چوتھا بہتان
علی محمد الصلابیشیعہ کہتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا عثمان رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتی تھیں اور وہ کہتی تھیں تم اس لمبی داڑھی والے بوڑھے احمق (نعثل: ایک لمبی داڑھی والے مصری کا نام تھا۔ لغوی طور پر بوڑھے احمق اور نر بجو کو کہتے ہیں۔ (غریب الحدیث لابی عبید: جلد 3 صفحہ 426۔ الفائق فی غریب الحدیث للزمخشری: جلد 4 صفحہ 52۔ النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 5 صفحہ 79) کو مار ڈالو
شیعہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے کینے کے لیے سیف بن عمر (سیف بن عمر الضبی سیرت نگار اور مورخ کے طور پر مشہور ہوا۔ تاہم اس کی اکثر روایات منکر ہیں اور زندیقیت کی تہمت بھی اس پر ہے۔ اس کی تصنیفات میں سے الفتنۃ و وقعۃ الجمل اور الردۃ و الفتوح ہیں۔ 200 ہجری میں فوت ہوا۔ (میزان الاعتدال للذہبی: جلد 2 صفحہ 255۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 2 صفحہ 470۔) کی اس روایت سے استدلال کیا ہے جو اس نے اپنی کتاب الفتنۃ و وقعۃ الجمل میں روایت کی ہے۔ وہ لکھتا ہے: ’’عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ’’جب وہ مکہ کی طرف لوٹتے ہوئے سرف کے مقام پر پہنچیں تو عبد بن ام کلاب نے اس سے ملاقات کی جو عبد بن ابی سلمہ ہے اور اپنی ماں کی طرف منسوب ہے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عبد سے کہا: تم کس حال میں ہو؟ (مہیمم: یعنی تم کس حال میں ہو۔ (مشارق الانوار للقاضی عیاض: جلد 1 صفحہ 390۔ النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 4 صفحہ 378) اس نے کہا: انھوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ پھر وہ آٹھ دن تک وہاں رہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: پھر انھوں نے کیا کیا؟ اس نے بتایا کہ اہل مدینہ جمع ہوئے تو انھوں نے نہایت خوش اسلوبی سے معاملات حل کر لیے۔ انھوں نے سیدنا علی بن ابی طالبؓ پر اتفاق کر لیا۔ یہ سن کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم! کاش آسمان زمین پر گر جاتا۔ اگر تیرے ساتھی کے سپرد معاملہ ہو گیا ہے، تو تم مجھے واپس لے جاؤ۔ عائشہ فوراً مکہ واپس آ گئیں اور وہ کہہ رہی تھیں: اللہ کی قسم! عثمان کی شہادت مظلومانہ ہے۔ اللہ کی قسم! میں اس کا قصاص لوں گی۔ یہ سن کر ابن ام کلاب نے ان سے کہا: وہ کیوں؟ اللہ کی قسم! سب سے پہلے تم ہی نے عثمان کے عیوب نکالے، تم یہ بھی کہتی تھی کہ تم لمبی داڑھی والے بوڑھے بے وقوف کو قتل کر دو، کیونکہ وہ کافر ہو چکا ہے۔
عائشہ نے جواب دیا: ’’فتنہ پروروں نے اسے توبہ کروائی، پھر اسے قتل کر دیا۔ یقیناً میں نے ایک بات کی اور وہ بھی باتیں کرتے ہیں اور میرا آخری قول میرے پہلے قول سے بہتر ہے۔ وہ مکہ چلی گئیں اور مسجد حرام کے دروازے پر اتریں اور حجر اسود کی طرف جانے لگیں تو انھیں پردہ کرایا گیا اور لوگ ان کے پاس جمع ہو گئے۔ انھوں نے کہا: اے لوگو! بے شک عثمان مظلومانہ طور پر شہید کر دئیے گئے ہیں اور اللہ کی قسم! میں ضرور اس کے خون بہا کا مطالبہ کروں گی۔‘‘
(الفتنۃ و وقعۃ الجمل لسیف ابن عمر)
اس بہتان کا جواب کئی طریقوں سے دیا جائے گا:
پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ روایت موضوع و مکذوب ہے۔ صحیح نہیں ہے۔ جس کی متعدد دلیلیں ہیں:
1۔ اس روایت کا راوی سیف بن عمر اسدی تمیمی ہے۔ اس کے بارے میں یحییٰ بن معین نے کہا: ’’ضعیف ہے۔‘‘
(تاریخ ابن معین بروایۃ الدوری: جلد 3 صفحہ 459)
دوسری بار کہا: ’’ایک ٹکا (یعنی سب سے کم قیمت سکّہ) اس سے بہتر ہے۔‘‘
(الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی: جلد 4 صفحہ 507)
امام ابو حاتم نے کہا: ’’اس کی حدیث متروک ہے۔‘‘
(الجرح و التعدیل لابن ابی حاتم: جلد 4 صفحہ 278)
امام ابو داؤد رحمہ اللہ نے کہا: ’’یہ کچھ بھی نہیں۔‘‘
(سوالات الآجری لابی داؤد: جلد 1 صفحہ 214)
امام نسائی (الضعفاء و المتروکون: صفحہ 50)رحمہ اللہ نے کہا: ’’ضعیف ہے۔‘‘
(احمد بن شعیب بن علی ابو عبدالرحمن نسائی۔ امام، حافظ، مشہور نقاد حدیث ہے اور علوم حدیث میں عبور تام حاصل کیا۔ 215 ہجری میں پیدا ہوئے۔ علو اسناد ان کا امتیاز ہے۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’السنن‘‘ اور ’’الخصائص‘‘ مشہور و متداول ہیں ۔ 303 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 14 صفحہ 125۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 1 صفحہ 27)
امام ابن حبان (محمد بن حبان بن احمد ابو حاتم البُستی، حافظ، مجود، خراسان کے عالم، فقیہ دین، حافظ آثار، صاحب التصانیف ہیں، سمرقند وغیرہ کے قاضی رہے۔ طب، علم نجوم اور فنون علم پر عبور حاصل تھا۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’صحیح ابن حبان‘‘ اور ’’کتاب الثقات‘‘ مشہور ہیں۔ 354 ہجری میں فوت ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 16 صفحہ 94۔ شذرات الذہب لابن العماد القیروانی: جلد 3 صفحہ 16) نے کہا: ’’سیف ثقہ مشائخ کی طرف نسبت کر کے موضوع روایات لاتا ہے اور سیف احادیث وضع کرتا تھا۔ نیز اس پر زندیق ہونے کی تہمت بھی ہے۔‘‘
(المجروحین لابن حبان: جلد 1 صفحہ 346)
دار قطنی نے کہا: ’’یہ متروک ہے۔‘‘
(سوالات البرقانی: صفحہ 34)
2۔ اس حدیث کا ایک راوی نصر بن مزاحم العطار ہے جس کی کنیت ابوالفضل المنقری الکوفی ہے۔ بغداد میں رہا۔
امام دارقطنی نے اسے ’’ضعفاء و متروکین‘‘ میں شمار کیا۔
(الضعفاء و المتروکون: جلد 3 صفحہ 134)
ابو الفتح محمد بن حسین الحافظ نے کہا: نصر بن مزاحم اپنے (شیعہ) مذہب میں غالی ہے۔ اپنی حدیث میں قابل تعریف نہیں۔
(تاریخ بغداد للخطیب بغدادی: جلد 13 صفحہ 284)
ابراہیم بن یعقوب جوزجانی نے کہا: ’’ نصر بن مزاحم العطار حق سے پھر جانے والا متعصب شخص تھا۔‘‘
(احوال الرجال؛ صفحہ 132)
خطیب بغدادی نے درج بالا عبارت کی شرح میں لکھا: ’’میں کہتا ہوں: اس کی مراد شیعیت میں غلو ہے۔‘‘
(تاریخ بغداد للخطیب بغدادی: جلد 13 صفحہ 284)
صالح بن محمد نے کہا: ’’نصر بن مزاحم ضعفاء سے منکر احادیث روایت کرتا ہے۔‘‘
(ایضاً)
عقیلی نے کہا: ’’یہ شیعہ تھا اس کی روایات میں اضطراب اور بے شمار غلطیاں ہوتی ہیں۔‘‘
(الضعفاء: جلد 4 صفحہ 300)
ابو خیثمہ نے کہا: ’’یہ کذاب تھا۔‘‘
(الضعفاء و المتروکون لابن الجوزی: جلد 3 صفحہ 160)
ابو حاتم نے کہا: ’’اس کی روایات کمزور ہوتی ہیں، وہ متروک ہے۔‘‘
(الجرح و التعدیل لابن ابی حاتم: جلد 8 صفحہ 468)
عجلی نے کہا: ’’یہ غالی رافضی تھا نہ یہ ثقہ ہے اور نہ یہ قابل اعتماد ہے۔‘‘
(لسان المیزان لابن حجر: جلد 6 صفحہ 157)
امام ابن حجر اور امام ذہبی نے اس کے بارے میں کہا: ’’یہ غالی رافضی ہے۔ محدثین نے اسے متروک کر دیا۔‘‘
(میزان الاعتدال للذہبی: جلد 4 صفحہ 253، 254۔ لسان المیزان لابن حجر: جلد 6 صفحہ 157)
یاقوت حموی (یاقوت بن عبداللہ ابو عبداللہ اصل میں رومی تھا۔ بچپن میں قیدی بنا تو ایک حموی تاجر عسکر نامی نے اسے خرید لیا، جب بڑا ہوا تو نحو اور لغت کے علوم پر عبور حاصل کر لیا۔ جبکہ اس کا مالک تجارت میں اسے مشغول رکھتا۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’معجم الادباء‘‘ اور ’’معجم البلدان‘‘ ہیں۔ 626 ہجری میں وفات پائی۔ (تاریخ الاسلام للذہبی: جلد 45 صفحہ 266۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 5 صفحہ 120) نے کہا: ’’نصر بن مزاحم ابو الفضل منقری، کوفی تاریخ اور روایات کا عالم تھا۔ غالی اور کٹر شیعہ تھا۔ محدثین کی ایک جماعت نے اسے کذاب کہا اور کچھ محدثین نے اسے ضعیف کہا ہے۔‘‘
(معجم الادباء لیاقوت حموی: جلد 6 صفحہ 2750)
نیز اس روایت کی سند میں ایک راوی کا یہ قول ہے:
’’اسد بن عبداللہ نے ان اہل علم سے روایت کی جن سے وہ ملا۔‘‘
تو یہ کون سے اہل علم تھے جنھوں نے یہ روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنی اور ہمارے دین میں کب سے تاریخوں اور روایات کے لیے مجہول راویوں کا سہارا لیا جاتا ہے؟
3۔ محض اس روایت کی موجودگی کتب اہل سنت میں ان کے خلاف کسی قسم کی دلیل نہیں بنتی۔ کیونکہ:
الف: یہ روایت اہل سنت کی معتمد، مسند، امہات الکتب جیسے صحیحین اور سنن اربعہ وغیرہ جیسی مشہور کتابوں میں سے کسی کتاب میں نہیں۔
ب: یہ روایت کتب تاریخ میں ہے وہ کتب جن میں ہر قسم کی خشک و تر، رطب و یابس ایندھن جمع کر لیا جاتا ہے۔ مصنف اس کی تحقیق نہیں کرتا۔
ج: یہ روایت سند کے ساتھ کچھ کتب تاریخ میں مروی ہے جیسے (تاریخ طبری) اور محدثین کا مشہور قاعدہ ہے کہ جو سند بیان کرتا ہے وہی دعویٰ کرتا ہے اور جو دعویٰ کرتا ہے دلیل بھی وہی لاتا ہے۔ تب اس کا ذمہ ختم ہوتا ہے۔
د: اہل سنت ایسی روایات پر خاموش نہیں رہتے بلکہ وہ ان پر جرح کرتے ہیں اور ان کا ضعف اور بودا پن واضح کرتے ہیں۔
آلوسی (محمود بن عبداللہ الحسینی ابو الثناء الآلوسی۔ شہاب الدین اس کا لقب ہے۔ 1217 ہجری میں پیدا ہوئے، اپنے وقت کے عظیم مفسر، محدث، ادیب اور بغداد میں مقلدین کے مشہور مفتی تھے۔ آستانہ (ترکی کے ایک شہر کا نام) گئے تو سلطان عبدالمجید عزت سے پیش آیا۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’روح المعانی‘‘ اور ’’الاجوبۃ العراقیۃ و الاسئلۃ الایرانیۃ‘‘ زیادہ مشہور ہیں۔ ان کے علاوہ بھی متعدد اہم کتابیں تصنیف کیں۔ 1270 ہجری میں وفات پائی۔ (الاعلام للزرکلی:جلد 7 صفحہ 176) نے کہا: ’’شیعہ جو یہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود لوگوں کو قتل عثمان کی ترغیب دی اور کہتی تھی کہ تم اس لمبی داڑھی والے بے وقوف بوڑھے کو قتل کر دو۔ کیونکہ یہ مفسد ہے۔ یہ بالکل کذب بیانی ہے، اس کی کوئی اصل نہیں۔ یہ ابن قتیبہ، ابن اعثم کوفی، اور سمساطی جیسے مشہور جھوٹوں اور مفتریوں کی روایت ہے۔‘‘
(روح المعانی للآلوسی: جلد 11 صفحہ 192)
اس روایت کا ردّ کرتے ہوئے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے رافضیوں کے شیخ ابن مطہر الحلی (حسن بن یوسف بن علی ابو منصور الحلی۔ یہ معتزلی تھا اور شیعوں کا پیر تھا اور اسے تاتاریوں کے بادشاہ خربندا کے ہاں بہت بڑا مقام و مرتبہ حاصل تھا۔ جو نہایت خبیث رافضی تھا۔ ابن تیمیہؒ نے اس کے ردّ میں لکھا اس کی تصنیفات میں سے ’’الاسرار الخفیۃ فی العلوم العقلیۃ‘‘ مشہور ہے۔ 771 ہجری میں فوت ہوا۔ (النجوم الزاہرۃ لتغری بردی: جلد 9 صفحہ 267۔ ہدیۃ العارفین لاسماعیل پاشا: جلد 5 صفحہ 284) کی تردید میں لکھا: ’’پہلے تو اسے یہ کہا جائے گا کہ ’’عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایسی صحیح ثابت حدیث کہاں اور کس سے مروی ہے۔‘‘
پھر کہا جائے گا کہ جو کچھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے وہ اس روایت کو جھٹلاتا ہے اور مشہور و متواتر روایات سے ثابت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت پر سخت افسوس کیا اور برا جانا اور قاتلوں کی پرزور مذمت کی اور اپنے بھائی محمد اور دوسروں کو اس کے دفاع میں شریک ہونے پر آمادہ کیا۔
(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 4 صفحہ 330)۔
پھر شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے نہایت ہی ذہانت و فطانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکھا:
’’اس روایت سے رافضیوں کی آراء کا تناقض ظاہر ہوتا ہے۔ جو کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عیب جوئی کرتے ہیں، پھر وہ اسی روایت کی وجہ سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر عیب لگاتے ہیں اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر طعن و تشنیع سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی تنقیص کا پہلو نکالتے ہیں۔ تو کہا جائے گا کہ یہ جو روایت عائشہ سے عثمان رضی اللہ عنہما پر عیب لگانے کی بابت ہے اگر یہ تحقیق سے صحیح ثابت ہو جائے تو پھر بھی یا تو صواب ہو گی یا غلطی ہو گی اور اگر یہ خبر صحیح ثابت ہو گئی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گناہوں میں شمار نہ ہو گی اور اگر یہ روایت غلط ثابت ہو گئی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا گناہ شمار نہ ہو گی اور سیدہ عائشہ اور عثمان رضی اللہ عنہما دونوں کی تنقیص قطعی طور پر باطل ہے۔ اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب شہادت عثمانؓ کی خبر ملی تو انھیں بے حد صدمہ پہنچا اور انھوں نے قاتلوں کی فوراً مذمت کی اور ان سے قصاص کا مطالبہ کیا۔ یہ سارے افعال ندامت پر دلالت کرتے ہیں نہ کہ اس کے منافی ہیں جیسا کہ جنگ جمل میں شرکت کی وجہ سے انھوں نے ندامت کا اظہار کیا اور اگر قتلِ عثمانؓ پر ان کی ندامت سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت واضح ہوتی ہے اور عائشہ کی طرف سے علی کے حق پر ہونے کا اعتراف ہوتا ہے۔ اسی طرح یہ ندامت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی فضیلت کی دلیل ہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے اس کے حق پر ہونے کا اعتراف کہا جائے گا، بصورت دیگر کچھ بھی نہ ہو گا۔‘‘
(منہاج السنۃ النبویۃ: جلد 4 صفحہ 335۔ معمولی لفظی ردّ و بدل کے ساتھ)
2۔ جو کچھ اس جیسی روایات کا مضمون ہے اس طرح کے خیالات کا ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے تیسرے خلیفہ عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اظہار کو عقل سلیم کے ساتھ تسلیم کرنا ناممکن ہے اور اس کے متعدد قرائن ہیں:
الف: جن ظالموں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا، ان کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا موقف انتہائی سخت تھا اور وہ ان کے قاتلوں سے قصاص لینے کا مطالبہ کرتی رہیں۔ جیسا کہ ہمارے لیے تاریخ کی کتابوں میں اس طرح کے مضامین محفوظ ہیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’فتنہ پردازوں نے عثمان کو شہید کرنے سے پہلے توبہ کروا لی حتیٰ کہ وہ دھلے (الرحیض: دھلا ہوا۔ (کتاب العین للخلیل بن احمد: جلد 3 صفحہ 103) ہوئے کپڑے کی طرح صاف ہو گئے پھر انھوں نے اسے قتل کر دیا۔‘‘
(تاریخ خلیفہ بن خیاط: صفحہ 175)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’اگر تم نے انھیں ایک کوڑا مارا تو میں تم سے ضرور ناراض ہوں گی لیکن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تم پر تلوار بھی چلاتے تو مجھے ان پر غصہ نہ آتا۔ تم نے اس سے توبہ کروا لی اور جب وہ پاکیزہ دل کی طرح ہو گیا تو تم نے اسے قتل کر دیا۔‘‘
(المصدر السابق: صفحہ 176)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ’’اے لوگو! بے شک شہروں میں رہنے والو! چشموں پر رہنے والو اور اہل مدینہ کے غلاموں کے اس آدمی پر اژدہام کی وجہ سے فتنہ برپا ہوا۔ ماضی میں جو مظلومیت کی حالت میں قتل ہوا اور انھوں نے اس سے انتقام لینے کے لیے نو عمر لوگوں کو استعمال کیا: بلاشبہ ان جیسے (نوعمر لڑکوں نے طائف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھراؤ کیا تھا۔ (ظفر) نو عمر لڑکے پہلے بھی استعمال ہو چکے ہیں اور چراگاہوں پر ان کا قبضہ تھا۔ اس نے ان کا پیچھا کیا اور ان سے چراگاہیں واپس کر لیں۔ چنانچہ جب ان کے پاس کوئی دلیل اور کوئی عذر نہ رہا تو وہ کھلم کھلا عداوت اور ظلم پر اتر آئے، انھوں نے محترم شہر اور محترم مہینے میں محترم خون بہا دیا اور محترم مال انھوں نے لوٹ لیا۔ اللہ کی قسم! ان جیسوں سے اگر زمین بھری ہو تو بھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی ایک انگلی ان سے بہتر ہے اور اللہ کی قسم! جس الزام میں ان لوگوں نے اس پر ظلم کیا اگر وہ واقعی گناہ ہوتا تو وہ اس گناہ سے اس طرح نکل آتے جس طرح سونا میل کچیل سے علیحدہ ہو جاتا ہے یا جس طرح کپڑا اپنی میل سے صاف ہو جاتا ہے۔ جب انھوں نے اس سے توبہ کروائی تو وہ اس طرح ہو گیا جس طرح کپڑا دھلنے سے صاف ہو جاتا ہے۔
(سیف بن عمر نے یہ کلام ’’الفتنۃ و وقعۃ الجمل، صفحہ 112 پر نقل کیا ہے اور طبری نے اپنی تاریخ میں جلد 4 صفحہ 448 پر نقل کیا اور ابن الجوزی نے المنتظم فی تاریخ الملوک و الامم: جلد 5 صفحہ 78 میں روایت کیا۔
مسروق نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ جب عثمان قتل کر دئیے گئے تو انھوں نے کہا: ’’تم نے انھیں ایسے کر دیا جیسے کپڑا میل سے صاف شفاف ہو جاتا ہے۔ پھر تم ان کے نزدیک گئے اور تم نے انھیں ذبح کر دیا، جس طرح دنبہ ذبح کیا جاتا ہے۔ کاش! توبہ سے پہلے ایسے ہوتا۔ تو مسروق نے کہا: یہ آپ کا کیا دھرا ہے۔ آپ نے لوگوں کی طرف پیغام لکھ بھیجا تاکہ وہ اس سے بغاوت کر دیں۔ بقول راوی عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس ذات کی قسم جس پر ایمان لانے والے ایمان لاتے ہیں اور جس سے کافر کفر کرتے ہیں! میں نے اپنی اس جگہ پر بیٹھنے تک سفید کاغذ پر سیاہی سے ان کی طرف کچھ نہیں لکھا۔ اعمش (سلیمان بن مہران اسدی کاہلی ابو محمد الکوفی بنو اسد کے آزاد کردہ غلام تھے۔ اعمش لقب تھا۔ اپنے وقت کے شیخ الاسلام، امام اور حافظ تھے۔ 61 ہجری میں پیدا ہوئے۔ قراء اور محدثین کے استاد تھے۔ 147 ہجری کے لگ بھگ وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 11 صفحہ 283۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 2 صفحہ 423) نے کہا: ’’کہتے تھے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی زبان پر یہ الفاظ تھے۔‘‘
(الطبقات الکبری لابن سعد: جلد 3 صفحہ 82)
ب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فضائل عثمان رضی اللہ عنہ پر مشتمل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد احادیث روایت کی ہیں اور وہ معروف و مشہور اور کتب احادیث میں موجود ہیں۔ ان میں سے ایک ذیل میں درج کی جاتی ہے:
جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دونوں نے روایت کی ہے: ’’سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کے لیے اجازت طلب کی جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر لیٹے ہوئے تھے اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی اوڑھنی (المرط: ریشمی، سوتی یا اونی چادر۔(لسان العرب لابن منظور: جلد 7 صفحہ 399) اوڑھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر کو اجازت دے دی اور آپﷺ اپنی پہلی حالت پر لیٹے رہے۔ وہ آئے اپنی ضرورت پوری کی اور چلے گئے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حالت پر رہتے ہوئے انھیں اجازت دے دی، انھوں نے بھی اپنی حاجت پوری کی اور چلے گئے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: تو اپنے اوپر اپنے کپڑے کس لے۔ میں نے اپنی ضرورت پوری کی اور واپس آ گیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کیا ہے کہ میں نے سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے لیے آپﷺ کو اس طرح پریشان نہیں دیکھا جس طرح آپ عثمان کے لیے پریشان ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یقیناً عثمان شرمیلا آدمی ہے اور مجھے اندیشہ ہوا کہ میں نے اپنی حالت پر رہتے ہوئے اگر اسے اجازت دے دی تو ہو سکتا ہے وہ اپنی ضرورت مجھ تک نہ پہنچا سکے۔‘‘
(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2402)
ہم اس مقام پر اسی حدیث پر اکتفاء کرتے ہیں وگرنہ فضائل عثمان میں جو احادیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کی ہیں وہ بہت زیادہ ہیں۔ لیکن ہم نے صرف ایک مثال پیش کی اور (رافضی) جو یہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے درمیان منافرت تھی اور ایک دن عثمان جب خطبہ دے رہے تھے تو عائشہ رضی اللہ عنہا لوگوں سے یوں مخاطب ہوئیں: اے مسلمانوں کے گروہ! اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص یا چادر لہراتے ہوئے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ چادر ابھی بوسیدہ نہیں ہوئی لیکن عثمان نے آپ کی سنت کو بوسیدہ کر دیا۔
(تاریخ الیعقوبی: جلد 2 صفحہ 175)
اس شبہے کا ازالہ
یہ روایت یعقوبی(احمد بن اسحاق بن جعفر ابو العباس یعقوبی۔ بنو عباس سے ہونے کی وجہ سے عباسی کہلواتا تھا۔ قصہ گو تھا۔ متعصب شیعہ تھا۔ اس کی تصنیفات ’’تاریخ الیعقوبی‘‘ اور ’’اسماء البلدان‘‘ ہیں۔ تقریباً 284 ہجری میں ہوا۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 1 صفحہ 95) کے تفردات میں سے ایک ہے۔ یہ مذہب اور فرقے کی وجہ سے مشہور ہے۔ چونکہ وہ امامی شیعہ تھا اور اس نے تاریخ کا مطالعہ شیعی نکتہ نگاہ سے کیا اور اسی نظر سے تاریخی معلومات لکھیں۔ وہ سیدہ عائشہ، سیدنا معاویہ، سیدنا عمرو بن عاص اور سیدنا خالد بن ولید (خالد بن ولید بن مغیرہ ابو سلیمان رضی اللہ عنہ قریشی مخزومی ہیں۔ سیف اللہ لقب تھا۔ جب سے اسلام لائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ انھیں گھوڑوں کی باگیں تھمائے رکھیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں انھیں مرتدین کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا۔ پھر انھیں فارس و روم کی جنگوں کا قائد بنا دیا۔ ان پر اس کا بہت گہرا اثر پڑا۔ 21 یا 22 ہجری میں بستر علالت پر وفات پائی۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 126۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 2 صفحہ 251۔ اسمی المطالب فی سیرۃ المیر المومنین علی بن ابی طالب للصلابی: جلد 2 صفحہ 705۔ مصنف نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے موقف کے بارے میں بہت اچھا اور خوبصورت کلام کیا۔ اسے بغور پڑھنا چاہیے۔)رضی اللہ عنہم کے متعلق بہت قبیح روایات لایا اور جو اس قدر پستی میں گر چکا ہو اس کی وہ روایات ساقط اور مردود شمار ہوں گی جو اس نے اپنے خود ساختہ مذہب کی حمایت کے لیے وضع کر لی ہوں۔ نیز بہتان تراشوں میں بھی واضح تناقض پایا جاتا ہے۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کا پیدا کردہ شبہ اور بہتان عقل و فکر میں صحیح نہیں ہو سکتا تو پھر وہ اس کا مخالف وضع کر لیتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر خروج کیا اور ان کی بیعت نہیں کی، کیونکہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی حمایتی تھیں۔ یہ اہل افتراء کے تناقضات کی مثال ہے۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے لوگوں کو قتل عثمان پر ابھارا۔
تو دو متناقض یا دو ضدیں کیسے جمع ہوں گی کیا پہلے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے قتلِ عثمان پر لوگوں کو آمادہ کیا پھر عثمانؓ کے قصاص کا مطالبہ کر ڈالا اور جس کسی انسان کے پاس اس بہتان کی سند پر نظر ڈالنے سے پہلے رتی بھر بھی عقل ہے تو وہ اس بہتان کو بہتان تراشنے والے کے سینے پر الٹا دے گا اور اس کے ضعف عقل کی دلیل بنا لے گا۔ اس سے پہلے کہ وہ اس کے دین کے ضعیف اور بودے پن پر دلالت کرے تو کوئی عقل مند انسان آج تک کسی فاسد عقل والے انسان کے خلاف ایسی دلیل نہیں لایا جیسی دلیلیں ان بہتان تراشوں کے عقل کے فاسد ہونے پر لائی گئی ہیں۔