Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

آیت الرجم اور دودھ پلانے کی بابت آیت رضاع الکبیر

  علی محمد الصلابی

بقول شیعہ عائشہ کہتی ہیں: بے شک اس کے پاس ’’آیت الرجم‘‘ اور دودھ پلانے کی بابت ’’آیت رضاع الکبیر‘‘ اُتری لیکن وہ بکری کھا گئی

(الداجن: پالتو بکری مقاییس اللغۃ لابن فارس: جلد 2 صفحہ 330۔)

محمد بن اسحاق نے عبداللہ بن ابی بکر سے، اس نے عمرہ سے اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور دوسری سند کے مطابق عبدالرحمٰن بن قاسم نے اپنے باپ سے اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ بے شک آیت الرجم نازل ہوئی اور رضاعۃ الکبیر عشرا دس بار دودھ پلانے سے حرمت رضاعت ثابت ہوتی ہے۔ یہ آیات ایک صحیفہ میں میرے بستر کے پلو کے نیچے تھیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو ہم آپﷺ کی وفات کی وجہ سے مصروف تھے۔ بکری کمرے کے اندر آئی اور وہ صحیفہ کھا گئی۔

(سنن ابن ماجہ: جلد 1 صفحہ 625، حدیث نمبر: 1944۔ المسند لابی یعلیٰ الموصلی: جلد 8 صفحہ 63 حدیث نمبر: 4587، 4588 البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح ابن ماجہ میں حسن کہا۔)

1۔ یہ حدیث صحیح نہیں اور دشمنانِ دین عموماً قرآن میں شکوک و شبہات ایسی ہی روایات کے بل بوتے پر پیدا کرتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہی ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ اس کا راوی ابن اسحق (محمد بن اسحق بن یسار، ابوبکر مدنی علامہ، حافظ، قصہ گو۔ سب سے پہلے اسی نے مدینہ میں علم کی تدوین کی۔ مغازی اور سیر میں یہ امام مانا جاتا ہے اور علم کا سمندر بیکراں ہے۔ اس کی تصنیفات میں سے السیرۃ النبویۃ زیادہ مشہور ہے۔ 150 ہجری کے لگ بھگ فوت ہوا۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 7 صفحہ 33۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 5 صفحہ 28۔) صدوق ہے اور جس راوی کی یہ صفت ہو تو اس کی حدیث حسن درجہ کی ہوتی ہے۔ بشرطیکہ وہ دیگر عیوب سے محفوظ ہو۔ اسی طرح یہ راوی تدلیس کے ساتھ مشہور ہے۔ اکثر اوقات مجروح راویوں کی وجہ سے تدلیس کرتا ہے اور جس کا اپنا حال یہ ہو اس کی روایت قبول کرنے کی شرط یہ ہے کہ وہ اپنے سے اوپر والے راوی سے سماعت کی تصریح کرے اور جب وہ عن کے ساتھ روایت کرے تو اس کی روایت قبول نہیں کی جاتی۔

ابن اسحق نے یہ روایت دو اسناد کے ساتھ ذکر کی ہے اور دونوں اسناد کو ایک دوسری کے ساتھ خلط ملط کر دیا ہے اور متن دونوں کا ایک ہی ہے جس کی وجہ سے اس پر جرح کی گئی۔ بعض اوقات ایک متن اس کے پاس ایک سند کے ساتھ ہوتا ہے تو دوسری سند کو بھی اسی متن کے ساتھ ملا دیتا ہے، کیونکہ وہ اسے بطور مفہوم و معنیٰ ایک جیسا ہی سمجھتا ہے، حالانکہ وہ دونوں متن ایک جیسے نہیں ہوتے۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: ابن اسحق جب کسی حدیث کی روایت میں منفرد ہو تو کیا اس کی حدیث لے لی جائے؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ اللہ کی قسم! اس نے دیکھا ہے۔ وہ بہت سے لوگوں کو ایک حدیث سناتا ہے لیکن واضح نہیں کرتا کہ یہ کس کس کا کلام ہے۔ 

(تہذیب الکلمال للمزی: جلد 24 صفحہ 422)

گویا جب کبار محدثین جیسا کہ امام احمدؒ اور امام نسائیؒ نے نصاً بیان کر دیاکہ ابن اسحق احکام میں حجت نہیں تو پھر قرآن میں شکوک و شبہات کے لیے استعمال ہونے والی روایات میں کیسے معتبر ہو سکتا ہے۔ بہرحال کچھ علماء و فضلاء نے اس حدیث کے معانی کی وضاحت کر دی ہے۔ انھوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اسلامی قانون متعدد مراحل سے گزرا اور آپ کی وفات تک اسلامی قوانین میں (وحی کے ذریعے) ردّ و بدل ہوتا رہا اور جب آپﷺ رفیق اعلیٰ کے پاس چلے گئے تو آیات و احکام کا منسوخ ہونا ختم ہو گیا۔

2۔ اگر یہ روایت صحیح بھی ہو تب بھی اس میں کوئی ایسا ثبوت نہیں کہ جس سے یہ ثابت ہو کہ مذکورہ آیات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وضاحت کے بعد بھی پڑھی جاتی رہیں۔

علامہ سندھی رحمہ اللہ نے کہا:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ کہنا کہ قرآن کی یہ آیات میرے بستر کے نیچے لکھی ہوئی موجود تھیں جبکہ ان کی تلاوت منسوخ ہو چکی تھی۔ اس سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ مراد نہیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پڑھی جاتی تھیں۔

(حاشیۃ السندی علی سنن ابن ماجہ: جلد 1 صفحہ 599)

علامہ ابن حزم رحمہ اللہ نے لکھا:

’’ان آیات کی تلاوت منسوخ ہونا صحیح ہے اور صحیفہ میں لکھی ہوئی آیات ان کے پاس تھیں، جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اسے بکری کھا گئی۔ جبکہ اس کی کسی کو ضرورت نہ تھی اور اس کی دلیل یہ ہے، جیسا کہ ہم تحریر کر آئے ہیں کہ صحابہ کرامؓ نے قرآن یاد کر لیا تھا اور اگر وہ قرآن میں ثابت ہوتیں تو بکری کے کھانے کی وجہ سے وہ اپنے حفظ سے ان آیات کو قرآن میں لکھ دیتے۔

(المحلی لابن حزم: جلد 12 صفحہ 177)

کتب شیعہ میں بھی موجود ہے کہ آیت الرجم کی تلاوت منسوخ ہے.

( تفسیر القمی لعلی بن ابراہیم القمی: جلد 2 صفحہ 95۔ الکافی للکلینی: جلد 7 صفحہ 177۔ علل الشرائع للصدوق: جلد 2 صفحہ 540۔ من لا یحضرہ الفقیہ للصدوق: جلد 4 صفحہ 26۔ تہذیب الاحکام للطوسی: جلد 8 صفحہ 195 جلد 10 صفحہ 3۔ تفسیر الصافی للفیض الکاشانی: جلد 3 صفحہ 414۔)