سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق ہیجان انگیز شبہات
علی محمد الصلابیشبہات کے جال میں پھنسنے سے احتیاط لازم ہے۔اس سے پہلے کہ ہم اصل موضوع پر بات کریں شبہ کی تعریف کرتے ہیں: لغت میں شبہ کا معنیٰ التباس و اختلاط ہے۔ کہا جاتا ہے فلاں پر وہ معاملہ مشتبہ یعنی مشکوک ہو گیا اور خلط ملط ہو گیا۔ اس کی جمع شُبَہ اور شُبُہَات ہے۔
(تہذیب اللغۃ للازہری: جلد 6 صفحہ 59۔ لسان العرب لابن منظور: جلد 13 صفحہ 503۔ تاج العروس للزبیدی: صفحہ 257)
اصطلاح میں حق کے ساتھ باطل کا مل جانا اور اس طرح خلط ملط ہو جانا کہ دونوں میں تمیز کرنا مشکل ہو جائے۔
(التعریفات للجرجانی: صفحہ 124۔ انیس الفقہاء للقونوی: صفحہ 105۔ معجم لغۃ الفقہاء لمحمد قلعجی و حامد قتیبی: صفحہ 257)
بعض نے کہا، وہ جو ثابت جیسا لگے لیکن ثابت نہ ہو۔
(بدائع الصنائع للکاشانی: جلد 7 صفحہ 36۔ درر الاحکام لملاخسرو: جلد 2 صفحہ 64۔ الدر المختار لابن عابدین: جلد 4 صفحہ 23۔ الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ، 24، 25)
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے شبہ کی یوں تعریف کی ہے: ’’شبہ اس وسوسے کو کہتے ہیں جو دل میں پڑ جاتا ہے اور وہ دل و انکشاف حق کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔‘‘
(مفتاح دار السعادۃ لابن القیم: جلد 1 صفحہ 140)
دلوں میں پڑنے والے شبہات فتنوں کی دو کی دو اقسام میں سے ایک ہے۔ چونکہ دل میں دو قسم کے فتنے پڑتے ہیں: 1۔ فتنہ الشبہ اور 2۔ فتنہ الشہوہ۔
البتہ فتنۂ شہوت زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ یہ جب دل میں گھس جاتا ہے تو بہت کم ہی کوئی اس سے نجات حاصل کرتا ہے۔
اس کے متعلق علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’دل پر باطل کے دو قسم کے لشکر حملہ آور ہوتے ہیں:
1۔ سرکش شہوات کا لشکر
2۔ باطل شبہات کا لشکر
جو دل بھی ان میں سے کسی طرف متوجہ ہو جائے اور اس کی طرف مائل ہو جائے اسے اپنے اندر جگہ دے دیتا ہے، پھر اس سے لبریز ہو جاتا ہے۔ پھر اس فتنہ کے موجبات اس کی زبان اور دیگر اعضاء کی طرف سرایت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
اگر دل میں باطل شبہات جگہ بنا لیں تو اس کی زبان سے شکوک و شبہات اور وسوسے پھوٹنے لگتے ہیں اور جاہل سن کر یہ گمان کرنے لگتا ہے کہ یہ اس کے وسعت علم کی دلیل ہے، حالانکہ یہ تو اس کی کم علمی اور عدم یقین کے سبب ہوتا ہے۔‘‘
(مفتاح دار السعادۃ لابن القیم: جلد 1 صفحہ 140)
نیز ابن قیم رحمہ اللہ نے لکھا:
’’شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے مجھے کہا: ’’جب تیرے دل پر مسلسل وسوسے پڑنا شروع ہو جائیں تو اپنے دل کو اسفنج کی طرح نہ بنا کہ وہ ہر قسم کے وساوس اور شبہات کو اپنے اندر جذب کرے اور اس سے پورے بدن میں وہی وسوسے سرایت کریں۔ لیکن تو اپنے دل کو صاف شفاف اور ٹھوس شیشے کی طرح بنا لے، اس کے اوپر سے شبہات گزرتے رہیں لیکن اس میں گھس نہ سکیں۔ تمہارا دل اپنی صفائی کی وجہ سے انھیں دیکھ ضرور لے لیکن اپنی مضبوطی کی وجہ سے انھیں اپنے آپ سے دُور رکھے، وگرنہ جب تو نے اپنے دل پر آنے والے ہر شبہ کو دل میں ڈال لیا تو وہ شبہات کے ٹھہرنے کی جگہ بن جائے گا۔ جیسا کہ اس نے کہا: میں نے شبہات سے بچنے کے لیے جس قدر اپنے استاد کی وصیت پر عمل کر کے فائدہ حاصل کیا مجھے نہیں پتا کہ اس ضمن میں میں نے کسی اور طریقے سے اتنا فائدہ حاصل کیا ہو۔‘‘
(مفتاح دار السعادۃ لابن القیم: جلد 1 صفحہ 140)
جب شبہات اس قدر خطرناک ہیں تو سلف صالحین بھی ان سے دُور رہنے کی تمنا کرتے تھے اور ان مجالس سے بچنے کی تلقین کرتے تھے جہاں شبہات کی گھٹائیں چھاتی تھیں۔ امام عبداللہ بن احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہا: خواہشات کے دو پیروکار محمد بن سیرین کے پاس آئے۔ ان دونوں نے کہا: اے ابوبکر! ہم تجھے ایک حدیث سنائیں گے۔ اس نے کہا: مجھے مت سناؤ۔ ان دونوں نے کہا: ’’ہم تیرے سامنے کتاب اللہ کی ایک آیت پڑھتے ہیں۔ اس نے کہا، تم مت پڑھو۔ تم میرے پاس سے اٹھو گے یا میں اٹھ جاؤں۔ بقول راوی وہ دونوں چلے گئے۔ کسی نے کہا: اے ابوبکر اس میں کیا حرج تھا اگر وہ تجھ پر کتاب اللہ سے کوئی آیت پڑھتے۔ تو محمد بن سیرین نے کہا: مجھے یہ اندیشہ تھا کہ وہ دونوں مجھ پر کوئی آیت پڑھ کر اس میں تحریف کریں گے تو وہ میرے دل میں راسخ ہو جائے گی۔
(السنۃ لعبد اللہ بن احمد ابن حنبل: جلد 1 صفحہ 133۔ القدر للفریابی: صفحہ 215)
اس لیے ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اپنے دین کو شبہات سے بچائے اور ان کی سماعت سے بھی پرہیز کرے اور نہ ایسی مجالس میں جائے جہاں شبہات پیدا کیے جاتے ہیں، کیونکہ فتنوں کے مقامات سے دُور رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ خصوصاً شبہات کے فتنوں سے کیونکہ شبہ حق کو دل سے نوچ لیتا ہے اور دشمنان دین شب و روز دین اور دین داروں سے مکر و فریب کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں اور ان کی گہری سازش مسلمانوں کے دلوں میں شبہات پیدا کرنا ہے تاکہ سادہ لوح، کم علم اور کم بصیرت والے مسلمانوں کو بآسانی شکار بنا سکیں۔ کیونکہ شبہ کا سبب دو میں سے ایک ضرور ہوتا ہے:
1۔ قلت علم
2۔ ضعف بصیرت
البتہ جو شخص علم و بصیرت میں راسخ ہو وہ شبہات سے نجات پا لے گا اور جو لوگ شبہات کی وجہ سے معروف ہیں اور جنھوں نے ان میں تخصص کیا ہوا ہے وہ رافضی ہیں چونکہ وہ گھٹیا ترین شبہات کے تانے بانے بنتے ہیں تاکہ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر زبان طعن و تشنیع دراز کریں اور امہات المؤمنینؓ خصوصاً عائشہ رضی اللہ عنہما ان کی توجہ کا مرکز ہے۔ چنانچہ وہ ان نفوس قدسیہ کے بارے میں بہت زیادہ شبہات پیدا کرتے ہیں اور ان کی طرف اپنے زہریلے تیر ہر وقت پھینکتے رہتے ہیں، لیکن ہر زمانے میں علماء اہل سنت ان کی گھات اور تاک میں رہتے ہیں۔ چنانچہ وہ ان کے فریب اور سازش کو پہچان چکے ہیں اور ان کے معاملے کی چھان پھٹک کر کے ان کا کچا چٹھا کھول چکے ہیں۔ جہاں بھی کوئی چھوٹا یا بڑا شبہ سر نکالتا ہے وہیں اہل سنت کا کوئی نہ کوئی سپوت بڑھ کر اس کا سر کچل دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يُّطۡفِـئُــوۡا نُوۡرَ اللّٰهِ بِاَ فۡوَاهِهِمۡ وَيَاۡبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنۡ يُّتِمَّ نُوۡرَهٗ وَلَوۡ كَرِهَ الۡـكٰفِرُوۡنَ ۞ (سورۃ التوبة آیت 32)
ترجمہ: یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں، حالانکہ اللہ کو اپنے نور کی تکمیل کے سوا ہر بات نامنظور ہے، چاہے کافروں کو یہ بات کتنی بری لگے۔
آئندہ مباحث میں رافضیوں کے مشہور شبہات اور ان کا ردّ کیا جائے گا اور ان کے بطلان کی وضاحت کی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
بَلۡ نَـقۡذِفُ بِالۡحَـقِّ عَلَى الۡبَاطِلِ فَيَدۡمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ وَلَـكُمُ الۡوَيۡلُ مِمَّا تَصِفُوۡنَ ۞ (سورۃ الأنبياء آیت 18)
ترجمہ: بلکہ ہم تو حق بات کو باطل پر کھینچ مارتے ہیں، جو اس کا سر توڑ ڈالتا ہے، اور وہ ایک دم مل یا میٹ ہوجاتا ہے۔ اور جو باتیں تم بنا رہے ہو، ان کی وجہ سے خرابی تمہاری ہی ہے۔