چوتھا بہتان - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

چوتھا بہتان

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

’’اس روایت سے رافضیوں کی آراء کا تناقض ظاہر ہوتا ہے۔ جو کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عیب جوئی کرتے ہیں، پھر وہ اسی روایت کی وجہ سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر عیب لگاتے ہیں اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر طعن و تشنیع سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی تنقیص کا پہلو نکالتے ہیں۔ تو کہا جائے گا کہ یہ جو روایت عائشہ سے عثمان رضی اللہ عنہما پر عیب لگانے کی بابت ہے اگر یہ تحقیق سے صحیح ثابت ہو جائے تو پھر بھی یا تو صواب ہو گی یا غلطی ہو گی اور اگر یہ خبر صحیح ثابت ہو گئی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گناہوں میں شمار نہ ہو گی اور اگر یہ روایت غلط ثابت ہو گئی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا گناہ شمار نہ ہو گی اور سیدہ عائشہ اور عثمان رضی اللہ عنہما دونوں کی تنقیص قطعی طور پر باطل ہے۔ اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب شہادت عثمانؓ کی خبر ملی تو انھیں بے حد صدمہ پہنچا اور انھوں نے قاتلوں کی فوراً مذمت کی اور ان سے قصاص کا مطالبہ کیا۔ یہ سارے افعال ندامت پر دلالت کرتے ہیں نہ کہ اس کے منافی ہیں جیسا کہ جنگ جمل میں شرکت کی وجہ سے انھوں نے ندامت کا اظہار کیا اور اگر قتلِ عثمانؓ پر ان کی ندامت سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت واضح ہوتی ہے اور عائشہ کی طرف سے علی کے حق پر ہونے کا اعتراف ہوتا ہے۔ اسی طرح یہ ندامت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی فضیلت کی دلیل ہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے اس کے حق پر ہونے کا اعتراف کہا جائے گا، بصورت دیگر کچھ بھی نہ ہو گا۔‘‘

(منہاج السنۃ النبویۃ: جلد 4 صفحہ 335۔ معمولی لفظی ردّ و بدل کے ساتھ)

2۔ جو کچھ اس جیسی روایات کا مضمون ہے اس طرح کے خیالات کا ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے تیسرے خلیفہ عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اظہار کو عقل سلیم کے ساتھ تسلیم کرنا ناممکن ہے اور اس کے متعدد قرائن ہیں:

الف: جن ظالموں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا، ان کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا موقف انتہائی سخت تھا اور وہ ان کے قاتلوں سے قصاص لینے کا مطالبہ کرتی رہیں۔ جیسا کہ ہمارے لیے تاریخ کی کتابوں میں اس طرح کے مضامین محفوظ ہیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’فتنہ پردازوں نے عثمان کو شہید کرنے سے پہلے توبہ کروا لی حتیٰ کہ وہ دھلے (الرحیض: دھلا ہوا۔ (کتاب العین للخلیل بن احمد: جلد 3 صفحہ 103)  ہوئے کپڑے کی طرح صاف ہو گئے پھر انھوں نے اسے قتل کر دیا۔‘‘

(تاریخ خلیفہ بن خیاط: صفحہ 175)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’اگر تم نے انھیں ایک کوڑا مارا تو میں تم سے ضرور ناراض ہوں گی لیکن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تم پر تلوار بھی چلاتے تو مجھے ان پر غصہ نہ آتا۔ تم نے اس سے توبہ کروا لی اور جب وہ پاکیزہ دل کی طرح ہو گیا تو تم نے اسے قتل کر دیا۔‘‘

(المصدر السابق: صفحہ 176)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ’’اے لوگو! بے شک شہروں میں رہنے والو! چشموں پر رہنے والو اور اہل مدینہ کے غلاموں کے اس آدمی پر اژدہام کی وجہ سے فتنہ برپا ہوا۔ ماضی میں جو مظلومیت کی حالت میں قتل ہوا اور انھوں نے اس سے انتقام لینے کے لیے نو عمر لوگوں کو استعمال کیا: بلاشبہ ان جیسے (نوعمر لڑکوں نے طائف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھراؤ کیا تھا۔ (ظفر) نو عمر لڑکے پہلے بھی استعمال ہو چکے ہیں اور چراگاہوں پر ان کا قبضہ تھا۔ اس نے ان کا پیچھا کیا اور ان سے چراگاہیں واپس کر لیں۔ چنانچہ جب ان کے پاس کوئی دلیل اور کوئی عذر نہ رہا تو وہ کھلم کھلا عداوت اور ظلم پر اتر آئے، انھوں نے محترم شہر اور محترم مہینے میں محترم خون بہا دیا اور محترم مال انھوں نے لوٹ لیا۔ اللہ کی قسم! ان جیسوں سے اگر زمین بھری ہو تو بھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی ایک انگلی ان سے بہتر ہے اور اللہ کی قسم! جس الزام میں ان لوگوں نے اس پر ظلم کیا اگر وہ واقعی گناہ ہوتا تو وہ اس گناہ سے اس طرح نکل آتے جس طرح سونا میل کچیل سے علیحدہ ہو جاتا ہے یا جس طرح کپڑا اپنی میل سے صاف ہو جاتا ہے۔ جب انھوں نے اس سے توبہ کروائی تو وہ اس طرح ہو گیا جس طرح کپڑا دھلنے سے صاف ہو جاتا ہے۔

(سیف بن عمر نے یہ کلام ’’الفتنۃ و وقعۃ الجمل، صفحہ 112 پر نقل کیا ہے اور طبری نے اپنی تاریخ میں جلد 4 صفحہ 448 پر نقل کیا اور ابن الجوزی نے المنتظم فی تاریخ الملوک و الامم: جلد 5 صفحہ 78 میں روایت کیا۔

مسروق نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ جب عثمان قتل کر دئیے گئے تو انھوں نے کہا: ’’تم نے انھیں ایسے کر دیا جیسے کپڑا میل سے صاف شفاف ہو جاتا ہے۔ پھر تم ان کے نزدیک گئے اور تم نے انھیں ذبح کر دیا، جس طرح دنبہ ذبح کیا جاتا ہے۔ کاش! توبہ سے پہلے ایسے ہوتا۔ تو مسروق نے کہا: یہ آپ کا کیا دھرا ہے۔ آپ نے لوگوں کی طرف پیغام لکھ بھیجا تاکہ وہ اس سے بغاوت کر دیں۔ بقول راوی عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس ذات کی قسم جس پر ایمان لانے والے ایمان لاتے ہیں اور جس سے کافر کفر کرتے ہیں! میں نے اپنی اس جگہ پر بیٹھنے تک سفید کاغذ پر سیاہی سے ان کی طرف کچھ نہیں لکھا۔ اعمش (سلیمان بن مہران اسدی کاہلی ابو محمد الکوفی بنو اسد کے آزاد کردہ غلام تھے۔ اعمش لقب تھا۔ اپنے وقت کے شیخ الاسلام، امام اور حافظ تھے۔ 61 ہجری میں پیدا ہوئے۔ قراء اور محدثین کے استاد تھے۔ 147 ہجری کے لگ بھگ وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 11 صفحہ 283۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 2 صفحہ 423) نے کہا: ’’کہتے تھے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی زبان پر یہ الفاظ تھے۔‘‘

(الطبقات الکبری لابن سعد: جلد 3 صفحہ 82)

ب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فضائل عثمان رضی اللہ عنہ پر مشتمل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد احادیث روایت کی ہیں اور وہ معروف و مشہور اور کتب احادیث میں موجود ہیں۔ ان میں سے ایک ذیل میں درج کی جاتی ہے:

صفحہ 3 از 4