من گھڑت بہتان کا رد - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

من گھڑت بہتان کا رد

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

3۔ یہ کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ نہیں بتایا کہ اس نے حقیقت میں جنات کو دیکھا ہے۔ تاہم جنات کا انسانی صورت میں تبدیل ہو جانا قرآن سے ثابت ہے اور حدیث میں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَاِذۡ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَـكُمُ الۡيَوۡمَ مِنَ النَّاسِ وَاِنِّىۡ جَارٌ لَّـكُمۡ‌ ۞ (سورۃ الأنفال آیت 48)

ترجمہ: اور وہ وقت (بھی قابل ذکر ہے) جب شیطان نے ان (کافروں) کو یہ سمجھایا تھا کہ ان کے اعمال بڑے خوشنما ہیں اور یہ کہا تھا کہ : آج انسانوں میں کوئی نہیں ہے جو تم پر غالب آسکے، 

صحیح بخاری وغیرہ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مشہور حدیث موجود ہے جس میں وضاحت ہے کہ شیطان ایک فقیر کے روپ میں آیا اور اسے آیت الکرسی سکھائی۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر 5010)

اس حدیث میں یہ وضاحت ہے کہ جنات انسانی شکل میں آ سکتے ہیں اور ان کی باتیں سنی جا سکتی ہیں۔ ان ہی دو باتوں سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کو جھٹلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم ان دونوں روایتوں میں جو حق ہے اسے واضح کر دیا گیا۔ و الحمد للّٰہ۔

4۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر بیویوں کو وہ دکھائی نہ دیا جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انھیں دیکھ لیا۔ لیکن یہ کوئی اشکال نہیں ۔ کیونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے پختہ حافظے کی وجہ سے دیگر عورتوں کی نسبت زیادہ علوم نافعہ بلا استثناء روایت کیے اور اس روایت کے بعض الفاظ میں اس قدر وضاحت ہے کہ اشکال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہم باہمی گفتگو میں کہتے تھے کہ یہ جنات میں سے ہے۔

(الاحاد و المثانی لابن ابی عاصم: جلد 1 صفحہ 104)

اس کے الفاظ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کی مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر ازواج اور وہ لوگ ہیں جو ان کے ساتھ تھے۔ کیونکہ سیاق حدیث میں لوگوں کا تذکرہ ہے۔

5۔ حدیث میں علم غیب کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔ کیونکہ اس واقعہ کا کوئی مقررہ وقت بیان نہیں کیا گیا۔ لیکن اتفاقاً اس میں کچھ اشارے ہیں جو مستقبل قریب میں یہ واقعہ پیش آنے پر دلالت کرتے ہیں۔ کیونکہ اس موسم حج میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بعض اہم امور سرانجام دیے۔ ہم طوالت کے خوف سے ان کا تذکرہ نہیں کرتے اور خود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ انھوں نے مکہ سے واپسی کے دوران وادیٔ ابطح میں پڑاؤ کیا۔ پھر وادی میں کنکریوں کا ڈھیر لگایا، پھر اس پر اپنی چادر ڈالی اور پشت کے بل اس پر سو گئے۔ پھر اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلائے اور یہ دعا کی: ’’اے اللہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں اور میری قوت کمزور ہو گئی ہے اور میری رعایا بہت پھیل چکی ہے۔ پس تو مجھے اپنے پاس بلا لے۔ اس حال میں کہ نہ تو تو نے مجھے ضائع کیا اور نہ ہی کوئی نقص دیا۔‘‘

(المؤطا للامام مالک: جلد 5 صفحہ 1203۔ اسے ’’التمھید: جلد 23 صفحہ 92‘‘ میں ابن عبدالبر نے صحیح کہا۔ اور ’’اتحاف الخیرۃ المہرۃ‘‘ جلد 4 صفحہ 250 میں بوصیری نے لکھا کہ اس کی سند میں راوی صحیح کے راوی ہیں۔

اس حدیث سے کچھ فوائد حاصل ہوتے ہیں:

1۔ انسان کو اپنی موت قریب ہونے کا احساس ہو جاتا ہے لیکن یہ کہانت کے بل بوتے پر نہیں ہوتا۔ صحیح بخاری و مسلم میں حدیث مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جبریل ہر سال مجھے قرآن سناتا تھا اور اس سال اس نے مجھے دو بار قرآن سنایا اور میں اس سے یہ سمجھا ہوں کہ میری موت کا وقت آ چکا ہے۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر 3624۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر 2450۔) و اللہ اعلم

اور یہ توجیہ اللہ بہتر جانتا ہے دیگر توجیہات سے زیادہ بہتر ہے۔

(الانوار الکاشفۃ لمافی کتاب اضواء علی السنۃ من الزلل و التضلیل و المجازفۃ للمعلمی: صفحہ 113۔) اس مسئلے میں اس کتاب کا مطالعہ مفید رہے گا۔ 

حافظ یوسف بن عبدالہادی (یوسف بن حسن بن احمد صالحی جو ابن المبرد کی کنیت سے زیادہ شہرت رکھتا ہے۔ حنبلی فقہ کا پیروکار، علامہ اور متقن تھا۔ 840 ہجری میں پیدا ہوا۔ علم حدیث و فقہ اس پر غالب تھا۔ متعدد تصنیفات اپنے پیچھے چھوڑیں۔ جیسے ’’النہایۃ فی اتصال الروایۃ‘‘ اور ’’الجواہر المنضد‘‘۔ 909 ہجری میں وفات پائی۔ (شذرات الذہب لابن العماد: جلد 8 صفحہ 42۔ الاعلام للزرکلی: جلد 8 صفحہ 255۔) نے اس شبہ کو ایک اور طریقہ سے ردّ کیا ہے۔ اس نے کہا: اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے جنات کے بارے میں کہا کہ وہ علم غیب نہیں جانتے تو انھیں عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کا علم کیسے ہو گیا؟ تو کہا جائے گا: آسمان کی خبریں چوری کر کے انھیں یہ بات معلوم ہوئی کیونکہ وہ آسمان سے خبریں چراتے ہیں اور جو باتیں فرشتے کرتے ہیں وہ کانا پھوسی کے ذریعے سے ان کی سن گن لے لیتے ہیں تو ممکن ہے انھیں اس طریقے سے پتا چل گیا ہو۔

(محض الصواب فی فضائل امیر المومنین عمر بن خطاب لابن المبرد الحنبلی: جلد 3 صفحہ 80)

رافضی اس شبہ کے ذریعے سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی تکذیب کرنا چاہتے ہیں اور اس کی روایات کو مشکوک بنانا چاہتے ہیں۔



صفحہ 2 از 2