وہ الزامات جن کا تعلق اہل بیت رضی اللہ عنہم سے ہے - دفاعِ…

وہ الزامات جن کا تعلق اہل بیت رضی اللہ عنہم سے ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

روافض کی قدیم زمانے سے یہ عادت چلی آتی ہے کہ جب وہ کوئی روایت وضع کرتے ہیں تو (کاہنوں کی طرح)اس کے ساتھ ایک آدھ لفظ سچا اور صحیح بھی لگا دیتے ہیں تاکہ سادہ لوح لوگوں کو اس پوری من گھڑت روایت کے سچ ہونے کا وہم ہو جائے اور یہ کہ جو کچھ انھوں نے وضع کیا ہے اس کے سچا ہونے کا خیال بن جائے، نیز یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ جب وہ کسی ایسے شخص کی طرف طعن و تشنیع کی نسبت کرنے لگیں جس سے وہ بغض رکھتے ہوں، تو ابتداء میں قصداً وہ ایسی روایت لاتے ہیں جس میں اس شخص کی نیکی اور صلاح کا ثبوت ہو لیکن روافض ایسی روایات میں سے بھی اس شخص کے لیے طعن و تشنیع اور سب و شتم کے دلائل نکال لیتے ہیں اور اسے برے القاب سے ملقب کر کے ہی چھوڑتے ہیں۔ لعنۃ اللّٰہ علیہم۔

یہ معمول سرکش جنات و شیاطین کا ہے جو آسمان کی خبریں چوری کرتے ہیں اور ایک خبر کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر اپنے انسانی اور شیطانی دوستوں پر القاء کر دیتے ہیں، پھر ان سے حسن ظن رکھنے والا سادہ لوح کہہ اٹھتا ہے: وہ اس ایک بات میں تو سچے ہیں۔

مثلاً سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی موت کا واقعہ اور ان کے چھوٹے بھائی حسین رضی اللہ عنہ کے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے انھیں ان کے کمرے میں دفنانے کی اجازت طلب کرنے کی روایت اہل سنت کی کتابوں میں ثابت و موجود ہے۔

(الاستیعاب فی معرفۃ اصحاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 376)

لیکن سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے لیے اپنے کمرے میں اس کے نانا صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں دفنانے کی ممانعت اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا زین رکھے ہوئے خچر پر سوار ہونے اور سب سے پہلی مسلمان عورت کا شرف اسے ملنے وغیرہ جیسے لغویات رافضیوں کی بہتان تراشی اور احادیث وضع کرنے کی عمدہ مثال ہیں، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ کوئی بھی عقل سلیم رکھنے والا شخص ایسی روایات کو دیکھ اور سن کر فوراً ایسے شر و فساد سے اللہ کی پناہ چاہے گا۔

(الصاعقۃ فی نسف اباطیل و افتراء ات الشیعۃ لعبد القادر عطا صوفی: صفحہ 141)

اس روایت کے متن پر نقد کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا جائے گا کہ اس روایت میں ایک منکر و زائد جملہ بھی ہے اور وہ ہے رافضیوں کا یہ دعویٰ کہ سب سے پہلے زین پر مسلمانوں میں سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے سواری کی اور یہ قول شیعہ و اہل سنت دونوں کا مخالف ہے۔ یہ سرے سے جھوٹا دعویٰ ہونے کے باوجود شیعہ کی اپنی کتابوں میں اس جملے پر نقد و جرح موجود ہے۔

چنانچہ ان کی روایات میں اس قسم کے جملے بھی موجود ہیں کہ سیدہ فاطمہ الزہرا اپنی رخصتی والے دن خچر پر سوار ہوئیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انھیں گدھے پر سوار کرایا اور مہاجروں اور انصار کے گھروں پر انھیں گھمایا (کشف الغمۃ للاربلی: جلد 1 صفحہ 368۔ اور رافضیوں کے دعویٰ کے مطابق جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے لیے بیعت کی گئی تو یہ اس وقت کا واقعہ ہے۔

(السقیفۃ لسلیم بن قیس: صفحہ 81۔ الاحتجاج للطبرسی: صفحہ 81، 82۔ شرح نہج البلاغۃ لابن ابی الحدید: جلد 6 صفحہ 13۔ منار الہدی لعلی البحرانی: صفحہ 200 ۔ البرہان للبحرانی: جلد 3 صفحہ 43۔ الزام الناصب للحائری: جلد 2 صفحہ 269۔ سیرۃ الائمۃ اثنا عشر لہاشم المعروف حسینی: جلد 1 صفحہ 124، 126)

لہٰذا ان تمام روایات کے بعد روافض یہ دعویٰ کیسے کرتے ہیں کہ سب سے پہلے عائشہ خچر اور زین پر سوار ہوئی۔

(الصاعقۃ فی نسف اباطیل و افتراء ات الشیعۃ لعبد القادر عطا صوفی: صفحہ 141)

2۔ بعض عقلمند اور دانشور اہل تشیع نے یہ بات تاکیداً کہی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے لیے اپنے کمرے میں اس کے نانا صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں دفنانے کی اجازت دے دی تھی اور ان کے نزدیک اس واقعہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی منقبت ظاہر ہوتی ہے۔

چنانچہ ابو الفرج اصبہانی (علی بن حسین بن محمد ابو الفرج اصبہانی: 284 ہجری میں پیدا ہوا۔ بہت بڑا ادیب اور مصنف تھا۔ ماہر انساب، قصہ گو اور شاعر تھا۔ اعلانیہ شیعہ تھا۔ مہلبی وزیر کا ہم مجلس تھا۔ اس کی مشہور تصنیفات ’’الاغانی‘‘ اور ’’جمہرۃ الانساب‘‘ ہیں۔ 358 ہجری میں وفات پائی۔ (تاریخ الاسلام للذہبی: جلد 26 صفحہ 144۔ النجوم الزاہرۃ لتغری بردی: جلد 4 صفحہ 15) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتا ہے: کہ حسن بن علی نے عائشہ کی طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں اپنے دفن ہونے کی اجازت کے لیے قاصد بھیجا۔ اس نے کہا: ہاں مجھے منظور ہے، میرے کمرہ میں صرف ایک قبر کی جگہ باقی تھی جب بنو امیہ کو اس بات کا پتا چلا تو وہ اسلحہ سے لیس ہو کر بنو ہاشم کے ساتھ لڑنے پر تیار ہو گئے اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کبھی دفن نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات جب حسن کو معلوم ہوئی تو اس نے اپنے اہل خانہ کی طرف پیغام بھیجا: جب ان کی طرف سے اس سلوک کا عندیہ دیا جا رہا ہے تو مجھے وہاں دفن ہونے کی تمنا نہیں ہے۔ لہٰذا تم مجھے میری اپنی امی جان فاطمہ( رضی اللہ عنہا ) کے پہلو میں دفن کر دینا۔ چنانچہ جب وہ فوت ہوئے تو انھیں ان کی امی جان فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔

(مقاتل الطالبیـین لابی الفرج اصبہانی: جلد 1 صفحہ 82۔)

ابو الفرج اصبہانی لکھتا ہے: ’’یحییٰ بن حسن نے کہا: میں نے علی بن طاہر بن زید کو کہتے ہوئے سنا: جب لوگوں نے حسن کو دفنانے کا ارادہ کیا تو عائشہ خچر پر سوار ہو کر آ گئی اور بنو امیہ کے مروان بن حکم اور وہاں پر موجود لوگوں کو اس بات پر برانگیختہ کیا اور وہ اپنے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ یہ کہتے ہوئے آیا کہ کبھی خچر پر اور کبھی اونٹ پر سوار ہو کر۔‘‘

(مقاتل الطالبیـین لابی الفرج اصبہانی: جلد 1 صفحہ 82)

صفحہ 2 از 3