اللہ تعالیٰ کے لیے لفظ ’’جسم ‘‘ کا استعمال : - ردِ رافضیت |…

اللہ تعالیٰ کے لیے لفظ ’’جسم ‘‘ کا استعمال :

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

[1] أصول الدین لابن طاہر ۳۶۵؛ الکلیات لأبي البقاء ؛مادۃ جوہر؛ الفصل لابن حزم ۵؍۳۲۳۔بہت سے اہل نظر فلاسفہ یہ کہتے ہیں کہ جسم کا مادہ اور صورت سے مرکب ہونا واجب ہے۔ پھربعض فلاسفہ نے تمام اجسا م میں سے اس کو مطرد اور عام کیا ہے؛ جیسے کہ ابن سینا۔ اور بعض کہتے ہیں کہ: یہ صرف اجسام عنصریہ میں سے ہے نہ کہ فلکیہ میں اور اس کا عقیدہ ہے کہ یہ ارسطو اور قدمہ کا قول ہے۔بہت سے مصنفین صرف یہی دو قول ذکر کرتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ جس شخص نے صرف ان کتابوں کا مطالعہ کیاہو ؛ تو اسے صرف انہی دونوں قولوں کوپتہ ہوتا ہے ۔قولِ ثالث : جمہورِ علماء اور اکثر اہل نظر کہتے ہیں کہ وہ مرکب نہیں ۔ نہ اِس سے اور نہ اُس سے۔ اوریہ ابن کلاب ،امام اشعری ،بہت سے کرامیہ ،ہشامیہ ،نجاریہ اور ضراریہ کا قول ہے۔[2]

[2] نجاریہ : ابو عبداللہ حسین بن محمد بن عبداللہ النجار کے پیروکاروں کو کہا جاتاہے۔ اس کی تاریخ پیدائش اور وفات کا علم نہیں ہوسکا۔ البتہ ابن ندیم نے الفہرست میں ص ۷۹ پر لکھا ہے کہ: یہ اس علت کے سبب سے مرا ہے جو نظام کے ساتھ مناظرہ کے دوران اسے لاحق ہوئی تھی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ نظام کا معاصر تھا؛ جو کہ ۲۳۱ ہجری میں گزرا ہے۔ شہرستانی نے اسے مجبرہ میں شمار کیا ہے ؛ ہاں اتنا ضرور ہے کہ وہ خلق اعمال کے عقیدہ میں مثبتین کے ساتھ متفق ہے۔بلکہ کسب اعما ل کے بارے میں بھی اس کا وہی عقیدہ ہے جو بعد میں ابو الحسن اشعری کا تھا۔ دیکھو: مقالات أز اشعری ۱؍۱۹۹۔ أصول الدین لابن طاہر ص ۳۳۴۔ التبصیر فی الدین ۶۲۔ ضراریہ : ضرار بن عمرو کے اتباع کو کہا جاتا ہے۔ لسان المیزان ۳؍ ۲۰۳۔ الفہرست لابن ندیم ۸۰۔ یہ لوگ بہت سارے عقائد میں نجاریہ کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں ۔ یہ لوگ بھی اللہ تعالیٰ کی صفات کے منکرین ہیں ۔ اور خلق افعال العباد کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔ الملل و النحل ۱؍ ۸۲۔ الفرق بین الفرق ۱۳۰۔ أصول الدین لابن طاہر ۳۹۔ مقالات الاسلامیین ۱؍ ۳۱۳۔پھر ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ جسم تقسیم کے ساتھ جزء لا یتجزأ کی طرف منتہی ہو جاتا ہے جیسے کہ شہرستانی اور ان کے علاوہ دیگر کا قول ہے۔ اور بعض کہتے ہیں : وہ غیر متناہی حد تک انقسام کو قبول کرتا ہیحتی کہ وہ ایک انتہائی چھوٹا جسم ہو جائے جس کے بعض کا بعض سے تمیز مستحیل ہو ۔یعنی جدا ہونا محال ہو۔ یہ عقیدہ بعض کرامیہ کا ہے۔

صفحہ 2 از 3