ان شبہات کا تذکرہ جو بالذات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی…

ان شبہات کا تذکرہ جو بالذات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو نشانہ بناتے ہیں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

(السنۃ لابن ابی عاصم: جلد 1 صفحہ 12، حدیث نمبر: 15۔ تاریخ بغداد للخطیب بغدادی: جلد 4 صفحہ 368۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس حدیث کے راوی ہیں۔ علامہ ابن باز نے شرح کتاب التوحید: صفحہ 246 پر کہا کچھ علماء نے اس حدیث کو ضعیف کہا لیکن اس کا معنیٰ صحیح ہے اور البانی رحمہ اللہ نے کتاب السنۃ، حدیث نمبر 15۔ میں اس حدیث کی سند کو ضعیف کہا ہے اور ابن عثیمین رحمہ اللہ نے اپنے مجموع فتاویٰ: جلد 10 صفحہ 757 میں کہا اس کا معنیٰ صحیح ہے۔)

کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوتا جب تک اس کی خواہشات اس کے تابع نہ ہو جائیں جو میں لایا ہوں۔

ابن منظور نے کہا: ’’ھوی النفسکا معنی دلی ارادہ ہے۔ نیز اس نے کہا: مَا ہَوٰی اَیْ مَا اَحَبَّ۔ ’’اس نے جو چاہا۔‘‘ نیز اس نے کہا ہے: جب مطلقاً خواہش سے کلام کیا جائے گا تو وہ مذموم ہی ہو گا حتیٰ کہ اسے ایسے معنیٰ سے متصف کرے جو اسے مذمت سے دور کر دے۔‘‘

(لسان العرب لابن منظور: جلد 15 صفحہ 371، 372)

یہ بھی کہا جاتا ہے وہ ھویٰ مذموم ہوتی ہے جو ہدایت سے خالی ہو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰٮهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ‌۞ (سورة القصص آیت 50)

ترجمہ: اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جو اللہ کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہش کے پیچھے چلے۔

اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو غور و فکر کرنا چاہیے۔

(حاشیۃ السندی علی سنن النسائی: جلد 6 صفحہ 54)

اس معنیٰ میں بدر کے قیدیوں کے متعلق مشورے کی بابت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر کی رائے کو پسند کر لیا اور میری رائے کو پسند نہ کیا اور اس حدیث میں ھویٰ کا لفظ پسندیدہ و مقبول محبت کے معانی میں استعمال ہوا ہے۔

ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا:) میں تو یہ دیکھتی ہوں کہ آپﷺ کا رب آپ کی خواہش کو جلد از جلد مکمل کرتا ہے۔ یعنی میں تو اللہ کو صرف اسی حال میں دیکھتی ہوں کہ آپ جو چاہتے ہیں اسے جلد مکمل کرتا ہے اور جو آپ پسند کرتے اور منتخب کرتے ہیں اس کی بابت فوراً وحی نازل کر دیتا ہے۔

(فتح الباری لابن حجر: جلد 8 صفحہ 526)

علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جو عرض کیا) اس کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ آپ سے تخفیف کرتا ہے اور معاملات میں آپ کو وسعت عطا کرتا ہے۔ اسی لیے آپ کو اس نے اختیار دے دیا۔

(شرح مسلم للنووی: جلد 10 صفحہ 50)

تو فی الحقیقت یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح ہے۔

اگر ہم یہ بھی کہیں کہ زیادہ مناسب یہ الفاظ تھے کہ آپ کی مرضی اور آپ کی خواہش کے مطابق الفاظ نہ استعمال کیے جاتے، لیکن ان الفاظ کو غیرت اور جلاپے نے واضح کیا ہے۔ اگرچہ اس طرح کے سیاق میں غیرت معاف ہے۔ جیسا کہ ابن حجر رحمہ اللہ نے قرطبی (احمد بن عمر بن ابراہیم ابو العباس القرطبی، مالکی فقیہ، محدث، اسکندریہ (مصر) میں مدرس تھے۔ 578 ہجری میں پیدا ہوئے، کبار ائمہ میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’المفہم شرح صحیح مسلم‘‘ اور ’’مختصر الصحیحین‘‘ ہیں۔ 656 ہجری میں وفات پائی۔ (البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 13 صفحہ 213۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 5 صفحہ 272) سے نقل کیا ہے۔

(فتح الباری لابن حجر: جلد 9 صفحہ 165)

اس جیسا کلام معاف ہونے کی واضح دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات کا انکار نہیں کیا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضی کا اظہار بھی نہیں کیا اور اگر آپ غصے میں ہوتے یا انکار کرتے تو ہماری امی جان اسے ضرور پوری امانت و دیانت کے ساتھ واضح کرتیں۔ جس طرح انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے اور اس وقت کی ناراضی اور انکار کو واضح کیا جب انھوں نے اپنے دروازے پر ایسا پردہ لٹکایا جس پر تصاویر تھیں۔ وغیرہ وغیرہ۔

یہ کہنا بھی ممکن ہے کہ ان کا یہ قول عورتوں سے ان کی نفرت اور ان کے بارے میں بری رائے کو ترک کرنے سے کنایہ تھا، اس وجہ سے کہ جب سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے دیکھ لیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا کے مطابق احکام نازل کرتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہا کا اس بات سے یہ مقصد ہو سکتا ہے کہ میں اس وجہ سے عورتوں سے نفرت کرتی تھی۔ پس جب میں نے دیکھا کہ اللہ عزوجل اپنے نبی کی رضا کی رعایت کرتا ہے تو میں نے اپنی یہ عادت بدل دی۔ کیونکہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی کی مخالفت کا شائبہ پایا جاتا تھا۔

(حاشیۃ السندی علی سنن النسائی: جلد 6 صفحہ 54)


صفحہ 2 از 2