ اسلحہ سے لیس ہو کر بنو ہاشم کے ساتھ لڑنے پر تیار ہو گئے اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کبھی دفن نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات جب حسن کو معلوم ہوئی تو اس نے اپنے اہل خانہ کی طرف پیغام بھیجا: جب ان کی طرف سے اس سلوک کا عندیہ دیا جا رہا ہے تو مجھے وہاں دفن ہونے کی تمنا نہیں ہے۔ لہٰذا تم مجھے میری اپنی امی جان فاطمہ( رضی اللہ عنہا ) کے پہلو میں دفن کر دینا۔ چنانچہ جب وہ فوت ہوئے تو انھیں ان کی امی جان فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔
(مقاتل الطالبیـین لابی الفرج اصبہانی: جلد 1 صفحہ 82۔)
ابو الفرج اصبہانی لکھتا ہے: ’’یحییٰ بن حسن نے کہا: میں نے علی بن طاہر بن زید کو کہتے ہوئے سنا: جب لوگوں نے حسن کو دفنانے کا ارادہ کیا تو عائشہ خچر پر سوار ہو کر آ گئی اور بنو امیہ کے مروان بن حکم اور وہاں پر موجود لوگوں کو اس بات پر برانگیختہ کیا اور وہ اپنے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ یہ کہتے ہوئے آیا کہ کبھی خچر پر اور کبھی اونٹ پر سوار ہو کر۔‘‘
(مقاتل الطالبیـین لابی الفرج اصبہانی: جلد 1 صفحہ 82)
ابن ابی الحدید اس روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے: میں کہتا ہوں: یحییٰ بن حسن کی روایت میں ایسی کوئی بات نہیں جس کی وجہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا مواخذہ کیا جائے۔ کیونکہ اس کی روایت میں یہ بات نہیں کہ جب وہ خچر پر سوار ہو کر آئیں تو لوگوں کو برانگیختہ کیا، کیونکہ شور شرابا اور احتجاج کرنے والے لوگ بنو امیہ سے تھے اور یہ احتمال بھی ہے کہ عائشہ خچر پر سوار ہو کر فتنہ ختم کرانے کے لیے آئی ہوں۔ خصوصاً جب ان سے دفنانے کی اجازت طلب کی گئی تو انھوں نے اجازت دے دی۔ جب حقیقت حال اس طرح ہے تو یہ واقعہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی منقبت کا ثبوت ہے۔
(شرح نہج البلاغۃ: جلد 16 صفحہ 51)
3۔ اگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے حضرت حسن کو دفنانے کی ممانعت ثابت بھی ہو جائے تو اسے اجازت دینے کے بعد ممانعت پر محمول کیا جائے گا۔ کیونکہ جب انھوں نے بنو امیہ کی عدم رضامندی دیکھی اور دیکھا کہ وہ بنو ہاشم کے خلاف لڑنے مرنے پر تیار ہیں تو انھوں نے فتنہ و فساد کو ختم کرنے کی نیت سے سابقہ اجازت منسوخ کر دی۔ اس ڈر سے کہ ناحق مسلمانوں کا خون بہے گا نہ کہ انھوں نے ابتدا ہی سے ممانعت کر دی تھی۔
درج بالا بحث درج ذیل روایت سے سو فیصد مطابقت رکھتی ہے۔
ہشام بن عروہ نے اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ حسن کی وفات کا وقت جب قریب آیا تو انھوں نے وصیت کی تم مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن کرنا، ہاں ! اگر تمھیں اس سے کوئی نیا فساد پھیلنے کا خوف ہو تو پھر مجھے میری امی جان کے پہلو میں دفن کرنا اور وہ فوت ہو گئے۔ جب لوگوں نے ان کی وصیت کے مطابق انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دفن کرنے کا پروگرام بنایا تو اس وقت بنو امیہ کی طرف سے مقرر کردہ مدینہ کے گورنر مروان بن حکم نے انھیں وہاں دفنانے سے انکار کر دیا اور کہا: عثمان تو بقیع سے باہر ایک باغیچے (الحش: باغ اور حش کوکب: قبرستان مدینہ (بقیع) کی سمت میں بالائی مدینہ کی ایک جگہ کا نام ہے۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث لابن الاثیر: جلد 1 صفحہ 390۔) میں دفن کیے جائیں جبکہ حسن کو یہاں دفن کیا جائے۔ تو بنو ہاشم اپنے حلیفوں اور حامیوں کے ساتھ مل کر اپنی ضد پر اڑ گئے اور بنو امیہ بھی اپنے لاؤ لشکر سمیت ان کو اپنے ارادوں سے باز رکھنے پر تل گئے۔ تب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مروان کو سمجھانے کے انداز میں کہا: اے مروان! کیا تم حسن کو اس جگہ دفنانے سے منع کرتے ہو حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں بھائیوں کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا: وہ دونوں جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔
جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہتھیاروں سے لیس مسلح جنگجو دیکھے اور ان کے درمیان فتنہ و فساد پھیلنے کا ڈر پیدا ہو گیا اور انھیں خون بہائے جانے کا منظر دکھائی دینے لگا تو کہنے لگیں: یہ گھر میرا ہے اور میں کسی کو یہاں دفنانے کی اجازت نہیں دیتی۔ چنانچہ محمد بن علی نے اپنے بھائی حسین سے کہا: بھائی جان! اگر وہ وصیت کرتے تو ہم انھیں یہیں دفناتے یا ان کو دفنانے سے پہلے ہم مر جاتے۔ لیکن انھوں نے استثنا خود ہی پیدا کر دی اور کہا اگر تمھیں فتنہ کا ڈر ہو تو مجھے میری امی جان کے پاس دفن کر دینا۔ اب جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں اس سے بڑا اور فتنہ کون سا ہو گا؟ تب حسن رضی اللہ عنہ کو جنت البقیع میں دفنایا گیا۔ سیدنا ابوہریرہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی یہی موقف ہے۔
(انساب الاشراف للبلاذری: جلد 3 صفحہ 62۔)