ساتواں بہتان
علی محمد الصلابیروافض کہتے ہیں کہ ’’عائشہ رضی اللہ عنہا نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نماز کی امامت کے لیے آگے کریں۔‘‘
(منہاج الکرامۃ للحلی: 188)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مُرُوْ اَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 664۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 418)
’’تم ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔‘‘
تو لوگوں نے انھیں نماز کے لیے آگے بڑھایا۔ لیکن روافض کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا حکم نہیں دیا۔ بلکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو تمام لوگوں کی امامت کے لیے آگے کرے۔ درحقیقت یہ ان کا روایتی سلسلہ وار جھوٹ ہے۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ان کذابوں کا یہ کہنا کہ بلال جب اذان کہہ چکا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے حکم دیا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھائے! واضح جھوٹ ہے۔ سیدہ عائشہؓ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھانے کا اسے حکم نہیں دیا اور نہ ہی سیدنا بلالؓ نے اس کے کسی حکم کی تعمیل کی۔ بلکہ اس نے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دی۔ تو وہاں موجود سب لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (بلال اور دوسروں کو بھی) فرمایا: ’’تم ابوبکر کو حکم دو تاکہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔‘‘ اور نہ بلال رضی اللہ عنہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ فرمان سنا۔‘‘
(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 8 صفحہ 569)
نیز ان کو یہ بھی کہا جائے گا جو سند تم نے بیان کی ہے کیا اس پر اعتماد کیا جائے گا؟ اور کیا یہ صرف شیعہ کی کتب میں ہے جو سب جھوٹوں سے بڑے جھوٹے ہیں جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال سے نرے جاہل ہیں۔ مزید برآں یہ کلام جہالت اور جھوٹ پر مبنی لگتا ہے جو یہ گمان کرتا ہے کہ ابوبکر نے لوگوں کو صرف یہی نماز پڑھائی اس کے علاوہ کبھی ان کو امامت نہیں کروائی۔ جبکہ اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک مسلسل وہی نمازیں پڑھاتے رہے اور یہ سب کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اور نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت کے ذریعے تھا۔ نمازوں میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت کا فریضہ سر انجام دیتے رہنا صحیح احادیث و سنن اور مسانید میں متعدد طرق سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 664۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 418)
نیز بخاری، مسلم، ابن خزیمہؒ (محمد بن اسحاق بن خزیمہ ابو بکر نیشاپوری۔ حافظ، حجۃ، فقیہ، امام الائمہ، 223 ہجری میں پیدا ہوئے۔ متعدد علوم سیکھے حتیٰ کہ ان کی مثال بیان کی جانے لگی۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’صحیح ابن خزیمۃ‘‘ اور ’’کتاب التوحید‘‘ ہیں۔ 311 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 14 صفحہ 365۔ طبقات الشافعیۃ للسبکی: جلد 3 صفحہ 109۔) اور ابن حبان وغیرہ جیسے صحیح روایات کرنے والے ائمہ نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے حدیث روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور فوراً ہی آپﷺ کی بیماری شدید ہو گئی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تم ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔’’ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اے رسول اللہ! بے شک ابوبکر نرم مزاج ہیں وہ جونہی آپﷺ کی جگہ پر کھڑیں ہوں گے تو وہ لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مُرِیْ اَبَابَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَاِنَّکُنَّ صَوَاحِبُ یُوْسُفَ
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 678۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 420)
’’تم ابوبکر کو حکم دو تاکہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم تو یوسف علیہ السلام کے زمانے کی عورتوں کی طرح ہو۔‘‘
صحیحین میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث موجود ہے کہ
اَنَّہٗ اَوْمَأَ اِلٰی اَبِیْ بَکْرٍ اَنْ یَتَقَدَّمَ فَیُصَلِّیَ بِہِمُ الصَّلَاۃَ الْاٰخِرَۃَ، الَّتِیْ ہِیَ آخِرُ صَلَاۃً صَلَّاہَا الْمُسْلِمُوْنَ فِیْ حَیَاۃِ النَّبِیِّ صلي اللّٰه عليه وسلم
(بخاری: حدیث نمبر: 681۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 419۔ ابن خزیمۃ، حدیث نمبر: 1616۔ ابن حبان: حدیث نمبر: 2120)
’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نماز کے لیے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا کہ وہ انھیں دوسری نماز پڑھائیں جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں مسلمانوں نے آخری نماز پڑھی۔‘‘
اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر کی طرف اشارہ بھی کیا یا تو نماز میں یا نماز سے پہلے۔ معاملے کی ابتداء میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف قاصد بھیجا جنھوں نے انھیں یہ حکم دیا۔ چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم نہیں پہنچایا اور نہ ہی انھوں نے اپنے باپ سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم آپ کو دیا ہے جیسا کہ گمراہ کن رافضی حضرات کا یہ کہنا ہے۔
بلکہ حقیقت اس کے برعکس ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تو بار بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ٹالنے کی کوشش کرتی رہیں اور وہ کوشش کرتی رہیں کہ نماز کی امامت ابوبکر کی بجائے کسی اور کو مل جائے۔ چنانچہ صحیحین میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث موجود ہے کہ میں نے اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ وہ اپنے اس حکم پر نظرثانی کریں اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نظرثانی کرنے کے لیے بار بار صرف اس چیز نے آمادہ کیا کہ میں یہ نہیں چاہتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگ کسی بندے سے صرف اس لیے محبت کریں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم مقام بنا تھا۔ وگرنہ میں یہ بھی جانتی تھی کہ جو آدمی بھی یہ فریضہ سرانجام دے گا لوگ اسے منحوس سمجھیں گے۔ اس لیے میں نے چاہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا یہ حکم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہٹا کر کسی اور کو دے دیں ۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4445۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 418۔ بحوالہ غیر مطبوعہ مقالہ بعنوان امنا عائشۃ ملکۃ العفاف لامین نعمان الصلاحی)