Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دیگر من گھڑت بہتانوں کا بیان اور ان کا رد

  علی محمد الصلابی

پہلا بہتان

اہل تشیع کہتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ نے نوح اور لوط علیہما السلام کی بیویوں کی مثال عائشہ کے لیے دی ہے:

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّـلَّذِيۡنَ كَفَرُوا امۡرَاَتَ نُوۡحٍ وَّ امۡرَاَتَ لُوۡطٍ‌  ۞ (سورة التحريم آیت 10)

ترجمہ: جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے، اللہ ان کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کو مثال کے طور پر پیش کرتا ہے۔

ان روافض کے بقول اس آیت میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی تکفیر بیان کی گئی ہے۔‘‘

(الحجج الدافعات لنقص کتاب المراجعات لابی مریم محمد الاعظمی: جلد 2 صفحہ 686)

اس بہتان کا جواب:

1۔ کوئی بھی صاحب عقل یہ ماننے سے قاصر ہے کہ اللہ عزوجل نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے نوح اور لوط علیہما السلام کی بیویوں کی مثال دی ہے۔ حالانکہ یہ مثال تو کافروں کے لیے ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اپنے پاس رکھتے ہیں اور طلاق بھی نہیں دیتے بلکہ ان کی صحیح حالت واضح نہیں کرتے۔

بلکہ اکثر و بیشتر مواقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی ایسی مدح و ثنا بیان کرتے ہیں کہ ان کے جیسی مدح و ثنا کسی اور کی بیان نہیں کرتے۔ کیا یہ رائے اللہ عزوجل کے اس فرمان کے الٹ نہیں:

وَاَزۡوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمۡ‌ (سورة الأحزاب آیت 6)

ترجمہ: ’’اور ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔‘‘

اس آیت میں یہ مفہوم بھی پایا جاتا ہے کہ ان کی تشبیہ دیگر انبیاء کی بیویوں سے قائم نہیں کی جا سکتی۔ گویا وہ دیگر انبیاء کی بیویوں کی مشابہت سے بَری ہیں، کیونکہ یہ لقب خصوصی طور پر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو عطا ہوا۔

کیا یہ بات معقول ہے کہ جس اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت کے لیے قیامت تک پڑھی جانے والی آیات قرآنیہ نازل کر دیں پھر وہی اس کے لیے نوح و لوط کی بیویوں کی مثال دے؟ ان آیات میں تو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ڈرایا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں دوبارہ ایسی کوئی سازش نہ کی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنۡ تَعُوۡدُوۡا لِمِثۡلِهٖۤ اَبَدًا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ۞ (سورۃ النور آیت 17)

ترجمہ: اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ پھر کبھی ایسا نہ کرنا، اگر واقعی تم مومن ہو۔

2۔ لغوی اعتبار سے آیت کریمہ کا اطلاق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور حفصہ رضی اللہ عنہا پر نہیں ہو سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ تَحْتَ عَبْدَيْنِ﴾ (سورة التحریم آیت 10) تو کیا وہ دونوں (عائشہ و حفصہ رضی اللہ عنہما) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور شخص کے بھی ماتحت تھیں، اور وہ کون تھا؟ یا کیا وہ دونوں ایک ہی بندے کے پاس تھیں؟ پھر جو تہمت رافضی ان دونوں پر لگاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے وہ خبر اپنے نبی کو کیوں نہیں بتائی۔ یا اللہ تعالیٰ نے تو آپ کو بتا دیا لیکن آپ اس پر ’’تقیہ‘‘ کرتے ہوئے خاموش رہے اور اسے مخفی رکھا۔

(من رسالۃ ’’امنا عائشۃ ملکۃ عفاف‘‘ لشحاتہ محمد صقر۔ (غیر مطبوع)

دوسرا بہتان

اہل روافض کہتے ہیں: ’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے قرآن میں تحریف کی ہے۔‘‘

روافض کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ’’قرآن محرف ہے اور اس قول کی وجہ سے وہ اہل سنت کے نزدیک کافر ہے، کیونکہ اہل سنت کے نزدیک جو قرآن میں تحریف کا عقیدہ رکھے وہ کافر ہے۔‘‘

(اعلام الخلف بمن قال بتحریف القرآن من اعلام السلف لابی عمر صادق العلائی شیعی: صفحہ 642، 647 اور یہ مثال کتنی سچی ہے کہ محبوبہ نے اپنے محبوب پر اپنی بیماری کا الزام لگایا اور اپنے آپ کو بچا لیا اور حدیث میں ہے کہ ’’جس میں حیا نہیں تو جو چاہے تو کر لے۔‘‘ 

روافض اس دعویٰ کے ثبوت کے لیے اہل سنت و الجماعت کی کتابوں سے دلائل پیش کرتے ہیں۔ جن میں سے چند ذیل میں درج کیے جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

حَافِظُوۡا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الۡوُسۡطٰى وَقُوۡمُوۡا لِلّٰهِ قٰنِتِيۡنَ ۞ (سورۃ البقرة آیت 238)

ترجمہ: تمام نمازوں کا پورا خیال رکھو، اور (خاص طور پر) بیچ کی نماز کا اور اللہ کے سامنے باادب فرمانبردار بن کر کھڑے ہوا کرو۔

(برأۃ اہل السنۃ من تحریف الاٰیات لمحمد مال اللّٰہ، صفحہ 29 ویب سائٹس سے لی گئی۔)

’’عائشہ کے آزاد کردہ ابو یونس سے روایت ہے کہ مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں اس کے لیے مصحف (قرآن) لکھوں اور اس نے کہا: جب تم اس آیت پر پہنچو:

حَافِظُوۡا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الۡوُسۡطٰى  (سورۃ البقرة آیت 238) تو مجھے اطلاع دینا۔ جب میں اس آیت پر پہنچا تو میں نے اسے اطلاع دی۔ اس نے مجھے آیت یوں املاء کروائی: حافظوا علی الصلوات و الصلاۃ الوسطی و صلاۃ العصر و قوموا للّٰہ قانتین۔ عائشہ نے کہا:’’ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنی۔‘‘

(اس حدیث کی تخریج گزر چکی ہے)

شیعہ کہتے ہیں: ’’قرآن میں یہ دو الفاظ موجود نہیں: ’’وصلاۃ العصر

اس شبہ کا جواب:

یہ شاذ قرأت ہے اور شاذ قرأت حجت نہیں اور نہ ہی اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی خبر کہا جاتا ہے، کیونکہ اسے نقل کرنے والے نے تو قرآن سمجھ کر اسے نقل کیا لیکن قرآن تواتر اور اجماع کے بغیر ثابت نہیں ہوتا۔

(شرح صحیح مسلم للنووی: جلد 5 صفحہ 130، 131)

صحیح مسلم میں اس حدیث کے بعد آنے والی حدیث میں وضاحت ہے کہ درج بالا آیت کی تلاوت منسوخ ہے۔

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ آیت نازل ہوئی (حافظوا علی الصلوات و الصلاۃ العصر) تو ہم اسے ایسے ہی پڑھتے رہے جب تک اللہ نے چاہا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ کر دیا، تب یہ آیت نازل ہوئی:

حَافِظُوۡا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الۡوُسۡطٰى وَقُوۡمُوۡا لِلّٰهِ قٰنِتِيۡنَ ۞ (سورۃ البقرة آیت 238)

ترجمہ: تمام نمازوں کا پورا خیال رکھو، اور (خاص طور پر) بیچ کی نماز کا اور اللہ کے سامنے باادب فرمانبردار بن کر کھڑے ہوا کرو۔

تو ایک آدمی وہاں جو اپنے بھائی کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس نے کہا گویا وہ نماز عصر ہی ہے۔ براء نے کہا: میں نے تجھے آیت کے نزول اور نسخ کی کیفیت بیان کی اور حقیقت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 630)