Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

من گھڑت بہتان کا جواب

  علی محمد الصلابی

بقول شیعہ عائشہ نے کہا: اے میرے بھانجے! لکھنے والوں نے مصحف کے لکھنے میں غلطیاں کیں:

(برأۃ اہل السنۃ من تحریف الآیات لمحمد مال اللہ: صفحہ 29۔ یہ عبارت انٹر نیٹ سے لی گئی۔)

ہشام بن عروہ نے اپنے باپ سے روایت کی کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے قرآن میں کتابت کی غلطیوں کے بارے میں پوچھا:

1۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 

 اِنۡ هٰذٰٮنِ لَسٰحِرٰنِ ۞ (سورۃ طه آیت 63)

بے شک یہ دونوں یقیناً (ہارون اور موسیٰ) جادو گر ہیں۔

2۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَالۡمُقِيۡمِيۡنَ الصَّلٰوةَ‌ وَالۡمُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ (سورۃ النساء آیت 162)

ترجمہ: وہ لوگ جو نماز قائم کرنے والے ہیں، زکوٰۃ دینے والے ہیں

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِيۡنَ هَادُوۡا وَالصَّابِئُونَ۞ (سورۃ المائدة آیت 69)

ترجمہ: بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی بنے اور صابی اور نصاریٰ۔

تو انھوں نے فرمایا: ’’اے میرے بھانجے یہ کاتبین کی غلطیاں ہیں انھوں نے کتابت غلط کی۔‘‘

(السنن لسعید بن منصور: جلد 4 صفحہ 1507۔ تفسیر طبری: جلد 9 صفحہ 395۔ فضائل القرآن للقاسم بن سلام: 287۔ صادق العلائی شیعہ نے اپنی کتاب ’’اعلام الخلف بمن قال بتحریف القرآن میں من السلف، صفحہ 643 پر طبری کی اسناد کو صحیح کہا اور یہ اس کی طرف سے تدلیس ہے

درج بالا شبہے کا ازالہ:

اس اثر کی سند میں ابن حمید راوی ہے۔ اس کا پورا نام و نسب محمد بن حمید بن حیان التمیمی، الحافظ ابو عبداللہ الرازی ہے۔ متعدد محدثین نے اسے ضعیف کہا ہے۔ بلکہ کذب بیانی کی تہمت بھی اس کے اوپر ہے۔ یعقوب بن شیبہ نے کہا: محمد بن حمید کثرت سے منکر روایات لاتا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے لکھا: اس کی حدیث میں چھان پھٹک واجب ہے۔

امام نسائی نے لکھا: یہ ثقہ نہیں۔

جوزجانی نے لکھا: یہ مذہب میں ردی اور غیر ثقہ ہے۔

فضل اللہ رازی نے کہا: میرے پاس ابن حمید کی پچاس ہزار بیان کردہ احادیث ہیں ان میں سے میں ایک حرف بھی کسی کو نہیں بتاتا۔

اسحاق بن منصور کوسج نے کہا: ہمارے لیے محمد بن حمید نے سلمہ سے لی ہوئی کتاب المغازی پڑھی تو فیصلہ ہوا کہ میں علی بن مہران کے پاس جا کر تحقیق کروں۔ چنانچہ میں نے دیکھا کہ وہ بھی سلمہ سے سنی ہوئی کتاب ’’المغازی‘‘ پڑھ رہا ہے۔ میں نے کہا: ہمیں یہ کتاب محمد بن حمید نے سلمہ کے حوالے سے سنائی تو علی بن مہران حیران ہو کر کہنے لگا: محمد بن حمید نے یہ کتاب مجھ سے سنی ہے۔

صالح بن محمد اسدی نے کہا: جو روایت بھی اسے سفیان سے پہنچی ہوتی اسے وہ مہران کی نسبت سے سناتا اور جو روایت اسے منصور سے ملتی اسے وہ عمرو بن ابی قیس کی طرف منسوب کر دیتا۔

اس نے ایک اور جگہ کہا: میں نے دو راویوں سے زیادہ جھوٹ میں ماہر شخص نہیں دیکھا۔ ایک سلیمان شاذ کونی ہے اور دوسرا محمد بن حمید ہے۔ اسے اپنی ساری احادیث یاد تھیں۔

ابو زرعہ (عبیداللہ بن عبدالکریم بن یزید ابو زرعہ رازی۔ سید الحفاظ تھا۔ 200 ہجری میں پیدا ہوا۔ دنیا میں حدیث کا امام تھا۔ اسے دین، ورع اور حصول علم پر دوام حاصل تھا اور دنیا سے بے رغبت تھا۔ اس کی مشہور تصنیف ’’اجوبۃ ابی زرعۃ الرازی علی سوالات البرذعی ہے۔ 264 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 13 صفحہ 65۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 4 صفحہ 22۔) کے بھتیجے ابو القاسم نے کہا: ’’میں نے ابوزرعہ سے محمد بن حمید کے بارے میں پوچھا تو اس نے اپنی انگلی سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا۔ چنانچہ میں نے اسے کہا: کیا وہ جھوٹ بولتا ہے؟ اس نے اپنے سر کی اشارے سے ’’ہاں‘‘ کہا۔ میں نے اس سے کہا: وہ بوڑھا ہو گیا تھا، شاید اس پر بہتان لگایا جاتا ہو گا۔ شاید اس کے نام کے ساتھ تدلیس کی جاتی ہو گی تو ابو زرعہ نے کہا: اے میرے بیٹے ایسا کچھ نہیں وہ عمداً ایسا کرتا تھا۔

(تہذیب التہذیب لابن حج: جلد 9 صفحہ 127۔ پر اس کا تعارف دیکھیں۔)

اسی طرح اس کی سند میں ابو معاویہ الضریر بھی ہے، اعمش کے علاوہ جب وہ کسی سے حدیث بیان کرتا ہے تو اس کی حدیث مضطرب ہوتی ہے اور یہ حدیث اعمش سے اس نے روایت نہیں کی نیز وہ تدلیس بھی کرتا تھا اور یہ روایت مُعَنْعَنْ بھی ہے۔ ایوب بن اسحق بن سافری نے کہا: میں نے امام احمد اور یحییٰ بن معین سے ابو معاویہ اور جریر کے متعلق پوچھا تو ان دونوں نے کہا: اعمش سے روایت کرنے والوں میں سے ابو معاویہ ہمیں محبوب ترین ہے۔

عبداللہ بن احمد نے کہا: میں نے اپنے باپ کو کہتے ہوئے سنا: اعمش کے علاوہ کسی اور شیخ سے جب ابو معاویہ الضریر حدیث بیان کرے گا تو اس میں اضطراب ضرور ہو گا۔ وہ احادیث کو اچھی طرح حفظ نہیں کرتا تھا۔

دوری نے ابن معین کے حوالے سے کہا: اعمش سے روایت کرنے میں ابو معاویہ جریر کی نسبت اثبت ہے اور ابو معاویہ نے عبیداللہ بن عمر کی طرف سے بکثرت منکر روایات سنائیں۔

عجلی نے کہا: ابو معاویہ کوفی ہے اور ثقہ ہے۔ عقیدہ ارجاء رکھتا تھا یعنی مرجئی تھا اور اس کی روایت کمزور ہوتی ہے۔

یعقوب بن شیبہ نے کہا: وہ ثقہ تھا لیکن کبھی کبھی تدلیس کر لیتا تھا اور مرجئی تھا۔

امام نسائی رحمہ اللہ نے کہا: یہ ثقہ ہے۔

ابن خراش نے کہا: صدوق ہے اور اعمش سے روایت کرنے میں ثقہ ہے۔ اعمش کے علاوہ کسی سے جب کوئی حدیث کہتا ہے تو اس میں اضطراب پیدا ہو جاتا ہے۔

امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے ثقات میں شمار کیا ہے اور اس نے کہا: وہ حافظ اور متقن تھا، لیکن عقیدۃً مرجئی خبیث تھا۔

(تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 9 صفحہ 137)

ابو حیان اندلسی مفسر نے کہا: ’’یہ روایت عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحیح نہیں۔‘‘

(البحر المحیط: جلد 3 صفحہ 395، 396۔ رسالۃ ’’امنا عائشۃ ملکۃ عفاف لشحاتہ محمد صقر‘‘ غیر مطبوع مقالہ ہے۔)