اللہ تعالی کے مخصوص بالقدم اوربالازل ہونے کے عقیدہ پرتبصرہ:…

اللہ تعالی کے مخصوص بالقدم اوربالازل ہونے کے عقیدہ پرتبصرہ:

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 4 از 4
ایک گروہ نے کہا ’’بلکہ صفتِ خلق تو کسی اور خلق کی طرف محتاج نہیں ۔جیسے ان کے نزدیک ساری مخلوق خلق کی محتاج نہیں ۔پس جب ان کے نزدیک حوادث میں سے کوئی شے خلق کی محتاج نہیں ؛ تو وہ خلق جس کے سبب مخلوق عدم سے وجود میں آئے وہ صفت ِخلق کسی دوسرے خلق کی طرف بطریقِ اولیٰ محتاج نہیں ۔ اور یہ بہت سے معتزلہ ،کرامیہ اور محدثین اور صوفیہ کا جواب ہے۔ اور ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ صفتِ خلق اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ: وہ مخلوق کے ساتھ قائم ہیں ۔بعض اس بات کے قائل ہیں کہ یہ صفت بغیر کسی محل کے قائم ہے جس طرح کہ صفتِ ارادہ میں معتزلہ میں سے بصریین کا قول ہے اور ایک گروہ نے تو اپنے ذمہ تسلسل کا الزام لے لیا اور پھر یہ لوگ دو قسم کے ہیں :بعض ایسے معانی کے وجود کے قائل ہیں جن کے لیے آنِ واحد میں کوئی انتہا نہیں ۔یہ ابن عباد اور اس کے اصحاب کا قول ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ وہ دھیرے دھیرے وجو د میں آتے ہیں ۔ یہ بہت سے محدثین اور اہل سنت او رآئمہ فلاسفہ کا قول ہے ۔رہا تسلسل تو بعض لوگوں نے تو اس کا التزام نہیں کیا اور اس نے کہا کہ جس طرح تمہارے ہاں ایسے حوادث ممکن ہیں جو منفصل ہوں اور ان کے لیے کوئی ابتدا نہ ہو(یعنی ازلی ہوں ) ایسے ہی اس کی ذات کیساتھ ایسے حوادث کا قیام بھی جائز ہے جن کے لیے کوئی ابتدا ء نہ ہو اور یہ بہت سے کرامیہ ،مرجئہ اور ہشامیہ کا قول ہے ۔بعضوں نے کہا ’’بلکہ تسلسل آثار میں جائز ہے نہ کہ مؤثرات میں ۔ اور انہوں نے اس بات کا التزام کیاہے کہ اللہ کی ذات کے ساتھ کوئی غیر متناہی دھیرے دھیرے قائم ہو سکتا ہے ۔اور وہ یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ازل سے اپنی مشیت سے متکلم ہیں اور اس کے کلمات (صفات )کے لیے کوئی انتہا نہیں اور یہی محدثین اور بہت سے اہل نظر کا قول ہے اور ’’اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ امور اختیاریہ کا قیام ‘‘اپنے مقام پر تفصیل سے بیان ہوا ہے ۔
پس یہی معتزلہ اوران روافض کا قول ہے جو اس کے ساتھ موافق ہیں اور یہ قولِ باطل ہے اس لیے کہ الہٰ کی صفت کا خود الہٰ ہونا واجب نہیں ،جس طرح نبی کی صفت کا نبی ہونا واجب نہیں ہوتا۔ اگرچہ نبی کی صفت حادث ہونا اس کے ساتھ حدوث میں موافق ہے۔اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اس کے مثل نبی ہو ایسے ہی اللہ تعالیٰ کی صفت جو اس کی ذات کے ساتھ لازم ہے؛ جب اس کی ذات قدیم ہے تو اس کا اس کے قدم کے ساتھ قدیم ہونا بھی لازم نہیں آتا نہ اس کے ساتھ الہٰ ہونا لازم آتا ہے ۔یہ ان لوگوں کا مذہب ایسی صفاتِ کمال کی نفی ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ لازم ہیں ۔ اور ان کا وہ شبہ جس کی طرف اس نے اشارہ کیا وہ یہ ہے کہ اگر یہ صفات قدیم ہوں تو ایک سے زیادہ قدیم ذات ثابت ہو جائیں گے (ایک ذات خداوندی دوسرے اس کے صفات )جس طرح کہ ابن سینا اور ان کے امثال نے کہا ہے۔ابن سینا اور اس کے امثال فلاسفہ نے معتزلہ سے یہ بات لی ہے۔ وہ کہتے ہیں : اگرا للہ کے لیے کوئی صفتِ واجبہ ہو تو پھر واجب ایک سے زیادہ ثابت ہو جائیں گے؛یہ تو تلبیس ہے۔ اس لیے کہ اگر ان کی مرادیہ ہے کہ قدیم الہٰ یا واجب الہٰ ایک سے زیادہ ثابت ہو جائیں گے؛ تو یہ تلازم باطل ہے۔ کیونکہ الہ کی صفت سے الہ ہونا واجب نہیں ہوتا اور نہ ہی انسان کی صفات سے انسان ہونا؛ نبی کی صفت سے نبی ہونا؛ اور حیوان کی صفت سے حیوان ہونا واجب ہوتا ہے۔اگر ان کی مراد یہ ہے کہ صفت کو قدم کے ساتھ موصوف کیا جاتا ہے جس طرح کہ موصوف کو قدم کے ساتھ متصف کیا جاتا ہے ۔تو یہ کسی قائل کے اس قول کی طرح ہے کہ حادث کی صفت کو حدوث کے ساتھ موصوف کیا جاتا ہے۔ جس طرح کہ خود اس کا موصوف یعنی حادث حدوث کے ساتھ موصوف ہے۔ایسے ہی جب کہا جائے کہ اس کی صفت وجوب کے ساتھ متصف ہوتی ہے جس طرح کہ اسکی ذات وجوب کے ساتھ موصوف ہے تو مراد یہ نہیں ہے کہ وہ وجوب یا قدم یا حدوث کے ساتھ مستقلاً موصوف ہے۔ اس لیے کہ صفت تو بذاتِ خود قائم نہیں ہوتی ،نہ مستقل بذاتہ ہوتی ہے؛ لیکن (صفت کے قدم سے )مراد یہ ہے کہ وہ اپنے موصوف کے قدم اور وجوب کے ساتھ قدیم اور واجب ہے۔ اور جب واجب سے مراد ایسی ذات لی جائے جس کے لیے کوئی بھی فاعل نہ ہو اور قدیم سے مراد ایسی ذات لی جائے جس کی کوئی اول نہ ہو تو یہ بات حق ہے اس میں کوئی ممانعت نہیں ۔ اور بتحقیق اس مسئلہ پر تفصیلی کلام کئی مقامات پر ذکر کیا گیا ہے ۔علا وہ ازیں واجب جب الوجود اور قدیم کے لفظ میں ایک اجمال بھی پایا جاتا ہے اورمنکرین صفات کا شبہ بھی ۔ اس میں سے صرف اتنی مختصر بات یہاں ذکر کی گئی ہے جتنی اس مقام پر مناسب تھی اور ایک اور جگہ ہم نے یہ ذکر کیا ہے کہ لفظ ’’قدیم ‘‘اور ’’واجب الوجود ‘‘میں ایک طرح کا اجمال ہے ۔
قدیم سے مراد قائم بنفسہ ہے یا فاعلِ قدیم مراد ہے یا ربِ قدیم اوراس کے امثال تو صفت اس اعتبار سے قدیم نہیں بلکہ وہ تو قدیم کی صفت ہے اور اگر اس سے ایسی ذات مراد لی جائے جس کے لیے کوئی ابتدا (یعنی وہ ازلی ہے )نہیں اور اس پر عدم مطلقاً طاری نہیں ہوتا تو اس کی صفت بھی قدیم ہے ایسے لفظ ’’واجب الوجود ‘‘ سے مراد اگر قائم بنفسہ اور موجود بنفسہ مراد لیا جائے تو پھر صفت واجب نہیں بلکہ وہ تو واجب الوجود ہی کی صفت ہے ۔اگر وہ مراد لیا جائے جس کے لیے کوئی فاعل نہ ہو یا جس کیلئے کوئی علت فاعلہ نہ ہو تو پھر صفت واجب الوجود ہے اور اگر یہ مراد لیا جائے کہ وہ ایسی ذات ہے جس کا غیر کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تو پھر اس اعتبار سے وجود میں کوئی بھی واجب الوجود نہیں رہے گا۔ اس لیے کہ باری تعالیٰ اپنے ماسوا تمام کے لیے خالق ہے؛ پس اس کا اپنے مخلوقات کے ساتھ تعلق ہے۔ اور اس کی ذات اس کی صفات کے ساتھ لازم اور اس کی صفات کااس کی ذات کے ساتھ لزوم ہے۔ اور ان کی تمام صفاتِ لازمہ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں ۔ہم نے یہ واضح کر دیا ہے کہ واجب الوجود پر ممکنات دلالت کرتی ہیں ۔ اور وہ قدیم جس پر حوادث دلالت کرتے ہیں ؛یہ وہی خالق ہے اور بذات خود موجود ہے۔ اور وہی ازل سے ہے اور ہمیشہ رہے گا؛ اور اس پر عدم ممتنع ہے۔ اس لیے کہ رب تعالیٰ پر واجب بذاتہ کہنا اور اس کے تمام ماسوا کو ممکن کہنا یہ ارسطو اور قدمائے فلاسفہ کا قول نہیں ۔لیکن وہ اللہ تعالیٰ کو ’’مبدأ اور علت‘‘ کانام دیتے تھے۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کو حرکت ِ فلکیہ کی جہت سے ثابت کرتے تھے۔ پس وہ کہتے تھے کہ فلک متحرک ہے بوجہ اس کی ذات کے ساتھ تشبہ کے۔پس ابن سینا اور اس کیہمنواؤں نے ان کے اور معتزلہ کے قول سے ایک مرکب مذہب اختیار کیا ۔پس معتزلہ نے جب کہا کہ ہرموجود قدیم اور حادث میں تقسیم ہوتاہے۔ اور بے شک قدیم کے لیے کوئی صفت ثابت نہیں ؛ تو ان لوگوں نے بھی کہا کہ یہ واجب اور ممکن کی طرف منقسم ہے اور واجب کے لیے کوئی صفت ثابت نہیں اور جب انہوں نے کہا کہ قدیم کا تعدد ممتنع ہے تو انہوں نے کہا کہ واجب کا تعدد ممتنع ہے تو گویا تعبیرات کئی ہیں لیکن مرجع اور محل ایک ہے ۔


صفحہ 4 از 4