معتزلہ اورروافض کی دلیل پر رد: - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

معتزلہ اورروافض کی دلیل پر رد:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 2
معتزلہ اورروافض کی دلیل پر رد: [اعتراض]:.... شیعہ کا یہ قول کہ: ’’ وَاِلَّا لَکَانَ مُحْدَثًا ‘‘(ورنہ اس کا حادث ہونا لازم آئے گا) مطلب یہ ہے کہ اﷲ کو جسم یا مکان میں محدود تسلیم کرنے سے اس کا حادث ہونا لازم آتا [جواب] :.... ہم اس سے پہلے جسم اور مکان کے معنی کی نفی پر سیر حاصل گفتگو کر چکے ہیں ۔ اور یہ بھی بیان کرچکے ہیں جس چیز کی نفی نہیں کی جاسکتی۔ اگرچہ بعض لوگ جسم اور مکان کانام بھی دیتے ہوں ۔ ہم اس کے قائل سے دریافت کرتے ہیں کہ اس دعویٰ کی دلیل کیا ہے کہ اگر ایسے ہوا تو اس کا حادث ہونا لازم آئے گا....؟آپ نے اس پر کوئی دلیل ذکر نہیں کی۔ گویا تم نے اپنے اسلاف اورمعتزلہ علماء کی اس دلیل پر اکتفا کیا ہے کہ اگر اﷲتعالیٰ جسم ہوگا، تو وہ حرکت و سکون سے خالی نہ ہوگا (ظاہر ہے کہ حرکت و سکون حادث ہیں ) اور جو حوادث سے خالی نہ ہو وہ خود حادث ہوتا ہے، کیونکہ ایسا کوئی حادث نہیں جس کے پہلے کوئی دوسرا حادث نہ ہو۔[حوادث کی کوئی ابتداء نہیں ہوتی]۔معتزلہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر صفات علم و قدرت اور حیات و کلام کا قیام ذات باری کے ساتھ تسلیم کیا جائے تو اس سے اس کا جسم[حادث] ہونا لازم آئے گا۔ اس دلیل کے دو جواب ہیں ۔ پہلا جواب: تم اﷲ تعالیٰ کو حي اور علیم و قدیر قرار دیتے ہو اور اس کے باوصف تمہارے نزدیک اس کا مجسم ہونا لازم نہیں آتا۔ حالانکہ جو حیّ اور عالم و قادر ہو وہ تمہارے نزدیک جسم ہوتا ہے۔ اگر تمہاری بات کو تسلیم کر لیا جائے تو یہ ممکن ہوگا کہ اﷲ تعالیٰ صفت علم قدرت اور حیات سے موصوف ہو وہ اس خاک دان ارضی سے مبائن اور اس کے اوپر ہو اور اس کے باوصف جسمانیت سے پاک ہو۔ اگر شیعہ یہ کہے کہ: جو مخلوقات سے جدا اور عالم ارضی کے اوپر ہو اس کا مجسم ہونا ضروری ہے۔‘‘ تو ہم کہتے ہیں کہ: علیم و قدیر اور حیّ کا تعقل بھی جسمانیت کے بغیر ممکن نہیں ۔ اور اگر یہ ممکن ہو کہ ان اسماء کا مسمیٰ جسم نہ ہو؛ تو پھر یہ بھی ممکن ہے کہ ان صفات سے متصف جسمانیت سے پاک ہو۔ اگر ایسا نہیں تو پھر آپ کی دلیل میں بھی کوئی وزن نہیں ۔ اس لیے کہ اسم صفت کو مستلزم ہوتا ہے۔اور ایسے ہی اگر وہ یہ کہے کہ اگر وہ عالم کے اوپرہے تو پھر وہ جسم ہے پھر اس کے کئی احوال ہیں یا تو یہ وہ عالم سے اکبر ہوگا یا اصغر ہوگا یا مساوی ہوگا اور یہ سب کے سب ممتنع ہیں ۔تو اس کاجواب یہ ہے کہ بہت سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ عالم سے اوپر اور بالا ہے۔ اور پھر بھی وہ جسم نہیں ۔پھر اگر وہ نفی کرنے والے یہ کہیں کہ ان لوگوں کے قول کا فساد نری عقل سے معلوم ہے۔تو جواب میں کہا جا سکتا ہے : تمہارا عقیدہ ہے کہ وہ موجود ،قائم بنفسہ ہے اور وہ عالم میں داخل نہیں ہے۔ اور نہ خارج ہے اور نہ اس کے مبائن ؛ اور نہ عالم میں سے کوئی شے اس کے قریب ہے اور نہ اس سے بعید ہے ۔ اور نہ اس کی طرف اوپر جا سکتی ہے اور نہ اس سے نیچے کوئی شے آسکتی ہے۔ اور اس کے امثال نفی کی وہ تعبیرات جن کو اگرکسی فطرت سلیمہ والے پر پیش کیا جائے تو ہ قطعیت کے ساتھ اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ یہ سب کچھ باطل ہے اور ان جیسے امور ممتنع ہیں اور فطرتِ سلیمہ کا ان امور کے بطلان پر جزم اور یقین اللہ تعالیٰ کے عالم کے فوق ہونے اوراس سے جسمیت کی نفی کے بطلان سے بھی زیادہ اقویٰ ہے۔ اگر فطرتِ سلیمہ کا فیصلہ قبول ہے تو پھر تو تیرے مذہب کا بطلان بھی واجب ہے پس یہ امر لازم آیاکہ اللہ تعالیٰ کی ذات عالم سے فوق ہے اور اگر فطرتِ سلیمہ کا فیصلہ مردود ہے توپھر تیرا اس شخص کے قول کو رد کرنا بھی باطل ہے جو یہ کہتا ہے کہ اللہ کی ذات عالم سے اوپر ہے ،وہ جسم نہیں اس لیے کہ اس امر کے امتناع کا فیصلہ کرنے والی فطرت بعینہ اس دوسرے امر کے امتناع کا بھی فیصلہ کر رہی ہے پس فطرت سلیمہ کا فیصلہ دو امور میں سے ایک کے بارے میں قبول کرنا اور دوسرے کو رد کرنا یہ ممتنع ہو۔
صفحہ 1 از 2