اللہ تعالی کے مخصوص بالقدم اوربالازل ہونے کے عقیدہ پرتبصرہ:…

اللہ تعالی کے مخصوص بالقدم اوربالازل ہونے کے عقیدہ پرتبصرہ:

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 2 از 4

[1] مسلِم 2؍631؛ کتاب الجنائِزِ، باب تلقِینِ الموتی لا ِلہ ِلا اللّٰہ..... سننِ أبِی داود 3؍259؛ کتاب الجنائِزِ، باب فِی التلقِینِ.... ؛ سننِ التِرمِذِیِ 2؍225؛ ِکتاب الجنائِزِ، باب فِی تلقِینِ المرِیضِ عِند الموتِ والدعاِ لہ؛ .... سنن ابن ماجہ 1؍464؛ کتاب الجنائِزِ، باب ما جاء فِی تلقِینِ المیِت....۔‘‘’’ اپنے اموات کو لا إله الا اللّٰہ کی تلقین کیا کرو۔‘‘ اور یہ تمام کی تمام احادث صحیح ہیں اور یہ تمام امور میں سب سے زیادہ اظہر اور واضح بات ہے جوکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین میں سے ضرورتاً اور بدیہی طور پر معلوم ہیں اور وہ اللہ کی توحید ہے یعنی کہ لا إله  الا اللّٰہ۔رہا قدیم ازلی ذات کا ایک ہونا تو یہ لفظ نہ تو کتاب اللہ میں پایا جاتا ہے نہ اس کی نبی کی سنت میں بلکہ اللہ کے ناموں میں بھی کہیں ’’قدیم ‘‘نہیں آیا اگرچہ اس کے ناموں میں لفظِ ’’اول ‘‘ہے اور اقوال دو قسم پر ہیں :ایک تو وہ جو کتاب اور سنت میں منصوص ہیں ان کا اقرار کرنا اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے ہر مسلمان پر واجب ہے اور جس کے لئے نص اور اجماع میں کوئی اصل نہیں اس کا قبول کرنا اور رد کرنا واجب نہیں یہاں تک کہ اس کا معنی معلوم ہو جائے پس کسی قائل کا یہ کہنا کہ قدیم اور ازلی ذات ایک ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ صفت ازلیت اور قدم کے ساتھ مختص ہے یہ ایک لفظ مجمل ہے اور اگر اس کی مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ان صفات کی وجہ سے جو کہ اس کی ذات کے ساتھ لازم ہیں وہ قدیم ،ازلی ہے نہ کہ اس کی مخلوقات (یعنی وہ قدیم ازلی نہیں )تو یہ بات تو حق ہے لیکن یہ اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے ۔اور اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ قدیم ازلی وہی ذات ہے جس کے لئے کوئی صفت ثابت نہیں نہ صفتِ حیات ،نہ صفتِ علم اورنہ صفتِ قدرت اس لیے کہ اگر اس کے واسطے صفات ثابت ہوں تو وہ اس کے ساتھ صفتِ قدم میں شریک ہوں گی اور پھر وہ صفات بھی الوہیت کے ساتھ موصوف ہو جائیں گی اور یہ صفت اس رب تعالیٰ کا اسم ہے جو حی ،قدیم اور قدیر ہے اور ایسا حی ذات خارج میں ممتنع (الوجود)ہے جس کے لیے حیات ثابت نہ ہو نیز ایسی قدیر ذات بھی ممتنع ہے جس کیلئے کوئی قدرت ثابت نہ ہو جس طرح کہ اس کے اور امثال اور نظائر میں یہ ممتنع ہے ۔اور جب کوئی قائل یہ کہے کہ اس کی صفات اس کی ذات پر زائد ہیں تو مراد یہ ہے کہ وہ اس تفصیل پر زائد ہیں جس کو صفات کی نفی کرنے والے ثابت کرتے ہیں یہ نہیں کہ نفس الامر میں بھی یہ کوئی ایک ایسی ذات ہے جو صفات سے مجرد ہے اور صفات اس پر زائد ہیں اس لیے کہ یہ بات تو باطل ہے اور جس نے اہل سنت والجماعت سے یہ بات نقل کی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کئی اورذواتِ قدیمہ کو بھی ثابت کرتے ہیں جو اس کی قدم کے

ساتھ قدیم ہیں اور اس بات کو کہ وہ اللہ تعالیٰ اُن ذوات کی طرف محتاج ہیں پس بتحقیق اس نے اُن پر (یعنی اہل سنت والجماعت پر )جھوٹ باندھا اس لیے کہ اس مقام میں اہل نظر کے چار اقوال ہیں :۱۔صفات کا ثبوت ۲۔اور احوال کا ثبوت۳۔اور دونوں کی نفی ۴۔اور احوال کا ثبوت نہ کہ صفات کا۔[1]

[1] ابو ہاشم الجبائی ان احوال کا قائل تھا۔ شہرستانی نے الملل و النحل ۱؍۷۶ پر ان کا خلاصہ پیش کیا ہے؛ کہتا ہے: ’’ اور ابو ہاشم کے نزدیک وہ بذاتہ عالم ہے؛ یعنی اس کی دو حالتیں ہیں ۔ اور اس کی ذات کے موجود ہونے کے پیچھے یہ اس کی معلوم شدہ صفت ہے۔ اور بیشک صفت کو ذات سے جانا جاتا ہے انفرادیت سے نہیں ۔ پس اس نے یہ احوال ثابت کئے ہیں : ۱۔ نہ ہی موجود نہ ہی معدوم؛ نہ ہی معلوم نہ ہی مجہول۔ یعنی جو بھی ہو ؛ وہ اپنے حال پر ہے اور ذات کے بغیر اس کی معرفت ممکن نہیں ۔ پس پہلا قول تو ان جمہور اہل نظر کا ہے جو اللہ کیلئے صفات کو ثابت مانتے ہیں ۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے علم کی وجہ سے عالم ہے ،اپنی قدرت کے ساتھ قادر ہے اور اس کا علم بعینہ اس کی عا لمیت ہے اور اس کی قدرت بعینہ اس کی قادریت ہے۔ اور صفات کی نفی کرنے والے عقلاء جیسے کہ ابو الحسین بصری رحمہ اللہ [2]۔

[2] بعض جگہ پر غلطی سے ابو الحسن بصری لکھا گیا ہے؛ جو کہ درست نہیں ؛ وہ تابعی اور ایک معتمد عالم تھے۔ یہ ابو الحسین محمد بن علی الطیب البصری ہے۔ [لسان المیزان ۵؍ ۲۹۸ ؛ تاریخ بغداد ۳؍ ۱۰۰۔] 

اور اس کے علاوہ دیگر ،وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالی کا حی ہونا اس کا عالم ہونا نہیں یعنی دونوں صفات کا آپس میں فرق اور جداگانہ ہیں )۔اور اس کا عالم ہونا ا س کا قادر ہونا نہیں یعنی ان میں فرق ہے۔ اسی طرح ان میں سے وہ لوگ جو اللہ کے لیے احوال کو ثابت کرتے ہیں تو یہ بعینہ ان جمہور علماء کا مذہب ہے جو صفات کو ثابت کرتے ہیں نہ کہ احوال کو[3]۔

 [3] ان کے اس عقیدہ کی خرابیان شہرستانی نے ذکر کی ہیں ۔ اس نے شیعہ کے ہاں مفہومات اور اعتبارات ؛ او رابو ہاشم کے ہاں احوال میں امتیازات اور ابو حسین کے ہاں صفات کے امتیازات ذکر کئے ہیں ۔یہ سبھی ایک ہی ڈگر پر چلتے ہیں ؛ اور سبھی ایسے مدلولات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن کے خواص اور حقائق مختلف ہیں ۔ دیکھو: الملل و النحل ۲؍ ۹۔ اور ۱؍۷۷۔

لیکن جس نے (اللہ تعالیٰ کیلئے )صفات کیساتھ احوال کو بھی ثابت ماناجیسے قاضی ابوبکر ،قاضی ابو یعلیٰ اور قاضی ابوالمعالی اپنے قدیم قول کے مطابق؛ تو ان لوگوں کی طرف ان لوگوں کا ردّ متوجہ ہوتا ہے جو صفات کی نفی کرنے والے ہیں ۔

صفحہ 2 از 4