Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ان شبہات کا جائزہ جو اہل بیت رضی اللہ عنہن کے متعلق ہیں

  علی محمد الصلابی

پہلا شبہ

اہل تشیع کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف کینہ رکھتی تھیں۔ روافضہ نے  سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا کے بغض کے لیے اس روایت سے استدلال کیا ہے جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میمونہ(رضی اللہ عنہا) کے گھر میں بیمار ہوئے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے اجازت طلب کی کہ آپ کی تیمار داری میرے گھر میں کی جائے۔ سب نے آپﷺ کو اجازت دے دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عباس اور ایک اور آدمی رضی اللہ عنہما کے سہارے وہاں سے روانہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے۔

عبیداللہ کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کیا تجھے معلوم ہے دوسرا آدمی کون تھا؟ وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔ لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس سے دلی طور پر خوش نہ تھیں۔

(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 34 حدیث نمبر: 24107۔ اصل حدیث صحیحین میں ہے۔ (بخاری: حدیث نمبر: 198۔ مسلم، حدیث نمبر: 418۔) اس اضافے کے بغیر بخاری و مسلم میں ہے

شیعہ کہتے ہیں: وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پسند نہ کرتی تھیں نہ ان کے لیے کوئی بھلائی چاہتی تھیں اور نہ ہی اپنی زبان پر اس کا نام لیتی تھی۔ 

(درج ذیل کتب شیعہ میں یہ شبہ موجود ہے: معالم المدرستین لمرتضی العسکری: صفحہ 232۔ الغدیر للامینی: جلد 9 صفحہ 324۔ فسألوا اہل الذکر لمحمد التیجانی السماوی: صفحہ 323۔ خلاصۃ المواجہۃ لاحمد حسین یعقوب: صفحہ 111۔ دفاع من وحی الشریعۃ حسین الرجا: صفحہ 317۔)

وہ روایت جو عام طور پر مشہور ہے، جس میں یہ زائد کلام نہیں ہے وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خود بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت بیمار ہو گئے اور آپ کی تکلیف بڑھ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے اجازت طلب کی کہ آپﷺ کی عیادت میرے گھر میں ہو۔ سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دے دی۔ آپ دو آدمیوں کے درمیان میں پاؤں زمین پر گھسیٹتی ہوئے عباس بن عبدالمطلب اور ایک اور آدمی رضی اللہ عنہما کے درمیان آ رہے تھے۔

عبیداللہ کہتے ہیں: ’’میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے الفاظ بتلائے تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے سوال کیا: تمھیں معلوم ہے کہ وہ دوسرا آدمی کون تھا جس کا نام عائشہ رضی اللہ عنہا نے نہیں لیا؟ بقول راوی میں نے کہا: پتا نہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: وہ علی رضی اللہ عنہ تھے۔‘‘

مرتضیٰ حسینی نے کہا: (اس کا بیان کہ عائشہ رضی اللہ عنہا علی کے ساتھ بغض و حسد رکھتی تھیں اور وہ علی علیہ السلام کے قتل سے خوش ہوئیں) نیز عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی سابقہ حدیث میں ہے اور نعمان بن بشیر سے مروی حدیث میں بھی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی بلند آواز سنی وہ کہہ رہی تھیں، اللہ کی قسم! مجھے معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک مجھ سے اور میرے باپ سے علی زیادہ محبوب ہے۔ دو بار یا تین بار یہ کہا۔ ابوبکر اجازت لے کر اندر آئے اور انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا: اے فلاں عورت کی بیٹی! کیا میں تیری بلند آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نہیں سن رہا؟

(مسند أحمد: جلد 4 صفحہ 275، حدیث نمبر 18444۔ سنن کبری للنسائی: جلد 5 صفحہ 139، حدیث نمبر: 8495۔ مسند بزار: جلد 8 صفحہ 223، حدیث نمبر: 3275۔ شرح مشکل الآثار للطحاوی: جلد 13 صفحہ 333۔ ہیثمی نے مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 129۔ پر کہا اس حدیث کے راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں اور اس کی سند کو حافظ ابن حجر نے فتح الباری: جلد 7 صفحہ 32 پر صحیح کہا اور الاجوبۃ المرضیۃ: جلد 2 صفحہ 764 میں سخاوی نے اس کی سند کو صحیح کہا۔

حدیث میں ہے: عائشہ نے جب علی علیہ السلام کے قتل کی خبر سنی تو خوشی سے یہ شعر پڑھا:

فَاَلْقَتْ عَصَاہَا وَ اسْتَقَرَّتْ بِہَا النَّوٰی

کَمَا قَرَّ عَیْنًا بِالْاَیَابِ الْمُسَافِرِ

’’موت نے اپنی لاٹھی رکھ دی اور دور کی مسافت سے قرار پکڑا جس طرح مسافر کے لوٹنے سے آنکھ قرار پکڑتی ہے۔‘‘

پھر یہ رافضی کہتا ہے کہ اس شعر کی مثال اس وقت دی جاتی ہے جب شدت سفر کے بعد راحت میسر آتی ہے اور غم و اندوہ کے بعد کشادگی ملتی ہے۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ شعر کہہ کر اپنے دل کی بھڑاس ہی نہیں نکالی بلکہ وہ علی علیہ السلام کی شہادت سے صراحتاً خوش ہوئی۔

(السبعۃ من السلف: صفحہ 169، 170)

اس شبہ کا ازالہ:

اول: پہلی حدیث میں یہ اضافہ کہ (عائشہ رضی اللہ عنہا اسے دل سے پسند نہیں کرتی تھیں ) شاذ ہے، صحیح نہیں ہے۔ بخاری و مسلم کا اس اضافے سے احتراز اور زہری کے شاگردوں کا اس پر عدم اتفاق کی وجہ سے اس اضافے کے متعلق دل میں وسوسہ پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ زہری کے شاگردوں سے سفیان، عقیل اور شعیب نے اس اضافے کو نقل نہیں کیا۔ جبکہ معمر نے یہ اضافہ روایت کیا اور ابن مبارک نے معمر اور یونس دونوں کو ایک ہی حدیث میں جمع کر دیا ہے، لیکن شیخان نے یہ اضافہ نقل نہیں کیا۔ اگرچہ ان دونوں نے ابن مبارک کے واسطے سے معمر سے روایت کی۔ مزید برآں موسیٰ بن ابی عائشہ نے اس اضافہ میں زہری کی متابعت نہیں کی۔

اسی طرح زہری سے جنھوں نے اس اضافے کے بغیر حدیث روایت کی ابراہیم بن سعد بھی ہے جو الطبقات میں ہے۔

(طبقات الکبری لابن سعد: جلد 2 صفحہ 231)

حدیث سے پہلے بلا واسطہ سوال نقل کرتا ہے تو بیہقی نے دلائل (دلائل النبوۃ: جلد 7 صفحہ 169) میں مغازی ابن اسحق سے یونس بن بکیر کی سند سے یہ حدیث نقل کی اور مغازی میں ابن حجر کی یہی سند ہے۔ اسے ابن اسحق نے یعقوب بن عتبہ سے، اس نے زہری سے روایت کیا اور اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں جبکہ ابن اسحق نے تحدیث کی صراحت کی ہے۔

اسی طرح ابن اسحق نے زہری سے بلاواسطہ بھی یہ حدیث روایت کی۔ اس میں بھی یہ الفاظ نہیں۔ تو جن راویوں نے یہ حدیث اضافہ مذکورہ کے بغیر روایت کی ان میں سفیان بن عیینہ، شعیب، عقیل، ابراہیم بن سعد، یعقوب بن عتبہ اور ابن اسحق ہیں البتہ معمر اضافے کے ساتھ متفرد ہے۔

امام بخاری و مسلم نے بھی یہ حدیث روایت کی لیکن اضافے سے احتراز پر دونوں متفق ہیں، حالانکہ دونوں نے یہ حدیث معمر سے روایت کی گویا حدیث میں ان الفاظ کا اضافہ صحیح نہیں۔

(نقد حدیث کے یہ اقتباسات ہشام بن بہرام کی مشارکت سے ویب سائٹ ’’ملتقٰی اہل الحدیث‘‘ سے لیے گئے ہیں۔)

دوم: اگر فرض کر لیں کہ یہ روایت صحیح ہے، تو پھر بھی شارحین حدیث نے اس کا جواب متعدد طریقوں سے دیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دوسرے آدمی کا نام ابہام میں رکھا اس لیے کہ ساری مسافت میں کوئی ایک مخصوص نہ رہا۔ بلکہ کبھی تو فضل بن عباس رضی اللہ عنہما آپ کو کندھا دیتے اور کبھی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کندھا دیتے۔

(فتح الباری لابن حجر: جلد 2 صفحہ 156)

نیز بتقاضا ہائے بشریت ان دونوں نفوس قدسیہ رضی اللہ عنہما کے درمیان کچھ نفسانی عوارض واقع ہو بھی گئے ہوں تو ان پر انھیں نہ ملامت کی جا سکتی ہے اور نہ ہی ان کا کوئی قول و فعل حرام کی حد عبور کرتا ہے۔ خصوصاً جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کوئی ایسی بات کہہ دیتی ہوں جس سے نفس انسانی کو ایذاء پہنچے کیونکہ علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے علیحدگی کا مشورہ دیا تھا۔

(یہ اہل تشیع کا شبہ ہے اور اس کا جواب آگے آئے گا۔)

انسان اس شخص کو دیکھنا پسند نہیں کرتا جو اسے کسی ناپسندیدہ بات کی یاد دلائے۔ یا اسے دیکھ کر اسے کوئی ایسا واقعہ یاد آ جائے جو گزر تو چکا ہو لیکن اس کا اثر ابھی انسان پر باقی ہو اور گزشتہ جملوں کی وضاحت کرنے والی قریب ترین روایت وہ ہے جو امام بخاری لائے ہیں اور جو صحابی جلیل وحشی (وحشی بن حرب حبشی رضی اللہ عنہ ابو دسمہ۔ اسلام لانے سے پہلے غزوۂ احد میں انھوں نے بہترین آدمی سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو شہید کیا اور اسلام لانے کے بعد بدترین آدمی مسیلمہ کذاب کے قتل میں جنگ یمامہ کے دن حصہ لیا۔ 34 ہجری میں وفات پائی۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 496۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 6 صفحہ 601) رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ جنھوں نے اسلام سے پہلے سیدنا حمزہ (حمزہ بن عبدالمطلب بن ہاشم ابو عمارہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا اور رضاعی بھائی تھے۔ سید الشہداء ان کا لقب ہے۔ اسد اللہ اور اسد الرسول بھی کہا جاتا ہے۔ ان کے اسلام لانے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کفار پر غلبے کی راہ ہموار ہو گئی۔ بدر میں موجود تھے۔ غزوہ احد 3 ہجری میں شہید ہوئے اور ان کا مثلہ کیا گیا۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 109، الاصابۃ لابن حجر: جلد 2 صفحہ 121) رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا، تو اسلام لانے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا تو نے حمزہ کو قتل کیا؟ (وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ) میں نے کہا: وہ ساری خبر آپ سن چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے لیے ممکن ہے کہ تم اپنا چہرہ مجھ سے چھپا لو؟ 

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4072)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’اس حدیث میں یہ بات ہے کہ آدمی اس شخص کو دیکھنا ناپسند کرتا ہے۔ جس نے اس کے کسی قریبی یا دوست کو تکلیف پہنچائی ہو، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان دونوں کے درمیان ایسی دوری ہو جس سے منع کیا گیا ہے۔‘‘

(فتح الباری لابن حجر: جلد 7 صفحہ 371۔ تعریف عام بدین الاسلام علی طنطاوی: صفحہ 176)

گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وحشی رضی اللہ عنہ کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ شاید کہ حمزہ رضی اللہ عنہ یاد آ جائیں کیونکہ ان کی افسوس ناک موت اور مثلے کا آپﷺ کے دل پر گہرا اثر تھا اور جو کچھ واقعہ افک میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر اثر ہوا وہ بھی کم نہ تھا۔ جیسا کہ اس کی شدت الم کی خبر واقعہ افک میں بیان کردہ حدیث سے واضح ہے۔

(سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب مجھ پر بہتان لگا جو بھی لگا تو میں نے چاہا کہ اپنے آپ کو کنویں میں گرا دوں۔ (مسند بزار: جلد 18 صفحہ 212۔ المعجم الاوسط للطبرانی: جلد 1 صفحہ 184) یہ روایت محمد بن خالد بن خداش نے اپنے باپ سے روایت کی ہے اور وہ دونوں متکلم فیہ ہیں۔ 

یہ چیز بخوبی معلوم ہے کہ انسان کسی واقعہ کا تذکرہ ایک مدت تک پسند نہیں کرتا، پھر کچھ عرصے بعد دل اس کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور تعلقات نہایت خوشگوار ہو جاتے ہیں بلکہ احسان کی آخری حد کو چھونے لگتے ہیں اور یہی کچھ سیدہ عائشہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے درمیان حاصل ہوا، ان دونوں کے آخری ایام میں تعلقات باہمی نہایت خوشگوار ہو گئے تھے۔ جیسا کہ گزشتہ صفحات میں ان کے باہمی خوشگوار تعلقات کے ضمن میں گزر چکا ہے۔ (آئندہ صفحات میں جب واقعہ جمل پر بحث کی جائے گی تو وہاں بھی یہ موضوع زیر بحث آئے گا۔)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وہ گواہی کافی ہے جو انھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے دی کہ جس میں انھوں نے نہ کچھ تبدیلی کی اور نہ وہ خود بدلے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا لوگوں کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلافت کے لیے بیعت کرنے کا مشورہ دینا اس بات کی کھلی دلیل ہے۔

سوم: اگر ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اس خبر میں اجتہاد صحیح ہو تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے صرف نام نہیں لیا۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ترک جائز پر کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں: جب اہل و عیا ، بھائیوں اور دوستوں میں ناراضگی ہو تو ایسے میں کسی کا نام نہ لینا جائز ہے۔ مثلاً کھلتے ہوئے چہرے سے نہ ملنا وغیرہ البتہ سلام و کلام ترک کرنا حرام ہے۔

(فتح الباری لابن حجر: جلد 10 صفحہ 497)

اس روایت پر کلام کرتے ہوئے زرقانی لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ انسانی جبلت کے مطابق پیش آیا۔ جس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر کوئی ملامت نہیں اور نہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر کچھ بوجھ ہے۔‘‘ 

(شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ: جلد 12 صفحہ 84)

یہ مسئلہ ہر انسان کے ساتھ لازماً جڑا ہوا ہے حتیٰ کہ ایک ہی خاندان کے افراد کے درمیان مثلاً بھائی آپس میں ناراض ہو جاتے ہیں یا بھائی بہن کے ساتھ ناراض ہو جاتا ہے تو وہ صرف ایک دوسرے کا نام لینا چھوڑ دیتے ہیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بھی یہی عادت تھی وہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خوش ہوتیں (تو قسم اٹھاتے ہوئے) وَ رَبِّ مُحَمَّدٍ فرماتیں، یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رب کی قسم! اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی معاملہ میں کوئی تلخی ہوتی تو وہ قسم اٹھاتے ہوئے فرماتیں وَ رَبِّ اِبْرَاہِیْمَ ’’ابراہیم کے رب کی قسم!‘‘ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی معرفت کے بارے میں انھیں بتایا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: میں صرف آپ کا نام ہی تو چھوڑتی ہوں۔ گویا غصہ یا ناراضی اور چیز ہے اور دلی بغض و کینہ اور چیز ہے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ناراض ہونا ممکن ہے، لیکن یہ کہنا جس طرح رافضی کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بغض رکھتی تھیں، غلط ہے۔ یقیناً وہ اس الزام سے بری ہیں۔

اگر کبھی کبھار سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے دل میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق کچھ تلخی محسوس کرتی تھیں جو انسانی فطرت کا تقاضا ہے تو اسی طرح کتنے ہی مواقع پر ان کے موافق بھی ہوتی تھیں۔ لیکن یہ محال ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے ان کے خلاف کینہ اور دائمی عداوت رکھتی تھیں، بلکہ یہ چیز سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فطرت سے بہت بعید ہے۔ کیونکہ جو لوگ واقعہ افک میں ملوث تھے وہ ان کے خلاف دل میں کبھی کچھ محسوس نہ کرتی تھیں۔ حالانکہ وہ واقعہ ان پر سب سے بڑی مصیبت بن کر آیا تھا اور جو لوگ اس میں ملوث تھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے ان کو عفو و درگزر بدلے میں ملا۔ حتیٰ کہ جب کوئی آپ رضی اللہ عنہا کے سامنے ان لوگوں میں سے کسی کے خلاف کوئی بات کرتا تو آپ رضی اللہ عنہا ان کا دفاع کرتی تھیں۔

مثلاً حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا معاملہ ہی لے لیجیے، یہ بھی واقعہ افک میں ملوث لوگوں میں شامل تھے، بلکہ اپنی سادہ لوحی کی وجہ سے بڑھ چڑھ کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خلاف باتیں کرتے تھے۔ اس کے باوجود سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کبھی ان کے خلاف اپنے دل میں کینہ نہ رکھا۔ بلکہ انھیں برا کہنے سے یا ان کے ساتھ بدسلوکی کے ساتھ پیش آنے سے وہ منع کیا کرتی تھیں۔

چنانچہ صحیحین میں روایت ہے کہ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے جبکہ وہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو برا کہہ رہے تھے، فرمایا: تم ان کو برا مت کہو، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا کرتے تھے۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3532۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2487)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مسروق کو بھی ایسی ہی تلقین کی۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4146۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2488)

کیا یہ بات ممکن ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حسان رضی اللہ عنہ کی نیکیوں کی تو ان کے دل میں قدر ہو اور وہ اپنے ساتھ اس کی برائی سے چشم پوشی کریں جس سے ان کو بے انتہاء اذیت کا سامنا کرنا پڑا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے احسانات کی ان کے دل میں کوئی قدر نہ ہو جو ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور اللہ عزوجل کے دین کی سربلندی کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر جہاد کرتے رہے؟

بلاشبہ جس شخص نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اخلاق کا مطالعہ کیا اور ان کے مناقب کے بارے میں پڑھا وہ ان کے لامحدود عفو و درگزر کے بارے میں بخوبی جانتا ہے۔ ان اشخاص کے بارے میں کہ جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آزمائشیں برداشت کیں اگر ان کی طرف سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو کوئی اذیت پہنچی تو صدق دل سے سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے انھیں معاف کر دیا۔ جبکہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ پر تو بہت بڑی بڑی آزمائشیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے آتی رہیں۔ جو شخص سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اخلاق، مناقب اور ان کے لامحدود عفو و درگزر کو جانتا ہے وہ یہ بات بخوبی سمجھتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان جو تلخی یا چپقلش تھی وہ ویسی ہی تھی جو سسرالی رشتہ داروں کے درمیان ہوتی ہے۔ جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود بتایا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کی بات کی تصدیق کی۔

(الصاعقۃ فی نسف اباطیل و افتراء ات الشیعۃ لعبد القادر محمد عطاء صوفی: صفحہ 175، 177)

چہارم: یہ کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نہایت شفقت والا معاملہ کرتی تھیں اور ان کے لیے اپنے دل میں بے حد تکریم اور تعظیم محسوس کرتی تھیں۔

(تفصیل کے لیے گزشتہ صفحات کا مطالعہ کیجیے۔)

اگر یہ کہا جائے کہ ان دونوں کے درمیان کچھ ان بن تھی تو گزشتہ صفحات میں یہ بات گزر چکی ہے کہ ان دونوں میں زندگی کے آخری لمحات میں نہایت خوشگوار تعلقات قائم ہو چکے تھے اور باہمی تکریم و توقیر بحال ہو چکی تھی۔ جس کا اعتراف کچھ شیعوں نے بھی کیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مسئلہ پوچھنے والوں کو عموماً سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجتی تھیں اور یہ کوئی بعید نہیں کہ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اپنا اجتہاد ہو۔ کیونکہ سیدنا علی اور عائشہ رضی اللہ عنہما کے آخری دنوں میں تعلقات نہایت عمدہ اور مثالی تھے، بالخصوص جنگ جمل کے بعد جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میرے اور علی رضی اللہ عنہما کے درمیان پہلے کی کوئی بات نہ تھی سوائے جو عورت اور اس کے سسرالیوں کے درمیان ہوتی ہے اور بلاشبہ انھوں نے حسن نیت کے ساتھ میرا مواخذہ کیا۔

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی دوسری حدیث کہ جس کے الفاظ یہ ہیں: ’’اللہ کی قسم! میں جانتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سیدنا علی رضی اللہ عنہ مجھ سے اور میرے باپ سے زیادہ محبوب ہیں اور آپ رضی اللہ عنہا نے یہ بات دو یا تین مرتبہ کہی۔‘‘

(اس کی تخریج گزر چکی ہے)

تو یہ اضافہ ہے جس کے متعلق ہیثمی نے کہا: ’’اسے ابو داؤد نے علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ محبت کے تذکرہ کے بغیر روایت کیا ہے۔‘‘

(مجمع الزوائد للہیثمی: جلد 9 صفحہ 127۔ اس روایت کی علت یونس بن ابی اسحاق ہے۔ اس میں شدید قسم کی غفلت پائی جاتی تھی اور امام احمد رحمہ اللہ نے کہا: لوگوں کی حدیث سے اس کی حدیث میں اضافے ہوتے ہیں۔ عبداللہ بن احمد نے اپنے باپ سے روایت کی۔ اس کی حدیث مضطرب ہے۔ (تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 11 صفحہ 381۔) 

اگر اس اضافے کو صحیح مان بھی لیا جائے تو اس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بغض کی کوئی دلیل نہیں اور اگر ایسے ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بات پر خاموش نہ رہتے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نسبت بعض پہلوؤں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب ہوں۔ جس طرح کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دیگر پہلوؤں کی نسبت زیادہ محبوب ہوں۔ جہاں تک علی رضی اللہ عنہ کی شہادت سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خوشی کا معاملہ اور اس موقع پر ان کے شعر کہنے کی بات ہے تو اسے طبری نے اپنی تاریخ میں روایت کیا جو بلاسند ہے۔ جبکہ ابو الفرج اصفہانی نے اسے اپنی کتاب ’’مقاتل الطالبیین‘‘ میں سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اس نے کہا: مجھے محمد بن حسین اشنانی نے حدیث سنائی، اس نے کہا، ہمیں موسی بن عبدالرحمن مسروقی نے حدیث سنائی، اس نے کہا: ہمیں عثمان بن عبدالرحمٰن نے حدیث سنائی، اس نے کہا: ہمیں اسماعیل بن راشد نے اپنی سند کے ساتھ حدیث سنائی، اس نے کہا: ’’جب عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر پہنچی تو انھوں نے یہ شعر پڑھ کر اپنا حال بیان کیا۔‘‘ 

(مقاتل الطالبیین لابی الفرج اصفہانی: جلد 1 صفحہ 55)

اصفہانی علوی شیعہ ہے۔

(سیراعلام النبلاء للذہبی: جلد 16 صفحہ 202)

خطیب نے اس کی سند محمد بن حسن بن حسین نوبختی تک پہنچائی ہے۔ 

(حسن بن حسین بن علی ابو محمد نوبختی معتزلی شیعہ ہے۔ اس کا حدیث کا سماع صحیح ہے، حدیث میں ثقہ ہے۔ 452 ہجری میں فوت ہوا۔ (میزان الاعتدال للذہبی: جلد 1 صفحہ 485۔ تاریخ بغداد للخطیب: جلد 7 صفحہ 299) 

اس نے کہا: ’’ابو الفرج اصبہانی سب سے بڑا جھوٹا ہے، وہ کتابوں کے بازار میں جاتا اور وہاں کتابوں سے بھری ہوئی دکانیں ہوتیں، وہ وہاں سے بکثرت صحائف خریدتا اور اپنے گھر لاتا، پھر اس کی سب روایات ان صحائف سے ہوتیں۔‘‘

(تاریخ بغداد للخطیب البغدادی: جلد 11 صفحہ 398)

شاید یہ سند بھی انہی صحائف میں سے ہے۔ کیونکہ اس میں اسماعیل بن راشد اپنی سند کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتا ہے اور اسی اسماعیل کے متعلق کتب جرح و تعدیل میں کچھ نہیں ملتا اور نہ ہی یہ کسی کو معلوم ہے کہ وہ کب فوت ہوا ہے۔ نہ یہ پتہ ہے کہ اس کے اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان کتنے راوی ہیں، پھر اس سے روایت کرنے والا راوی عثمان بن عبدالرحمٰن طرائفی ہے۔ یہ صدوق ہے اس کی اکثر روایات ضعفاء اور مجہول راویوں سے ہوتی ہیں، اسی لیے اسے ضعیف کہا گیا، حتیٰ کہ ابن نمیر نے اس کی نسبت کذب کی طرف کر دی ہے۔

(تقریب التہذیب لابن حجر: جلد 1 صفحہ 662)

اصبہانی نے یہ تدلیس کی ہے کہ اس نے عثمان بن عبدالرحمٰن کی کنیت بیان نہیں کی تاکہ اسے پہچانا نہ جا سکے اور تاکہ یہ گمان کیا جائے کہ وہ کوئی ثقہ راوی ہے۔ کیونکہ متعدد ثقات راوی اس نام میں مشترک ہیں اور جب طرائفی اور اسماعیل بن راشد کے اساتذہ اور شاگردوں کے متعلق تحقیق کی گئی تو یہ امر موکد ہو گیا کہ یہ طرائفی ہی ہے اور سند کے ردّ کرنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ طرائفی سند میں موجود ہے۔