چوتھا بہتان - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

چوتھا بہتان

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دونوں نے روایت کی ہے: ’’سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کے لیے اجازت طلب کی جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر لیٹے ہوئے تھے اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی اوڑھنی (المرط: ریشمی، سوتی یا اونی چادر۔(لسان العرب لابن منظور: جلد 7 صفحہ 399) اوڑھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر کو اجازت دے دی اور آپﷺ اپنی پہلی حالت پر لیٹے رہے۔ وہ آئے اپنی ضرورت پوری کی اور چلے گئے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حالت پر رہتے ہوئے انھیں اجازت دے دی، انھوں نے بھی اپنی حاجت پوری کی اور چلے گئے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: تو اپنے اوپر اپنے کپڑے کس لے۔ میں نے اپنی ضرورت پوری کی اور واپس آ گیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کیا ہے کہ میں نے سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے لیے آپﷺ کو اس طرح پریشان نہیں دیکھا جس طرح آپ عثمان کے لیے پریشان ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یقیناً عثمان شرمیلا آدمی ہے اور مجھے اندیشہ ہوا کہ میں نے اپنی حالت پر رہتے ہوئے اگر اسے اجازت دے دی تو ہو سکتا ہے وہ اپنی ضرورت مجھ تک نہ پہنچا سکے۔‘‘

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2402)

ہم اس مقام پر اسی حدیث پر اکتفاء کرتے ہیں وگرنہ فضائل عثمان میں جو احادیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کی ہیں وہ بہت زیادہ ہیں۔ لیکن ہم نے صرف ایک مثال پیش کی اور (رافضی) جو یہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے درمیان منافرت تھی اور ایک دن عثمان جب خطبہ دے رہے تھے تو عائشہ رضی اللہ عنہا لوگوں سے یوں مخاطب ہوئیں: اے مسلمانوں کے گروہ! اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص یا چادر لہراتے ہوئے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ چادر ابھی بوسیدہ نہیں ہوئی لیکن عثمان نے آپ کی سنت کو بوسیدہ کر دیا۔

(تاریخ الیعقوبی: جلد 2 صفحہ 175)

اس شبہے کا ازالہ

یہ روایت یعقوبی(احمد بن اسحاق بن جعفر ابو العباس یعقوبی۔ بنو عباس سے ہونے کی وجہ سے عباسی کہلواتا تھا۔ قصہ گو تھا۔ متعصب شیعہ تھا۔ اس کی تصنیفات ’’تاریخ الیعقوبی‘‘ اور ’’اسماء البلدان‘‘ ہیں۔ تقریباً 284 ہجری میں ہوا۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 1 صفحہ 95) کے تفردات میں سے ایک ہے۔ یہ مذہب اور فرقے کی وجہ سے مشہور ہے۔ چونکہ وہ امامی شیعہ تھا اور اس نے تاریخ کا مطالعہ شیعی نکتہ نگاہ سے کیا اور اسی نظر سے تاریخی معلومات لکھیں۔ وہ سیدہ عائشہ، سیدنا معاویہ، سیدنا عمرو بن عاص اور سیدنا خالد بن ولید (خالد بن ولید بن مغیرہ ابو سلیمان رضی اللہ عنہ قریشی مخزومی ہیں۔ سیف اللہ لقب تھا۔ جب سے اسلام لائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ انھیں گھوڑوں کی باگیں تھمائے رکھیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں انھیں مرتدین کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا۔ پھر انھیں فارس و روم کی جنگوں کا قائد بنا دیا۔ ان پر اس کا بہت گہرا اثر پڑا۔ 21 یا 22 ہجری میں بستر علالت پر وفات پائی۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 126۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 2 صفحہ 251۔ اسمی المطالب فی سیرۃ المیر المومنین علی بن ابی طالب للصلابی: جلد 2 صفحہ 705۔ مصنف نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے موقف کے بارے میں بہت اچھا اور خوبصورت کلام کیا۔ اسے بغور پڑھنا چاہیے۔)رضی اللہ عنہم کے متعلق بہت قبیح روایات لایا اور جو اس قدر پستی میں گر چکا ہو اس کی وہ روایات ساقط اور مردود شمار ہوں گی جو اس نے اپنے خود ساختہ مذہب کی حمایت کے لیے وضع کر لی ہوں۔ نیز بہتان تراشوں میں بھی واضح تناقض پایا جاتا ہے۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کا پیدا کردہ شبہ اور بہتان عقل و فکر میں صحیح نہیں ہو سکتا تو پھر وہ اس کا مخالف وضع کر لیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر خروج کیا اور ان کی بیعت نہیں کی، کیونکہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی حمایتی تھیں۔ یہ اہل افتراء کے تناقضات کی مثال ہے۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے لوگوں کو قتل عثمان پر ابھارا۔

تو دو متناقض یا دو ضدیں کیسے جمع ہوں گی کیا پہلے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے قتلِ عثمان پر لوگوں کو آمادہ کیا پھر عثمانؓ کے قصاص کا مطالبہ کر ڈالا اور جس کسی انسان کے پاس اس بہتان کی سند پر نظر ڈالنے سے پہلے رتی بھر بھی عقل ہے تو وہ اس بہتان کو بہتان تراشنے والے کے سینے پر الٹا دے گا اور اس کے ضعف عقل کی دلیل بنا لے گا۔ اس سے پہلے کہ وہ اس کے دین کے ضعیف اور بودے پن پر دلالت کرے تو کوئی عقل مند انسان آج تک کسی فاسد عقل والے انسان کے خلاف ایسی دلیل نہیں لایا جیسی دلیلیں ان بہتان تراشوں کے عقل کے فاسد ہونے پر لائی گئی ہیں۔


صفحہ 4 از 4