Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دسواں بہتان

  علی محمد الصلابی

اہل تشیع کہتے ہیں: عائشہ بناؤ سنگھار کر کے گھر سے باہر جاتی تھی۔ اس کے لیے انھوں نے ایک جھوٹی حدیث کا سہارا لیا۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ سے فرمایا: اے حمیراء! تو نے میرے حکم کی شدید مخالفت کی اور اللہ کی قسم! تو نے یقیناً میرے اس فرمان کی مخالفت کی اور اس کی نافرمانی کی اور تو بناؤ سنگھار کر کے گھر سے باہر چلی گئی۔

( یہ حدیث ارشاد القلوب للدیلمی اور کشف الیقین للحلی میں موجود ہے۔)

جواب: اس حدیث کی سند ہی نہیں اور ارشاد القلوب الی الصواب حسن بن ابی الحسن دیلمی (حسن بن محمد ابو محمد دیلمی شیعہ واعظ تھا اس کی تصنیفات میں سے ’’ارشاد القلوب الی الصواب‘‘ اور ’’غرر الاخبار و درر الآثار‘‘ مشہور ہیں۔ (ہدیۃ العارفین لاسماعیل پاشا: جلد 5 صفحہ 287)  نے تصنیف کی یہ آٹھویں صدی میں رہا۔ یہ مذہب کا غالی شیعہ تھا۔ جیسا کہ اسماعیل پاشا (اسماعیل بن محمد بن میر سلیم البابانی البغدادی عالم، فاضل، ادیب، مورخ، مصنف ہے۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’ہدیۃ العارفین‘‘ و ’’ایضاح المکنون فی الذیل علی کشف الظنون‘‘ ہیں۔ 1339 ہجری میں وفات پائی۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 1 صفحہ 326)  نے ’’ہدیۃ العارفین‘‘ اور ’’ایضاح المکنون‘‘ میں لکھا، شاید یہ غالی شیعہ تھا، چنانچہ اس کی یہ روایت تمام قیاسات و قواعد کے مطابق کتاب و سنت کی مخالف ہے۔

(ایضاح المکنون فی الذیل علی کشف الظنون: جلد 1 صفحہ 62)

رہی کتاب ’’کشف الیقین‘‘ تو یہ ابن مطہر حلی کی ہے، ابو المنصور حسن بن یوسف امامی شیعہ اس کا مصنف ہے۔

(ایضاح المکنون لاسماعیل باشا: جلد 1 صفحہ 10)

726 ہجری میں فوت ہوا یہ بھی ایک غالی و فاسد العقیدہ شیعہ تھا۔ جس کا اس کی امامی مذہب کے متعلق تصنیفات اور منطق و کلام پر تحریرات سے بخوبی پتا چلتا ہے۔

(اس کی تصانیف ’’التناسب بین الاشعریۃ و السوفسطائیۃ‘‘ و ’’الجوہر النضید فی شرح التجرید فی المنطق۔‘‘ و ’’الحادی عشر فی علم الکلام‘‘ و ’’مختلف الشیعۃ فی احکام الشریعۃ‘‘ و ’’منہاج الاستقامۃ فی اثبات الامامۃ‘‘ و ’’الدلائل البرہانیۃ فی تصحیح الحضرۃ الغرویۃ‘‘ ہیں۔)

]