من گھڑت بہتان کا رد - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

من گھڑت بہتان کا رد

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

شیعہ کہتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کی کہ عمر کی وفات سے پہلے جنات نے ان پر نوحہ کیا۔

’’احادیث ام المؤمنین عائشۃ‘‘ نامی کتاب کے مصنف نے تحریر کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بے شک جنات نے عمر کی وفات سے تین دن قبل عمر رضی اللہ عنہ کا نوحہ پڑھا اور جنات نے کہا:

أَبْعَدَ قَتِیْلُ فِی الْمَدِیْنَۃِ أَظْلَمَتْ

لَہُ الْاَرْضُ تَہْتَزُّ الْعَضَاہُ بِأَسْوَقِ

’’کیا مدینہ کے مقتول کے بعد اس کے لیے زمین پر اندھیرا چھا گیا پنڈلیوں (اسوق: اس کا واحد ساق ہے۔ پنڈلی کو کہتے ہیں۔ (تاج العروس للزبیدی: جلد 25 صفحہ 482۔) تک کانٹے بکھرے (العضاۃ: ہر وہ بڑا درخت جس کے اوپر کانٹے ہوں۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 3 صفحہ 255۔ ہوئے تھے۔‘‘

پھر صاحب کتاب عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایسی روایت مروی ہونے کی وجہ سے شکوک و شبہات ابھارنے میں لگ گیا جس کا مقصد جنات کو عالم الغیب بتلانا مقصود ہو بھلا وہ کیسے روایت کر سکتی ہیں۔ تعجب تو اس بات پر ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جنات کیسے دیکھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر ازواج مطہرات کے بجائے صرف عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ حدیث کیوں روایت کی؟ حالانکہ تمام بیویاں اور ہزاروں لوگ حج میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے؟‘‘

(احادیث ام المؤمنین لمرتضی عسکری: جلد 1 صفحہ 95، 98)

درج بالا شبہ کا ازالہ 

اس رافضی کی کوشش ہے کہ وہ کسی طرح عائشہ رضی اللہ عنہا کا جھوٹ ثابت کرے تاکہ ان کی روایات ساقط ہو جائیں اور ان کی ثقاہت مشکوک ہو جائے۔ اس کے پیچھے یہی مقصد ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی چاہت سے اپنے موافق احادیث گھڑ لیتی تھیں۔ تاہم اس کلام کا پانچ مختلف وجوہ سے مختصر طور پر ردّ کیا جاتا ہے:

1۔ نقاد نے شعروں کی نسبت میں اختلاف کیا ہے کہ یہ کس کے ہیں؟ کچھ نے کہا: یہ شماخ نامی شاعر کے ہیں، ان کے ذریعے وہ عمر کا مرثیہ کہہ رہا ہے اور یہ بھی کہا گیا کہ یہ مزرد (مزرد بن ضرار بن حرملہ غطفانی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا نام یزید تھا، لیکن اس کا لقب اس کے نام پر غالب آ گیا۔ جاہلی شاعر اور مشہور شہسوار تھا۔ بڑھاپے میں اسلام پایا تو اسلام قبول کر لیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں اشعار کہے۔ 10 ہجری میں وفات پائی۔ (الاصابۃ لابن حجر: جلد 6 صفحہ 85۔ الاعلام للزرکلی: جلد 7 صفحہ 211۔) کے ہیں۔ نیز ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ اشعار شماخ (شماخ بن ضرار بن حرملہ ابو سعید مازنی، ذبیانی، غطفانی۔ مشہور شاعر تھا۔ جاہلیت اور اسلام کے زمانے پائے۔ اسلام قبول کیا اور اپنے اسلام کو احسن طریقہ کے ساتھ نبھایا۔ جنگ قادسیہ میں شامل ہوا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں تقریباً 22 ہجری میں غزوہ موقان میں وفات پائی۔ (الاصابۃ لابن حجر: جلد 3 صفحہ 353۔ الاعلام للزرکلی: جلد 3 صفحہ 175۔) کے بھائی جزء بن ضرار (جزء بن ضرار بن حرملہ غطفانی۔ مشہور شاعر ہے۔ جاہلیت اور اسلام دونوں زمانے دیکھنے کی وجہ سے مخضرم کہلاتا ہے۔ ان اشعار کے ذریعے اس نے عمر کا مرثیہ کہا۔ (الوافی بالوفیات للصفدی: جلد 4 صفحہ 12۔ طبقات فحول الشعراء للجمحی: جلد 1 صفحہ 133۔) کے ہیں ۔ 

(تلقیح فہوم اصل الاثر لابن الجوزی: صفحہ 77)

ابیات کی نسبت میں کتب ادب و تاریخ میں اختلاف مشہور ہے، حتیٰ کہ کوئی بھی یہ تعین نہیں کر سکتا کہ ان ابیات میں کسے مخاطب کیا گیا ہے؟ کیونکہ شعر کہنے والے کے بارے میں اختلاف ہے۔ ( اشعار کی نسبت معلوم کرنے کے لیے دیکھیں: ’’لجام الاقلام‘‘ لابی تراب ظاہری: صفحہ 239۔) عمر کے مرثیے میں ان کی شہادت کے بعد یہ اشعار کہے جانے کی دلیل یہ ہے کہ شاعر نے اپنے اشعار کے دوران کہا: 

عَلَیْکَ سَلَامٌ مِنْ اَمِیْر وَ بَارَکْتَ

یَدُ اللّٰہِ فِی ذَاکَ الْاَدِیْم الْمُمَزَّقِ

’’تجھ پر امیر کا سلام و برکتیں ہوں، اس کٹے پھٹے آسمان کے نیچے جس پر اللہ کا ہاتھ ہو۔‘‘

چنانچہ عربوں کی عادت ہے کہ ’’وہ مرثیہ میں میت کی ضمیر کو پہلے لاتے ہیں اور زندہ کے نام کی تصریح دعا وغیرہ میں پہلے کرتے ہیں۔‘‘

(اتحاف الزائر و اطراف المقیم للسائر لابی الیمن بن عساکر: صفحہ 86)

اگر کہا جائے کہ ’’یہ اشعار شماخ کے ہیں اور وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مرثیہ پڑھ رہا ہے جیسا کہ متعدد نقاد نے کہا تو اشکال سرے سے ختم ہو جائے گا۔

2۔ اس حدیث کی سند کہ ’’جنات نے نوحہ کیا‘‘ کے اثبات کا دار و مدار عبدالملک بن عمیر بواسطہ عروہ، بواسطہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی سند پر مبنی ہے۔

جبکہ اسے ابن شبہ نے تاریخ مدینہ میں (تاریخ المدینۃ لابن شبۃ: جلد 3 صفحہ 874 اور ابن الاثیر نے اسد الغابہ میں روایت کیا۔)

(اسد الغابۃ لابن الاثیر: جلد 4 صفحہ 156)

عبدالملک بن عمیر مشہور مدلس ہے۔ امام دارقطنی اور ابن حبان نے اس کا یہی عیب بیان کیا۔ اس نے یہاں حدیث سننے کی صراحت نہیں کی۔

(تعریف اہل تقدیس لابن حجر: صفحہ 41)

پھر یہ بات بھی ہے کہ اس کی روایت میں اضطراب ہے۔ کبھی تو بواسطہ عروہ، عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی اور کبھی صقر بن عبداللہ سے اس نے عروہ سے اور اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔

(الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب لابن عبدالبر: جلد 3 صفحہ 1158)

امام احمد رحمہ اللہ نے کہا: اس کی حدیث میں بہت زیادہ اضطراب ہوتا ہے اور اس کی روایات بھی کم ہوتی ہیں۔

(تہذیب الکلمال للمزی: جلد 18 صفحہ 373)

چنانچہ ان الفاظ کے ساتھ روایت ثابت نہیں ہوتی۔ ہاں فاکہی (محمد بن اسحق ابو عبداللہ مکی فاکہی۔ اہل مکہ کا مورخ تھا اور ازرقی کا ہم عصر تھا۔ اس کے بعد فوت ہوا اس کی تصانیف میں سے ’’تاریخ مکہ‘‘ زیادہ مشہور ہے۔ 272 ہجری میں وفات پائی۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 6 صفحہ 28۔ ہدیۃ العارفین لاسماعیل باشا: جلد 6 صفحہ 60) وغیرہ نے لکھا ہے۔ (اخبار مکہ: جلد 4 صفحہ 76۔ سے کوئی غالب آنے والا نہیں اور یقیناً میں تمہارا حمایتی ہوں۔)

‘‘اس روایت کو حافظ وغیرہ نے ’’الاصابۃ‘‘ میں صحیح کہا۔ اس کی یہ بات بالکل صحیح ہے۔ لیکن وہاں ان الفاظ کے ساتھ نہیں۔

صفحہ 1 از 2