چوتھا بہتان - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

چوتھا بہتان

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

شیعہ کہتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا عثمان رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتی تھیں اور وہ کہتی تھیں تم اس لمبی داڑھی والے بوڑھے احمق (نعثل: ایک لمبی داڑھی والے مصری کا نام تھا۔ لغوی طور پر بوڑھے احمق اور نر بجو کو کہتے ہیں۔ (غریب الحدیث لابی عبید: جلد 3 صفحہ 426۔ الفائق فی غریب الحدیث للزمخشری: جلد 4 صفحہ 52۔ النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 5 صفحہ 79) کو مار ڈالو

شیعہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے کینے کے لیے سیف بن عمر (سیف بن عمر الضبی سیرت نگار اور مورخ کے طور پر مشہور ہوا۔ تاہم اس کی اکثر روایات منکر ہیں اور زندیقیت کی تہمت بھی اس پر ہے۔ اس کی تصنیفات میں سے الفتنۃ و وقعۃ الجمل اور الردۃ و الفتوح ہیں۔ 200 ہجری میں فوت ہوا۔ (میزان الاعتدال للذہبی: جلد 2 صفحہ 255۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 2 صفحہ 470۔) کی اس روایت سے استدلال کیا ہے جو اس نے اپنی کتاب الفتنۃ و وقعۃ الجمل میں روایت کی ہے۔ وہ لکھتا ہے: ’’عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ’’جب وہ مکہ کی طرف لوٹتے ہوئے سرف کے مقام پر پہنچیں تو عبد بن ام کلاب نے اس سے ملاقات کی جو عبد بن ابی سلمہ ہے اور اپنی ماں کی طرف منسوب ہے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عبد سے کہا: تم کس حال میں ہو؟ (مہیمم: یعنی تم کس حال میں ہو۔ (مشارق الانوار للقاضی عیاض: جلد 1 صفحہ 390۔ النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 4 صفحہ 378) اس نے کہا: انھوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ پھر وہ آٹھ دن تک وہاں رہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: پھر انھوں نے کیا کیا؟ اس نے بتایا کہ اہل مدینہ جمع ہوئے تو انھوں نے نہایت خوش اسلوبی سے معاملات حل کر لیے۔ انھوں نے سیدنا علی بن ابی طالبؓ پر اتفاق کر لیا۔ یہ سن کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم! کاش آسمان زمین پر گر جاتا۔ اگر تیرے ساتھی کے سپرد معاملہ ہو گیا ہے، تو تم مجھے واپس لے جاؤ۔ عائشہ فوراً مکہ واپس آ گئیں اور وہ کہہ رہی تھیں: اللہ کی قسم! عثمان کی شہادت مظلومانہ ہے۔ اللہ کی قسم! میں اس کا قصاص لوں گی۔ یہ سن کر ابن ام کلاب نے ان سے کہا: وہ کیوں؟ اللہ کی قسم! سب سے پہلے تم ہی نے عثمان کے عیوب نکالے، تم یہ بھی کہتی تھی کہ تم لمبی داڑھی والے بوڑھے بے وقوف کو قتل کر دو، کیونکہ وہ کافر ہو چکا ہے۔

عائشہ نے جواب دیا: ’’فتنہ پروروں نے اسے توبہ کروائی، پھر اسے قتل کر دیا۔ یقیناً میں نے ایک بات کی اور وہ بھی باتیں کرتے ہیں اور میرا آخری قول میرے پہلے قول سے بہتر ہے۔ وہ مکہ چلی گئیں اور مسجد حرام کے دروازے پر اتریں اور حجر اسود کی طرف جانے لگیں تو انھیں پردہ کرایا گیا اور لوگ ان کے پاس جمع ہو گئے۔ انھوں نے کہا: اے لوگو! بے شک عثمان مظلومانہ طور پر شہید کر دئیے گئے ہیں اور اللہ کی قسم! میں ضرور اس کے خون بہا کا مطالبہ کروں گی۔‘‘

(الفتنۃ و وقعۃ الجمل لسیف ابن عمر)

اس بہتان کا جواب کئی طریقوں سے دیا جائے گا:

پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ روایت موضوع و مکذوب ہے۔ صحیح نہیں ہے۔ جس کی متعدد دلیلیں ہیں:

1۔ اس روایت کا راوی سیف بن عمر اسدی تمیمی ہے۔ اس کے بارے میں یحییٰ بن معین نے کہا: ’’ضعیف ہے۔‘‘

(تاریخ ابن معین بروایۃ الدوری: جلد 3 صفحہ 459)

دوسری بار کہا: ’’ایک ٹکا (یعنی سب سے کم قیمت سکّہ) اس سے بہتر ہے۔‘‘

(الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی: جلد 4 صفحہ 507)

امام ابو حاتم نے کہا: ’’اس کی حدیث متروک ہے۔‘‘

(الجرح و التعدیل لابن ابی حاتم: جلد 4 صفحہ 278) 

امام ابو داؤد رحمہ اللہ نے کہا: ’’یہ کچھ بھی نہیں۔‘‘

(سوالات الآجری لابی داؤد: جلد 1 صفحہ 214)

امام نسائی (الضعفاء و المتروکون: صفحہ 50)رحمہ اللہ نے کہا: ’’ضعیف ہے۔‘‘

(احمد بن شعیب بن علی ابو عبدالرحمن نسائی۔ امام، حافظ، مشہور نقاد حدیث ہے اور علوم حدیث میں عبور تام حاصل کیا۔ 215 ہجری میں پیدا ہوئے۔ علو اسناد ان کا امتیاز ہے۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’السنن‘‘ اور ’’الخصائص‘‘ مشہور و متداول ہیں ۔ 303 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 14 صفحہ 125۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 1 صفحہ 27)

امام ابن حبان (محمد بن حبان بن احمد ابو حاتم البُستی، حافظ، مجود، خراسان کے عالم، فقیہ دین، حافظ آثار، صاحب التصانیف ہیں، سمرقند وغیرہ کے قاضی رہے۔ طب، علم نجوم اور فنون علم پر عبور حاصل تھا۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’صحیح ابن حبان‘‘ اور ’’کتاب الثقات‘‘ مشہور ہیں۔ 354 ہجری میں فوت ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 16  صفحہ 94۔ شذرات الذہب لابن العماد القیروانی: جلد 3 صفحہ 16)  نے کہا: ’’سیف ثقہ مشائخ کی طرف نسبت کر کے موضوع روایات لاتا ہے اور سیف احادیث وضع کرتا تھا۔ نیز اس پر زندیق ہونے کی تہمت بھی ہے۔‘‘

(المجروحین لابن حبان: جلد 1 صفحہ 346)

دار قطنی نے کہا: ’’یہ متروک ہے۔‘‘

(سوالات البرقانی: صفحہ 34)

2۔ اس حدیث کا ایک راوی نصر بن مزاحم العطار ہے جس کی کنیت ابوالفضل المنقری الکوفی ہے۔ بغداد میں رہا۔

امام دارقطنی نے اسے ’’ضعفاء و متروکین‘‘ میں شمار کیا۔

(الضعفاء و المتروکون: جلد 3 صفحہ 134)

ابو الفتح محمد بن حسین الحافظ نے کہا: نصر بن مزاحم اپنے (شیعہ) مذہب میں غالی ہے۔ اپنی حدیث میں قابل تعریف نہیں۔

(تاریخ بغداد للخطیب بغدادی: جلد 13 صفحہ 284)

ابراہیم بن یعقوب جوزجانی نے کہا: ’’ نصر بن مزاحم العطار حق سے پھر جانے والا متعصب شخص تھا۔‘‘

(احوال الرجال؛ صفحہ 132)

خطیب بغدادی نے درج بالا عبارت کی شرح میں لکھا: ’’میں کہتا ہوں: اس کی مراد شیعیت میں غلو ہے۔‘‘

(تاریخ بغداد للخطیب بغدادی: جلد 13 صفحہ 284)

صالح بن محمد نے کہا: ’’نصر بن مزاحم ضعفاء سے منکر احادیث روایت کرتا ہے۔‘‘

(ایضاً)

عقیلی نے کہا: ’’یہ شیعہ تھا اس کی روایات میں اضطراب اور بے شمار غلطیاں ہوتی ہیں۔‘‘

(الضعفاء: جلد 4 صفحہ 300)

ابو خیثمہ نے کہا: ’’یہ کذاب تھا۔‘‘

(الضعفاء و المتروکون لابن الجوزی: جلد 3 صفحہ 160)

ابو حاتم نے کہا: ’’اس کی روایات کمزور ہوتی ہیں، وہ متروک ہے۔‘‘

صفحہ 1 از 4