ان شبہات کا تذکرہ جو بالذات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی…

ان شبہات کا تذکرہ جو بالذات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو نشانہ بناتے ہیں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

وہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کی۔

جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم! میرے خیال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رب آپ کی خواہش کی بہت جلد تکمیل کرتا ہے۔ رافضی اپنے سابقہ قول کی طرح کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخ تھیں اور جب انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میں تو سمجھتی ہوں کہ آپ کا رب آپ کی خواہش کی تکمیل کرنے میں جلدی کرتا ہے۔ اس پر تعلیق چڑھاتے ہوئے مرتضیٰ عسکری شیعی لکھتا ہے: اس قول کے ذریعے سے وحی کے منبع پر تنقید کی گئی ہے۔ گویا وحی کا منبع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش ہے۔ اللہ کی پناہ! بلکہ یہ تنقید تو وحی لانے والے پر بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی شان اس سے بہت بلند ہے۔

(احادیث ام المومنین عائشۃ لمرتضی العسکری: صفحہ 50)

اس شبہے کا ازالہ:

ہماری امی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول ثابت ہے کہ مجھے ان عورتوں کی وجہ سے بہت غیرت آتی تھی جو اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کر دیتی تھیں، تو میں کہتی تھی کیا کوئی عورت اپنے آپ کو ہبہ کر سکتی ہے؟ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

تُرۡجِىۡ مَنۡ تَشَآءُ مِنۡهُنَّ وَتُــئْوِىۡۤ اِلَيۡكَ مَنۡ تَشَآءُ وَمَنِ ابۡتَغَيۡتَ مِمَّنۡ عَزَلۡتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكَ ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 51)

ترجمہ: ان بیویوں میں سے تم جس کی باری چاہو ملتوی کردو، اور جس کو چاہو، اپنے پاس رکھو، اور جن کو تم نے الگ کردیا ہو ان میں سے اگر کسی کو واپس بلانا چاہو تو اس میں بھی تمہارے لیے کوئی گناہ نہیں ہے۔

تو میں نے کہا: میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ کا رب آپﷺ کی خواہش کی تکمیل میں جلدی کرتا ہے۔

(صحیح البخاری: 4788۔ صحیح مسلم: 1464۔)

جواب: اس شبہ کا اس حدیث کی روشنی میں ہم دو طریقوں سے جواب دیں گے

1۔ ہمیں جان لینا چاہیے کہ ہماری امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا کے اخلاق پر تنقید دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تنقید ہے۔ کیونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام لوگوں سے زیادہ محبوب تھیں اور یہ بات بلاشک وشبہ کہی جائے گی کہ اس شدید محبت کا واحد سبب سب سے پہلے دین اور خلق ہے اور یہ کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اللہ کے لیے محبت اور اللہ کے لیے بغض و نفرت کا سبق دیا تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس پر عمل کیا۔

اگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بداخلاق ہوتیں جیسا کہ رافضی ان سے بغض کی وجہ سے کہتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے محبت نہ کرتے۔ پھر یہ دونوں باتیں کیسے اکٹھی ہو گئیں کہ وہ بداخلاق بھی ہوں اور اللہ تعالیٰ ان کی تعریف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی کہہ کر کرے۔ زوج کا لفظ تشابہ اور تقارب کا اشارہ کرتا ہے۔ ابن منظور افریقی لکھتا ہے

اَزْدَوَجَ الْکَلَامُ وَ تَزَاوَجَ اَشْبَہَ بَعْضُہٗ بَعْضًا

جب کلام سجع اور وزن میں ایک دوسرے کے مشابہ ہوں۔

(لسان العرب، مادہ زوج)

زجاج نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: 

اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ۞ (سورۃ الصافات آیت 22)

ترجمہ: (فرشتوں سے کہا جائے گا کہ) گھیر لاؤ ان سب کو جنہوں نے ظلم کیا اور ان کے جوڑوں کو۔‘‘

یعنی ان کے مانند، ان کی طرح کے لوگ۔ آپ کہیں گے میرے پاس اس طرح کی اور چیزیں بھی ہیں۔ عِنْدِیْ مِنْ ہٰذَا اَزْوَاجٌ اَیْ اَمْثَالٌ 

(لسان العرب لابن منظور: جلد 2 صفحہ 293)

جبکہ اللہ تعالیٰ نے نوح اور لوط علیہما السلام کی بیویوں کا تذکرہ امْرَأَةٌ کے لفظ سے کیا ہے۔ وہاں اللہ تعالیٰ زوج کا لفظ نہیں لائے۔ 

رافضی کتنے جاہل ہیں یا جاہل بننے کی کوشش کرتے ہیں کہ زوجین: خاوند اور بیوی ایک دوسرے کے ساتھ محبت و الفت کے اس درجے پر ہوتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے وہ کچھ قبول کر لیتے ہیں جو وہ اپنے علاوہ کسی اور سے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور ایسے مواقع کا ضابطہ اور قاعدہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ردّ عمل ظاہر کیا؟ اگر فعل یا قول معصیت کا ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیگر سب لوگوں سے بڑھ کر سب سے پہلے معصیت کا انکار کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہی تو ہیں جنھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر لٹکا ہوا وہ پردہ یا کپڑا پھاڑ دیا جس میں تصاویر تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو غیبت سے روک دیا، وغیرہ وغیرہ۔

آپ کا ان اقوال و افعال پر خاموش ہو جانا یا کم از کم انکار نہ کرنا ان اقوال و افعال کے جواز کی دلیل ہے اور مزید یہ کہ یہ افعال و اقوال حسن خلق کے منافی نہیں اور اگر یہ لوگ اھواء اور عصبیات سے خالی ہو جائیں تو معاشرے پر ان شبہات کا ذرہ بھر بھی اثر باقی نہ رہے۔ لیکن زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ یہ ظالم جو کچھ کہتے ہیں اس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ اللہ ہی مددگار ہے۔

2۔ یہ کہ اس عبارت میں ہماری امی جان رضی اللہ عنہا پر تنقید کا شائبہ تک نہیں، کیونکہ انھوں نے یہ تو نہیں کہا: اور اللہ کی پناہ کہ وہ ایسی بات کہیں۔ بے شک وحی کا موجب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش ہے، یا یہ کہ وہ وحی پر تنقید کر رہی ہیں۔ جس طرح کہ یہ عسکری کہتا ہے، بلکہ وہ تو یہ اعتراف کر رہی ہیں کہ وحی رب العالمین کی طرف سے ہوتی ہے اور وہ وضاحت کرتے ہوئے کہہ رہی ہیں کہ اللہ عزوجل وہی پسند کرتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پسند کرتے ہیں۔ نیز وہ اپنے یقین کا اعلان کرتی ہیں کہ وحی حق ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف حق کی خواہش کرتے ہیں اور خواہش مطلق مذموم نہیں۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے:

لَا یُوْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ہَوَاہُ تَبِعًا لِّمَا جِئْتُ بِہٖ

صفحہ 1 از 2