Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عام شبہات اور ان کا رد

  علی محمد الصلابی

پہلا مطلب: ان شبہات کا تذکرہ جو بالذات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو نشانہ بناتے ہیں 

پہلا شبہ:

اہل روافض کا یہ کہنا کہ ’’عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدسلوکی کرتی تھیں۔‘‘

تیجانی کہتا ہے:

’’عائشہ اکثر طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدسلوکی کرتی تھیں۔ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر آلود لقمے کھلائے۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم رؤوف رحیم تھے اور آپﷺ بلند اخلاق کے مالک تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبر عظیم سے متصف تھے۔ اکثر طور پر آپ انھیں کہتے: ’’اے عائشہ! تجھ پر تیرا شیطان غالب آ گیا ہے۔‘‘ عموماً آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائشہ کو دی جانے والی وعید سے گھبرا جاتے۔‘‘

(فاسئلوا اہل الذکر لِمحمد التیجانی: صفحہ 75)

اس شبہ کا ازالہ:

تیجانی کا یہ کہنا کہ ’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اکثر اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدسلوکی کرتی تھیں ‘‘بہت بڑا جھوٹ ہے۔ اہل سنت کی کتابیں اس پر گواہ ہیں، جن میں یہ وضاحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سب لوگوں سے زیادہ محبوب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)

اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے لیے تحائف صرف اس وقت لاتے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ہوتے۔

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیگر امہات المؤمنینؓ کے پاس ایک ایک رات رہتے لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آپ دو راتیں بسر کرتے۔ جہاں تک کتب شیعہ کی بات ہے تو وہ غیر معتمد علیہ ہیں، کیونکہ وہ جھوٹ کا پلندہ ہیں اور ان کے جھوٹا ہونے کی بہترین مثال زیر بحث کتاب اور اس مصنف کی دیگر کتابیں بھی جھوٹے رافضیوں کی پیشانی کا جھومر ہیں۔ اسی طرح مصنف کا یہ کہنا کہ اکثر مواقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو کہتے تم پر تمہارا شیطان غالب آ گیا ہے اور اکثر طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی وعیدوں پر مایوس اور غم زدہ ہو جاتے۔ تمام کا تمام جھوٹ ہے، جھوٹ بولنے والا ذرہ بھر نہیں شرماتا۔

(کشف الجانی محمد التیجانی: لعثمان الخمیس: صفحہ 131)

تیجانی نے اپنے درج بالا قول کے ذریعے سے صحیح مسلم کی اس روایت کی طرف اشارہ کیا ہے جو عروہ بن زبیر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے یہ حدیث سنائی کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر سے باہر چل پڑے، وہ کہتی ہیں کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں غیرت نے آلیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو آپ نے دیکھا میں کیا کر رہی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے عائشہ! تجھے کیا ہوا ہے؟ کیا تجھے غیرت آ گئی۔‘‘ میں نے کہا: مجھے کیا ہوا ہے کہ مجھ جیسی آپ جیسے پر غیرت نہ کھائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لگتا ہے تیرا شیطان تیرے پاس آ گیا ہے۔‘‘ سیّدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا شیطان میرے ساتھ ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں۔‘‘ میں نے کہا: کیا ہر انسان کے ساتھ ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں۔‘‘ میں نے کہا: اے رسول اللہ! اور آپ کے ساتھ بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ہاں! لیکن میرے رب نے اس کے خلاف میری مدد کی حتیٰ کہ میں محفوظ ہو گیا یا وہ مسلمان ہو گیا۔‘‘

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)

یہ حدیث مختلف الفاظ سے مروی ہے لیکن زیادہ تر صحیح نہیں ہیں۔

(علل الدارقطنی: جلد 14 صفحہ 414۔ التلخیص لابن حجر: جلد 1 صفحہ 338)

سیاق حدیث سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی تنقیص و تنقید کا کوئی پہلو نہیں نکلتا۔ کیونکہ حدیث کی مناسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں آپ کی بیوی کی غیرت ظاہر ہوتی ہے۔ جان بوجھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دینا مقصود نہیں جس طرح کہ تیجانی جھوٹ بولتا ہے۔ بلکہ یہ غیرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شدت محبت کے نتیجے میں ظاہر ہوئی۔ کیونکہ وہ یہ بھی تصور نہیں کر سکتی تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی اور بیوی اس کی محبت میں حصہ دار بنے۔

(حیاۃ عائشۃ ام المومنین لمحمود شلبی: صفحہ 406)

ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بشریت سے علیحدہ کرنے کے دعوے دار نہیں اور انھیں عورتوں کی فطرت سے بلند بھی نہیں سمجھتے۔ وہ اس معاملے میں اپنے جیسی دیگر عورتوں کی طرح ہی ہیں اور یہ بھی نہیں کہ ان کی فطری غیرت تمام حدود سے متجاوز تھی۔ نہیں، بلکہ وہ دین و عدل کے قواعد کے تقاضوں سے اپنی غیرت کو بڑھنے نہیں دیتی تھی اور شاید ہمارے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا اپنی سوکنوں کے ساتھ حسن سلوک اور کامل اتفاق سے رہنے کی مختلف عمدہ صورتیں زیر بحث مسئلہ کو واضح کر دیں جو ہمیں تاریخ و سیر و حدیث کی کتابوں میں ملتی ہیں اور ان سب نے اپنے خاوند صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش رکھنے کے لیے اپنے آپ کو بھلا دیا تھا۔

(تراجم سیدات بیت النبوۃ لعائشۃ بنت الشاطیٔ: صفحہ 292)