گیارہواں بہتان
علی محمد الصلابیاہل تشیع کہتے ہیں:’’ ابن عباس نے عائشہ کی مذمت میں مشہور اشعار کہے ہیں جو درج ذیل ہیں:
تَجَمَّلْتِ تَبَغَّلْتِ
وَ لَوْ عِشْتِ تَفَیَّلْتِ
لَکِ التُّسْعُ مِنَ الثُّمُنِ
وَ بِالْکُلِّ تَصَرَّفْتِ
’’تو اونٹنی پر سوار ہوئی پھر خچر پر سوار ہوئی اور اگر تو زندہ رہی تو ہاتھی پر ضرور سوار ہو گی، تو نے سارے ترکے پر قبضہ کر لیا ہے حالانکہ تیرا حق الثمن (آٹھویں حصہ) میں سے التسع (نواں حصہ) ہے۔‘‘
جواب: ان دونوں شعروں کی رکاکت اسلوب کو دیکھ کر ہی انداز ہو جاتا ہے کہ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول نہیں، پھر اس نے اپنی وفات سے پہلے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق جو کچھ کہا وہ ان شعروں کے منافی ہے۔ جس کی تفصیل ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے ضمن میں تحریر کر آئے ہیں ۔
(گزشتہ صفحات کا مطالعہ کریں)
جب ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خوارج سے مباحثہ کیا جن کے خلاف علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے قتال کیا تو ان کے خلاف یہ دلیل پیش کی ’’اور رہی تمہاری یہ بات کہ اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خلاف (جنگ جمل) میں قتال تو کیا لیکن نہ تو کسی کو قیدی بنایا اور نہ مال غنیمت حاصل کیا۔ (سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا:) کیا تم اپنی والدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو قیدی بناؤ گے۔ تم اس کی وہی چیز حلال کر لو گے جو چیز تم اس کے علاوہ سے حلال کرتے ہو۔ جبکہ وہ تمہاری ماں ہے؟ (چنانچہ ابن عباسؓ نے اس قول علی رضی اللہ عنہ سے استدلال کرتے ہوئے کہا:) اگر تم کہو: بے شک ہم اس سے بھی وہ سب کچھ حلال سمجھتے ہیں جو دوسری عورتوں سے حلال سمجھتے ہیں تو تم اس قول کی بدولت کافر ہو جاؤ گے اور اگر تم یہ کہو کہ کہ وہ تمہاری ماں نہیں تو پھر بھی تم کافر ہو جاؤ گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَلنَّبِىُّ اَوۡلٰى بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِهِمۡ وَاَزۡوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمۡ (سورۃ الأحزاب آیت 6)
ترجمہ: ’’یہ نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھنے والا ہے اور اس کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔‘‘
گویا تم دو گمراہیوں میں پھنس چکے ہو۔ تم ان دونوں سے نکل کر دکھاؤ۔ کیا میں تمہارے اس شبہ سے نکل گیا ہوں۔ انھوں نے کہا: ہاں۔
(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)