Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

معاویہ (رضی اللہ عنہ) اور ان کی جماعت سُنتِ رسولﷺ کے دشمن تھے۔ (اسدالغابہ)

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

معاویہ (رضی اللہ عنہ) اور ان کی جماعت سُنتِ رسولﷺ  کے دشمن تھے۔ (اسدالغابہ)

 الجواب اہلسنّت 

1: اس پورے صفحہ میں ہرگز ایسی کوئی بات نہیں۔ نہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ یا ان کی جماعت کو اللہ کے نبیﷺ نے یا صحابہ کرام وغیره نے سنت کا دشمن کہا اور نہ ہی کسی اور نے ایسی کوئی بات کہی جو اس صفحہ میں کسی کو نظر آ سکے بلکہ جب حضرت ہاشمؓ بن عتبہ شہید ہو گئے تو حضرت واثلہ نے شعر پڑھے جس کا ترجمہ ہے اے ہاشم الخير تو جنت کی جزا دیا جائے تو نے اللہ کی راہ میں سنت کے دشمنوں سے جنگ کی ہے۔

اس پوری عبارت میں نہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام ہے اور نہ ہی طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہ کا جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے مگر شیعہ لوگوں نے اس شعر کو گھسیٹ کر ان نفوس قدسیہ پر فٹ کر ڈالا۔

2: اس شعر میں ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو سبائی ملت کے تربیت یافتہ دونوں جماعتوں میں گھس کر قوی شیرازه بکھیر رہے تھے یہ سبائی ٹولہ دونوں طرف سے تاک تاک کر اولوالعزم صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو نشانہ بنا رہا تھا ان لوگوں کو اس

اس شعر میں سُنت کا دشمن کہا گیا ہے اس بات کی شہادت یہ ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے لشکر کو کسی بھی صحابی نے تارک سنت یا دشمن سنت قرار نہیں دیا بلکہ ان کیلئے کلمات خیر ارشاد فرمائے ہیں چنانچہ خود حیدر کرار رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

 1۔ سعد بن ابراہیم کہتے ہیں کہ ایک روز حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے مقام استراحت سے باہر تشریف لائے عدیؓ بن حاتم الطائي آپ کے ساتھ تھے قبیلہ طائی کا ایک مقتول پڑا ہوا تھا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جماعت کے لوگوں نے اسے قتل کر دیا تھا تو اس کو دیکھ کر عدی کہنے لگے افسوس کل تک تو یہ مسلمان تھا اب یہ کافر ہو کر مرا پڑا ہے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مھلاً کان امس مؤمنا و هو اليوم مؤمن

کہ ٹھہرو یہ کل بھی مومن تھا اور آج کے دن بھی مومن ہے۔

(تاریخ ابن عساکر کامل جلد 1 صفحہ 330 طبع دمشق) 

 2۔ مکحول کہتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقتولوں سے متعلق حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ان کے ساتھیوں نے سوال کیا تو فرمایا. هم المؤمنین کہ وہ مؤمن ہیں۔

(منہاج السنہ لابن تیمیہ جلد 3 صفحہ المنتقی للذہبی  335 طبع مصری)

عقبہ بن علقمہ الیشکری کہتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ صفین کی جنگ میں حاضر تھا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے 15 قیدی قید کر کے لائے گئے ان میں سے جو فوت ہو گیا اس کو غسل دے کر کفن دیا گیا اور ان پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نمازِ جنازہ پڑھی۔ (تلخیص ابن عسا کر جلد 1 صفحہ 74) 

اس باہمی جنگ میں نہ تو مسلمان قیدیوں کو غلام اور عورتوں کو لونڈیاں بنایا گیا نہ ہی مسلمان قیدی عورتوں کے پردے اتارے گئے اور نہ کسی کا مال لوٹا گیا نہ مقتولوں کے سامان پر قبضہ کیا گیا یہ صورتحال اس بات کی کافی وضاحت ہے کہ دونوں طرف کے حضرات کسی کو سنت کا دشمن سمجھ کر جنگ نہ کر رہے تھے بلکہ محض مجتہدانہ اختلاف رائے تھا جس کی پاداش میں سبائیوں نے جنگ کی آگ  بھڑکا ڈالی تفصیل کیلئے ملاحظہ فرمایئے۔

(المصنف لابن ابی شیبہ جلد 4 صفحہ 1018 فتح القدیر شرح ہدایہ جلد 4 صفحہ 412، باب البغاۃ. نصب الرایہ للز یلعی جلد 3 صفحہ 463،الاخبار الطوال للد ینوری الشیعی صفحہ 151 تحت واقعہ الجمل)

اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دونوں طرف کے مقتولوں کو جنتی قرار دیا جس کی تفصیل درج ذیل کتابوں میں مرقوم ہے. 

(مصنف ابن ابی شیبہ جلد 4 صفحہ 1036 مجمع الزوائد للہیثمی جلد 9 صفحہ 357  کنز العمال، جلد 6 صفحہ 87، سیر اعلام النبلاء للذہبی جلد 3 صفحہ 95)

 ہماری ان گزارشات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک صفین میں شریک دونوں طرف کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نہ تو دشمن سنت تھے اور نہ ہی العیاذ باللہ دشمن خدا و رسولﷺ یا جہنمی بلکہ یہ سب حضرات جنتی تھے اختلاف مجتہدانہ بصیرت کا تھا۔ البتہ سبائی ٹولہ جو بیچوں بیچ دشمنی کے بیج بو رہا تھا اور اس لڑائی کی آگ بھڑکانے میں پیش پیش تھا وہ دشمن سنت تھا اور اس شعر کا مصداق بھی وہی ہوسکتا ہے۔