Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بارہواں بہتان

  علی محمد الصلابی

وہ کہتے ہیں کہ ’’سیدہ عائشہؓ بدصورت کالی سیاہ تھیں۔‘‘

عباد بن عوام نے کہا: میں نے سہیل بن ذکوان سے پوچھا، کیا تو نے عائشہ دیکھی؟ اس نے کہا: ہاں۔ میں نے اسے کہا: میرے لیے اس کے اوصاف بیان کرو۔ اس نے کہا: وہ سیاہی مائل تھی۔

(التاریخ الکبیر للبخاری: جلد 4 صفحہ 104۔ میزان الاعتدال للذہبی: جلد 2 صفحہ 243)

الادمۃ کا معنی السمرۃ ہے اور لوگوں میں سے الآدم اسے کہتے ہیں جو گندمی رنگ (پختہ رنگ) ہو۔  (مختار الصحاح للرازی: صفحہ 10)

اس بہتان کا جواب

یہ روایت اہل تراجم نے مذکورہ سہیل بن ذکوان کے تعارف کے ضمن میں تحریر کی۔

(التاریخ الکبیر للبخاری: جلد 4 صفحہ 104۔ الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی: جلد 4 صفحہ 521۔ میزان الاعتدال للذہبی: جلد 2 صفحہ 243)

اہل جرح و تعدیل کا یہ اسلوب ہے کہ وہ ضعیف یا متروک راوی کے حالات کے ضمن میں اس کے ضعف کی دلیل کے طور پر اس کی روایت کردہ کچھ ضعیف روایات بھی لکھ دیتے ہیں تو یہ مذکورہ روایت بھی سہیل بن ذکوان کے ضعف کی دلیل ہے۔ اسی طرح سہیل بن ذکوان سے جس راوی نے یہ روایت لی اس نے بھی اس کی کذب بیانی کی وضاحت کی اور وہ عباد ہے۔ اس نے کہا: ہم اس پر جھوٹ کی تہمت لگاتے تھے۔

(التاریخ الکبیر للبخاری: جلد 4 صفحہ 104)

اس میں کوئی شک نہیں کہ راوی جس سے روایت کرتا ہے وہ اس کے احوال دوسروں سے زیادہ جانتا ہے۔

یحییٰ بن معین نے کہا: ’’وہ کذاب ہے۔‘‘

(الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی: جلد 1 صفحہ 54)

امام مسلم،(الکنی و الاسماء لمسلم: جلد 1 صفحہ 572) نسائی (نسائی ’’الضعفاء و المتروکین ‘‘ للنسائی: جلد 1 صفحہ 54 ) اور ذہبی (میزان الاعتدال للذہبی: جلد 2 صفحہ 242) نے اسے متروک کہا ہے۔ ابو داؤد نے کہا: یہ کوئی چیز نہیں یعنی غیر معتبر ہے۔ 

(لسان المیزان لابن حجر: جلد 4 صفحہ 210)

ابن عدی نے کہا، یہ سہیل بن ذکوان اگرچہ جھوٹ کی طرف منسوب ہے، تاہم یہ احادیث کثیرہ کا راوی نہیں۔ لوگوں نے اسے اس کی زیادہ روایات کی نسبت سے جھوٹا نہیں کہا۔ کیونکہ اس کی روایات قلیل ہیں بلکہ علماء نے اس کے جھوٹ کی وضاحت کے لیے اس کی وہ روایات بیان کی ہیں۔ جیسے ہم نے بیان کیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیاہ رنگ کی تھیں اور ابراہیم نخعی کی آنکھیں بڑی تھیں۔ حالانکہ عائشہ گوری رنگت کی تھیں اور ابراہیم نخعی کانا تھا، تو وہ جس قدر روایت کرتا ہے۔ اس قدر ہی ضعیف ہے۔

(الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی: جلد 4 صفحہ 522)

ابن حبان نے کہا: ’’وہ شیوخ کو دیکھنے اور ان سے روایات لینے کا دعوے دار تھا حالانکہ اس نے ان کو دیکھا تک نہ تھا، پھر بھی وہ ان سے روایت کرتا تھا۔‘‘

(المجروحین لابن حبان: جلد 1 صفحہ 353)

ابن مدینی نے کہا: ہمیں محمد بن حسن واسطی نے سہیل بن ذکوان کے واسطے سے حدیث سنائی۔ اس نے کہا میں واسط میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملا۔۔۔ انتہیٰ۔‘‘

جھوٹ ایسا ہی ہوتا ہے کیونکہ حجاج کے واسط شہر کا منصوبہ بنانے سے ایک طویل زمانہ پہلے عائشہ فوت ہو چکی تھیں۔

(لسان المیزان لابن حجر: جلد 3 صفحہ 125)

اس مقام پر متاخرین میں سے بیشتر کذاب لوگوں کے تذکرہ سے ہم صرف نظر کرتے ہیں، اس لیے کہ جن کے پاس علم و عقل اور ایمان کی رتی بھر بھی ہو گی وہ بخوبی سمجھ لے گا کہ یہ روایات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر موضوع و مکذوب ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک دامن بیوی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ان الزامات سے بری ہیں اور اگر کوئی بیان کرنے والا ان جھوٹی روایات کو اکٹھا کر کے ان کو ردّ کرنے لگے تو اس کی تو عمر ہی اس کام میں لگ جائے۔ چنانچہ ابن العربی رحمہ اللہ نے کہا: زمانہ جاہلیت کی موشگافیوں کا پیچھا نہیں کرتا، کیونکہ یہ لامحدود ہیں۔

(العواصم من القواصم لابن العربی: صفحہ 79)

ہم قارئین کرام سے معذرت کرتے ہوئے ان روایات میں سے صرف ایک روایت تحریر کر کے اس باب کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔