اللہ تعالی کے مخصوص بالقدم اوربالازل ہونے کے عقیدہ پرتبصرہ:…

اللہ تعالی کے مخصوص بالقدم اوربالازل ہونے کے عقیدہ پرتبصرہ:

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 1 از 4

اللہ تعالیٰ کے مخصوص بالقدم اوربالازل ہونے کے عقیدہ پرتبصرہ:

رافضی مصنف کے اُس قول پرتبصرہ کہ اللہ تعالیٰ ازلیت اور قدم کی صفت کے ساتھ خاص ہے۔رہا اس کا یہ کہنا کہ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ازلیت اور قدم کے ساتھ مخصوص ہے تو جواب میں :اولاً یہ کہا جائے گا کہ تمام مسلمان اس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ اللہ کے ماسوا تمام مخلوق حادث ہیں بعد العدم اور وہی ذات صفت ِ قدم او ازلیت کے ساتھ مختص ہے۔ثانیاًیہ کہا جائے گا کہ: کتاب و سنت میں جو بات آئی ہے وہ تو الوہیت کا توحید ہے پس اللہ کے علاوہ کوئی الہٰ نہیں ،یہی وہ توحید ہے جس کو لے کر اللہ تعالیٰ کے رسل آئے اور انہی تعلیمات پر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابیں اتاریں ؛ جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَ اِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ﴾(البقرۃ ۱۶۳) ’’اور تمھارا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، بے حد رحم والا مہربان ہے۔‘‘نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَ قَالَ اللّٰہُ لَا تَتَّخِذُوْٓا اِلٰھَیْنِ اثْنَیْنِ اِنَّمَا ھُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ فَاِیَّایَ فَارْھَبُوْن﴾(نحل۵۱)’’ وہ اپنے رب سے، جو ان کے اوپر ہے، ڈرتے ہیں اور وہ کرتے ہیں جو انھیں حکم دیا جاتا ہے۔‘‘نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِکَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِیْ إِلَیْہِ أَنَّہُ لَا إِلَہَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ ﴾(انبیاء :۲۵ )’’اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ بے شک حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ، سو میری عبادت کرو۔‘‘اور قرآن میں اس جیسی امثال بہت زیادہ ہیں ؛ جیسے اللہ تعالیٰ کایہ ارشاد ہے:﴿ فَاعْلَمْ أَنَّہُ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ﴾ ( محمد :۱۹)’’پس جان لے کہ بے شک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘اور اس طرح یہ ارشاد گرامی بھی ہے:﴿ إِنَّہُمْ کَانُوا إِذَا قِیْلَ لَہُمْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ یَسْتَکْبِرُونَ﴾ ( صافات: ۳۵) ’’بے شک وہ ایسے لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو تکبر کرتے تھے۔‘‘الحاصل یہ وہ پہلی اور آخری بات ہے جس کی رسولوں نے اپنی قوموں کو دعوت دی چنانچہ فرمایا :(( أمرت أن أقاتل الناس حتی یقولوا لا إلہ إلا اللّٰہ وإنی رسول اللّٰہ ۔))[1]

[1] البخاری 1؍10؛ ِکتاب الإِیمانِ، باب فإِن تابوا وأقاموا الصلاۃ....،مسلِم 1؍52 ؛ کتاب الإِیمانِ، باب الأمرِ بِقِتالِ الناسِ....۔‘‘ وقال السیوطِی فِی ’’ الجامِعِ الصغِیرِ ‘‘ متفق علیہِ، رواہ الأربعۃ عن أبِی ہریرۃ وہو متواتِر۔‘‘اور اپنے چچا ابو طالب سے فرمایا :

(( یا عم قل لا إلہ إلا اللّٰہ کلمۃ أحاج لک بہا عند اللّٰہ۔)) [2]

[2] البخاری 2؍95 ؛ کتاب الجنائِزِ، باب ِإذا قال المشترکِ عِند الموتِ لا ِلہ ِلا اللہ؛ مسلِم 1؍54 : ِکتاب الإِیمانِ، باب الدلِیلِ عل صِحۃِإ ِسلامِ من حضرہ الموت....۔‘‘ المسندِ 5؍433.۔ ’’ اے چچا! کہہ دو کہ لا إله الا اللہ ایک ایسا کلمہ ہے کہ جس کے ذریعے اللہ کے ہاں آپ کے لیے جھگڑا کروں گا۔‘‘اور فرمایا :

((من کان آخر کلامہ لا إلہ إلا اللّٰہ دخل الجنۃ۔))[3]

 [3] سننِ أبِی داود 3؍258 ؛ کتاب الجنائِزِ، باب فِی التلقِینِ.... المستدرِک لِلحاکِمِ 1؍351 (کتاب الجنائِزِ، باب من کان آخِر کلامِہِ....؛ وقال الحاکِم:’’ ہذا حدِیث صحِیح الِإسنادِ ولم یخرِجاہ۔‘‘ ووافقہ الذہبِی مِشکا المصابِیحِ لِلتبرِیزِیِ 1؍511 وصححہ الألبانِی۔

’’ جس کا آخری کلام لا الہ الا اللہ وہ جنت میں داخل ہوگا۔‘‘اور ارشاد فرمایا : (( لقنوا موتاکم لا إلہ إلا اللّٰہ ۔)) [1]

صفحہ 1 از 4