نواں بہتان
علی محمد الصلابیوہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر نوحہ کیا۔
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وفات پائی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس پر نوحہ کروایا۔ اسی وقت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آئے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر ان عورتوں کو رونے سے منع کیا۔ انھوں نے رکنے سے انکار کر دیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے ہشام بن ولید سے کہا، تم گھر کے اندر جاؤ اور ابو قحافہ کی بیٹی یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بہن کو میرے پاس لے آؤ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی یہ بات سنی تو ہشام سے کہا: میں اپنے گھر میں تمہارا آنا گناہ سمجھتی ہوں۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہشام سے کہا: تم اندر چلے جاؤ میں تمھیں اجازت دیتا ہوں۔ ہشام اندر گیا اور ابوبکر کی بہن ام فروہ کو عمر کے پاس لے آیا۔ عمر نے اسے درے سے مارا، جب بین کرنے والیوں نے اسے درے لگنے کی آواز سنی تو وہ منتشر ہو گئیں۔
جواب: یہ اثر ضعیف ہے۔ ابن مسیب کی مراسیل میں سے ایک ہے۔ اسے طبری نے یونس بن عبدالاعلیٰ صدفی سے روایت کیا۔ اس نے کہا ہمیں ابن وہب نے خبر دی اس نے کہا ہمیں یونس بن یزید نے ابن شہاب زہری کے واسطے سے خبر دی، اس نے کہا: مجھے سعید بن مسیب نے حدیث سنائی،۔۔۔۔ طویل حدیث ہے۔
(تاریخ الطبری: جلد 3 صفحہ 423۔)