بے حیائی پر مبنی ایک روایت
علی محمد الصلابیروافض کا کہنا ہے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر کیا میرے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی خادم نہیں تھا اور آپ کے پاس صرف ایک لحاف تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عائشہ بھی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے اور عائشہ کے درمیان سوتے تھے۔ ہم تینوں کے اوپر اس کے علاوہ کوئی لحاف نہیں ہوتا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد کے لیے اٹھ جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے اور عائشہ کے درمیان اپنے ہاتھ سے لحاف رکھ دیتے حتیٰ کہ لحاف ہمارے نیچے بچھے ہوئے بستر کے ساتھ لگ جاتا۔
(بحار الانوار للمجلسی: جلد 2 صفحہ 40)
اس طرح کے جھوٹ صرف وہی بنا سکتا ہے جس کا نہ کوئی اخلاق ہے نہ کوئی عہد ۔ نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس کے پاس کوئی غیرت، شرم و حیا ہے اور نہ کوئی حرمت و احترام ہے۔ اللہ تعالیٰ جھوٹوں پر لعنت کرے۔ یہ جھوٹ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر سب سے زیادہ اذیت ناک تیر ہے۔ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیوی کے معاملے میں کوئی غیرت نہیں تھی۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَیْرَۃِ سَعْدٍ لَأَنَا أَغْیَرُ مِنْہُ وَاللّٰہُ أَغْیَرُ مِنِّی۔
’’کیا تم لوگوں کو سعد کی غیرت پر تعجب ہوتا ہے یقیناً میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ عزوجل مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے (جس نے یہ قانون بنایا)۔‘‘
(صحیح بخاری: جلد 5 صفحہ 2001)
اس روایت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر بھی طعن ہے کہ اللہ تعالیٰ سے بے خوف ہو کر ایک غیر محرم کے ساتھ سوتا رہا اور یہ جھوٹ گھڑنے والوں پر بھی یہ طعن ہے اور ان کی عقلوں پر بھی پردہ پڑ گیا ہے کہ ان کی حماقت کس درجہ تک پہنچ گئی کہ وہ اپنے امام کے متعلق ایسی اوٹ پٹانگ ہانک رہے ہیں۔