امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) دُشمنانِ رسولﷺ میں سے تھے (تاریخ الامم الاسلامیہ)
مولانا ابوالحسن ہزارویامیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) دُشمنانِ رسولﷺ میں سے تھے (تاریخ الامم الاسلامیہ)
جواب اہلسنّت
1: مذکورہ عکسی صفحہ کی بنا پر یہ سرخی جمانا کے "دشمنانِ رسولﷺ میں سے تھے" یہ سراسر رافضی دماغوں کا اپنا بخار ہے ورنہ کتاب میں ایسا کوئی لفظ موجود نہیں جس کا معنیٰ ہو کہ وہ دشمن رسولﷺ تھے
2: مذکورہ صفحہ پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے احوال لکھے گئے ہیں جو قبل از اسلام سے تعلق رکھتے ہیں اور اس وقت کے عوام پر طعنہ زنی کرنا کہ جس وقت وہ احکام شریعت مخاطب نہ تھے محض حاسدانہ کاروائی اور بیمار ذہنیت کی علامت ہے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بزبانِ وحی اعلان فرمایا تھا لا تثریب علیکم الیوم کہ آج کے دن تم پر کوئی باز پرس نہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ آج سے قبل جو کچھ ہو چکا سو اس سے درگزر کیا جاتا ہے اب جن معاملات کو رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرما دیا تاریخ کی کتابوں سے وہ پرانی قے ڈھونڈ کر چاٹنا، کس حکیم کا بتایا ہوا نسخہ ہے؟
3: شیعہ مصنف نے عکسی صفحہ جن الفاظ کو بطور ہتھیار کے استعمال کیا گیا اس میں صرف اتنا ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے آپ کو قریش کا بڑا سردار جانتے تھے اس وجہ سے کہ وہ سردار مکہ ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بنو ہاشم کے بڑے بیٹوں میں سے تھے پس دونوں حضرات بزرگی اور نسبی شرافت میں برابر تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے ثلاثہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر بھر پور اعتماد فرمایا یہاں تک کہ بلاد اہل اسلام میں سب سے بڑے علاقے شام پر ان کو گورنر بنا دیا الخ (عکسی صفحہ)
ارباب انصاف ملاحظہ فرما لیں کہ جس مقام پر یہ بیان کیا جارہا ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور بعد کے تینوں حضرات خلفاء کرام نے بھی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر بےحد اعتماد کیا اور انہیں ثقہ جانا ہے شیعہ لوگ اسی صفحے پر یہ اعلان لکھ کر نشر کر رہے ہیں کہ وہ دشمنانِ رسولﷺ میں سے تھے۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ اس فہم وفراست پر اور سمجھ داری پر قربان جائیں جو محبت واعتماد اور دوستی و پیار کو بھی دُشمنی و عداوت کے روپ میں پیش کرتے ہوئے ذرا نہیں شرماتے۔