عراقی انتخابات میں ایرانی دخل اندازی - ردِ رافضیت | دفاع…

عراقی انتخابات میں ایرانی دخل اندازی

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 2 از 3

(لواء)۔ قبضہ عراق کے بعد قبضہ والی قوتوں نے دعوت دی کہ ایک ایسی قوت تیار کی جائے جو نظام کی حفاظت کرے اس کا قائد "مہدی صبیح عزاوی" تھا اور یہ فلاح نقیب کے دور کی بات ہے اب مہدی کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اپنی مصلحت کے تحت وزارتِ داخلہ افسران میں تبدیلی کرتی رہتی ہے جیسا کہ مکاں و زماں کے مطابق فوجیوں میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ بات کو آگے چلاتے ہوئے لواء کہتا ہے: فرقہ واریت موجود نہ تھی جب صولاغ 2005۔5۔12ء میں وزیر بنا تو اس نے تبدیلیاں کی اس سے پہلے شعلان تھا کام آسانی سے ہو جاتے تھے شعلان تین ماہ تک رہا جب سے یہ صولاغ آیا ہے اس نے شعلان کے تمام تر ترجیحات کو یکسر ختم کرتے ہوئے اپنا حکم جاری کیا ہے۔ جب اس نے بہت سارے ملازمین کو معزول کر دیا، جرم انکا یہ تھا کہ یہ سنی تھے اور ایک پیسہ تک نہیں دیا ایک شور بپا ہوا کہ اس نے ظلم کیا ہے پھر ختم ہو گیا۔

نامہ نگار: احمد سلمان کون ہے؟۔

لواء: احمد سلمان کا حقیقی نام رشید ناصر الدین لاوندی ہیں یہ ایرانی نمائندوں کا بنیادی رکن ہے۔

نامہ نگار: آپ اس کا ثبوت دے سکتے ہیں؟۔

لواء: ہاں حکومتی ادارہ میں اس کا نام نہیں آتا مگر اس سے سخت ترین یہ عہدہ ہے کہ یہ جرائم کے متعلقہ معلومات فراہم کرنے والے ادارے کے وکیل کا معاون ہے اور جو اس منصب پر ہوا اس کا منصب لواء سے کم نہیں ہوتا۔ اسے عراقی شہریت 2005ء میں ملی ہے یہ ان افراد میں سے ہے جس نے "نسور" کی قید میں ملازمت کی ہے یہ بدترین قید ہے۔ اس کا تصور آتے ہی تاتاریوں اور نازیوں کے جیل خانوں کا خوف بھی بے حیثیت ہو جاتا ہے ان کے اندر قتل اور سزاؤں کا عمل سن کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، یہ پہلے بجلی کے جھٹکے دیتے ہیں برقی ڈنڈوں سے مارتے ہیں اور درے مارے جاتے ہیں اور پھر انہیں تہہ خانوں میں پھینک دیا جاتا ہے، اور جو انہیں سزا دیتے ہیں وہ اپنا حلیہ بدل لیتے ہیں پتہ نہ چلے یہ کون ہے کیونکہ ان کے جرائم قاضی اور ملزم سب کے سامنے واضح ہوتے ہیں اور آخر میں انہیں عدالت کے کٹہرے میں لا کھڑا کرتے ہیں اور سزا دلواتے ہیں "ناجم طاخی" اس کی زندہ مثال ہے اسے گرفتار کیا گیا اور ہر طرح کی اذیتوں اسے گزار کر آخر کار انہیں شہید کر دیا گیا۔

نامہ نگار: ان قید خانوں میں جو اذیت ناک سلوک ہوتا ہے عراقی وزارتِ داخلہ کو اس کا علم ہے؟۔

لواء: وزارت داخلہ کو یقیناً ان اذیت ناکیوں کا پتہ ہے وزارت کی دہلیز کے ادنیٰ ملازم سے لے کر وزیرِ داخلہ تک سب جانتے ہیں۔ کچھ ایسے ہیں نام بدل کر قتل کردیا گیا ہے۔ ناجم طاخی یہ اصل میں ناھصن مہدی ہیں۔ عادل حامد ان دونوں کو دیوانہ قرار دے کر قتل کیا ہے۔ نام نہیں بتایا یوسف ہادی کو لفرانی کے نام سے شہید کر دیا۔ علاؤہ ازیں قیدیوں کے گھر والوں کے ساتھ بہت وحشیانہ سلوک ہوتا ہے۔ موبائل پر ایک منٹ کی ملاقات سو ڈالر سے لے کر ہزار ڈالر تک ہے اس کے باوجود لوگ اپنے قیدی بیٹوں کی خیریت طلب کر کے اطمینان پکڑتے ہیں۔ ایک اور طریقہ بھی اختیار کیا جاتا ہے کہ میڈیا پر اطلاع دی جاتی ہے کہ تمہارا بیٹا اغواء ہو چکا ہے ایک بڑے گروہ نے اسے اغواء کر لیا ہے، اور وہ بڑے خطرہ میں ہے وہ ایک لاکھ ڈالر مانگتے ہیں کہ اسے رہا کر دیں گے، حالانکہ وہ وزارتِ داخلہ کے پاس ہوتا ہے انسانیت سوز سلوک ہے میرے ساتھ عمان میں ایک افسر ہے یہ بھی عراق سے بھاگ کر آنے والوں میں سے ہے۔ حکومت کے ساتھ معاہدہ کے تحت عراق میں اسلحہ پہنچاتا تھا یہ حکومت کے بنیادی رازوں سے آشنا ہے۔ ایک وزارتِ داخلہ کے مخفی رازوں کا بڑا افسر ہے۔ یہ سب بتاتے ہیں کہ اس تنظیم کو وزارت داخلہ اپنے بزدلانہ جرائم کی منصوبہ بندی کی تکمیل میں تعاون دیتی ہے، میرے پاس اس کے مضبوط ثبوت موجود ہے۔ مجھے اس کمپنی کا اس کی جگہ کا بھی پتہ ہے لیکن میں اس وقت اس پر بات نہیں کرنا چاہتا۔ 

نامہ نگار: عراق کی سرحدوں پر کیا ہو رہا ہے اور ان کی حفاظت کا کون ذمہ دار ہے؟۔

لواء: عراقی سرحد لواء احمد خفاجی کے ماتحت تھی یہ ان کا نقیب ہے ایران، عراق جنگ میں یہ عراق سے بھاگ کر ایران میں چلا گیا تھا۔ پھر یہ ان لوگوں کے ساتھ واپس لوٹا جو امریکی ٹینکوں پر واپس لوٹے یہ لواء کے رتبہ پر فائز ہو گیا۔ اس کا خاندان اب تک ایران میں رہتا ہے یہ بدر جو کہ شیعہ تنظیم ہے اسے تیل سپلائی کرنے کا کام کرتا ہے۔ اور منشیات وغیرہ بھی منتقل کرتے ہیں، یہ ان کا ذمہ دار اور نگران ہے۔ حکومت میں فساد برپا کرنا تو ان کا عام کام ہے اور وزارتِ دفاع میں سب سے زیادہ خرابیاں ہیں۔ شہری دفاع کے نام سے تقریبا (21) ہزار کے قریب افراد ہیں جو ملازم ہیں، ان کے نام بھی ہیں عہدے بھی ہیں اور ترقیاں بھی ہیں اور خصوصی عہدے ہیں، حالانکہ یہ بالکل موجود نہیں (70) ہزار جنگجو ہیں حالانکہ حقیقی تعداد (3) ہزار سے زائد نہیں، بقیہ صرف کاغذی نام ہے اور تنخواہیں جاری ہیں اور دیگر فوائد بھی اٹھا رہے ہیں بتائیں اس سے زیادہ اور فساد کیا ہوتا ہے۔

نامہ نگار: کیا عراقی وزیرِاعظم کو اس کا علم ہے؟۔

لواء: میرے پاس ثبوت موجود ہے کہ جواد رومی نے وزیرِاعظم کو خط لکھا کہ میں شیعہ تھا بعد میں سنی ہوا ہوں انہوں نے میری بیوی چھین لی ہے یہ ثبوت ہے کہ ان ظالمانہ کاروائیوں کو سب جانتے ہیں۔ 

نامہ نگار: وزارتِ داخلہ میں جو ہو رہا ہے امریکی اسے جانتے ہیں؟۔

لواء: امریکیوں کو سب علم ہے یہ رات دن کے یہاں مالک ہیں۔

نامہ نگار: اس کا ثبوت دیں۔

لواء امریکہ ساحتہ نسور جیل میں آتے ہیں قصر عدنان میں موجود لوگ قیدیوں کی چیخیں سنتے ہیں۔ یہ محل جیل کے قریب ہے ایک افسران عقوبت خانوں میں داخل ہوا اس کا نام کوف مان تھا۔ یہ چلاتے ہوئے قیدیوں کو سن رہا ہے مگر زبان تک نہیں ہلاتا اس سے ثابت ہوا کہ ان عقوبت خانوں میں سزا دینے پر بھی یہ متفق ہے۔ بغداد کے ایک موجودہ افسر نے بتایا تین ماہ سے امریکیوں کو علم ہے کہ آدھی رات کے بعد گاڑیاں نکلتی ہے اور سنیوں کو قید خانوں میں اذیت دیتے ہیں اور انہیں قتل کر کے چلے جاتے ہیں۔ ابو غریب جیل میں امریکی جو سزائیں دیتے ہیں سب کو علم ہے۔

نامہ نگار: صولاغ کا "بدر" تنظیم کے ساتھ کیا تعلق ہے؟۔

صفحہ 2 از 3