وہ الزامات جن کا تعلق اہل بیت رضی اللہ عنہم سے ہے - دفاعِ…

وہ الزامات جن کا تعلق اہل بیت رضی اللہ عنہم سے ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

پہلا بہتان

روافض کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی وفات کے وقت اسے اس کے نانا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دفن ہونے کی اجازت نہ دی۔ کیونکہ وہ حسن کے ساتھ بغض رکھتی تھی اور تمام اہل بیت کے ساتھ عداوت بھی۔

چنانچہ کلینی نے الکافی میں اپنی سند کے ساتھ محمد بن مسلمؒ سے روایت کی ہے کہ میں نے ابوجعفر علیہ السلام کو کہتے ہوئے سنا: جب حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے حسین علیہ السلام سے کہا: اے میرے بھائی! میں تمھیں ایک وصیت کرتا ہوں تم اسے یاد کر لو۔ جب میں مر جاؤں تو تم مجھے غسل کفن دے کر تیار کرنا، پھر تم مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے جانا تاکہ ان کے ساتھ کیا ہوا میرا ایک وعدہ پورا ہو جائے۔ پھر تم مجھے میری امی رحمہ اللہ کے پاس لے جانا، پھر تم مجھے لوٹا کر ’’بقیع‘‘ میں دفن کر دینا اور تمھیں علم ہونا چاہیے کہ میرے ساتھ عائشہ وہی سلوک کرے گی جس کا لوگوں کو اس کے متعلق علم ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی دشمن ہے اور ہم اہل بیت کے ساتھ بھی اس کی کھلم کھلی عداوت ہے۔

جب حسن علیہ السلام کی روح قبض ہو گئی اور چارپائی پر ان کا جسد اطہر رکھ دیا گیا تو لوگ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقرر کردہ جنازہ گاہ کی طرف لے گئے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی نماز جنازہ پڑھایا کرتے تھے۔ وہاں جا کر حسین علیہ السلام نے اپنے بھائی کی نماز جنازہ پڑھائی، پھر ان کی چارپائی اٹھا کر مسجد نبوی میں لائی گئی۔ جب ان کی چارپائی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس رکھا گیا تو چھوٹی چھوٹی آنکھوں والا ایک شخص عائشہ کی طرف گیا اور اسے بتایا کہ لوگوں نے حسن کا جنازہ اٹھایا ہوا ہے تاکہ وہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دفن کر دیں۔ تو عائشہ یہ خبر سن کر ایک زین پہنائے خچر پر سوار ہو کر آ گئیں اور وہ پہلی مسلمان عورت ہے جو زین پر سوار ہوئی۔ اس نے کہا: تم اپنے بیٹے کو میرے گھر سے دور لے جاؤ، کیونکہ اسے میرے گھر میں نہیں دفنایا جائے گا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حجاب پھاڑ دے۔

چنانچہ حسین علیہ السلام نے اسے یوں مخاطب کیا: قدیم زمانے سے تو اور تیرا باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حجاب پھاڑ چکے ہو، تو نے اس کے گھر میں ایسے لوگوں کو دفنانے کی اجازت دے دی جس کی قربت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پسند نہیں کرتے تھے اور اے عائشہ! بے شک اللہ تعالیٰ تجھ سے اس کے بارے میں سوال کرنے والا ہے۔

یہ روایت تمام معتبر قدیم و جدید کتب شیعہ میں موجود ہے۔

(الکافی للکلینی:جلد 1 صفحہ 300، 302۔ الوافی للکاشانی: جلد 2 صفحہ 340۔ بحار الانوار للمجلسی: جلد 44 صفحہ 142، 144، جلد 17 صفحہ 31۔ شرح اصول الکافی للمازندرانی: جلد 6 صفحہ 158۔ مدینۃ المعاجز لہاشم البحرانی: جلد 3 صفحہ 340۔ الانوار البہیۃ لعباس القمی: صفحہ 92۔ جامع احادیث الشیعۃ للبروجردی: جلد 3 صفحہ 397، 398۔ مواقف الشیعۃ للمیانجی: جلد 1 صفحہ 374، 375۔ تفسیر نور الثقلین للحویزی: جلد 4 صفحہ 296۔ اعلام الوری باعلام الہدی للطبرسی: جلد 1 صفحہ 414۔ جواہر التاریخ لعلی الکورانی العاملی: جلد 3 صفحہ 238)

مذکورہ بالا روایت کتب شیعہ کی مشہور ترین اور مکمل ترین روایات میں سے ایک ہے۔ جس سے اس بہتان پر شیعہ کے نزدیک مہر تصدیق ثبت ہوتی ہے اسی وجہ سے ہم نے دیگر شیعی روایات سے اعراض کر لیا۔

اس بہتان کا جواب متعدد وجوہ سے دیا جا سکتا ہے:

الف: یہ روایت مکذوب، موضوع اور باطل ہے۔ کسی صورت میں صحیح نہیں ہو سکتی اور اس کی وضاحت کے بھی متعدد پہلو ہیں۔

اس روایت کی سب اسناد باطل و غیر ثابت ہیں۔

چونکہ شیعہ مصنفین نے بذات خود اپنی مشہور کتابوں میں اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔

الکافی للکلینی کی روایت کی شرح میں مازندرانی لکھتا ہے کہ اس کی روایت (علی بن ابراہیم نے اپنے باپ سے اس نے بکر بن صالح سے) کے متعلق کلینی اور ہمارے متعدد ائمہ نے کہا: بکر بن صالح مجہول اور ضعیف کے درمیان مشترک ہے۔ اگر وہ بکر بن صالح جعفر علیہ السلام سے روایت کرتا ہو تو مجہول ہے اور اگر وہ بکر بن صالح رازی ہے، جو کاظم علیہ السلام سے روایت کرتا ہے تو وہ ضعیف ہے۔ اگر اس روایت میں اول مذکور مراد ہو تو اس کی سند متصل ہوتی ہے اور مرسل ہونے کا بھی احتمال ہے، کیونکہ ابراہیم بن ہاشم جس سے روایت کرتا ہے اس کا باقر علیہ السلام سے بلا واسطہ روایت کرنا بہت ہی بعید ہے اور اگر اس روایت میں دوسرا مذکور بکر بن صالح رازی ہو جیسا کہ روایت سے ظاہر ہے، کیونکہ ابراہیم بن ہاشم اس سے روایت کرتا ہے تو پھر یہ سند مرسل ہے۔ یا دوسری سند کی محتاج ہے اور یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ دوسرا بکر بن صالح رازی اور پہلا بکر بن صالح ایک ہی شخص ہو۔ جیسا کہ فن رجال کے کسی ماہر نے یہ بھی کہا ہے۔ لہٰذا غور کرنا چاہیے۔

(شرح اصول الکافی: جلد 6 صفحہ 158)

ب: جب اس روایت کا مقابلہ دوسری روایات سے کیا جائے تو اس کے بودے پن کا بخوبی علم ہو جاتا ہے۔

اگرچہ وہ تمام روایات جو شیعہ اس مفہوم پر دلالت کرنے کے لیے روایت کرتے ہیں ان سب میں اختلاف شدید ہونے کے باوجود ان کے موضوع اور باطل ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ وہ صرف اہل تشیع کی ہی روایات ہیں کسی اور نے ان کی طرف دھیان نہیں دیا۔ نیز وہ نقل میں تو متعدد ہیں لیکن ان میں اختلاف اتنا زیادہ ہے جو ان کے جھوٹی اور سرے سے باطل ہونے کی چغلی کھا رہا ہے۔

(الصاعقۃ فی نسف اباطیل و افتراء ات الشیعۃ لعبد القادر محمد عطا صوفی: صفحہ 143، 144)

ج: ان روایات کے متون اور مفاہیم پر جب نقد و جرح کی جاتی ہے تو ان کا بطلان کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔

صفحہ 1 از 3