ان شبہات کا جائزہ جو اہل بیت رضی اللہ عنہن کے متعلق ہیں -…

ان شبہات کا جائزہ جو اہل بیت رضی اللہ عنہن کے متعلق ہیں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

پہلا شبہ

اہل تشیع کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف کینہ رکھتی تھیں۔ روافضہ نے  سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا کے بغض کے لیے اس روایت سے استدلال کیا ہے جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میمونہ(رضی اللہ عنہا) کے گھر میں بیمار ہوئے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے اجازت طلب کی کہ آپ کی تیمار داری میرے گھر میں کی جائے۔ سب نے آپﷺ کو اجازت دے دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عباس اور ایک اور آدمی رضی اللہ عنہما کے سہارے وہاں سے روانہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے۔

عبیداللہ کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کیا تجھے معلوم ہے دوسرا آدمی کون تھا؟ وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔ لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس سے دلی طور پر خوش نہ تھیں۔

(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 34 حدیث نمبر: 24107۔ اصل حدیث صحیحین میں ہے۔ (بخاری: حدیث نمبر: 198۔ مسلم، حدیث نمبر: 418۔) اس اضافے کے بغیر بخاری و مسلم میں ہے

شیعہ کہتے ہیں: وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پسند نہ کرتی تھیں نہ ان کے لیے کوئی بھلائی چاہتی تھیں اور نہ ہی اپنی زبان پر اس کا نام لیتی تھی۔ 

(درج ذیل کتب شیعہ میں یہ شبہ موجود ہے: معالم المدرستین لمرتضی العسکری: صفحہ 232۔ الغدیر للامینی: جلد 9 صفحہ 324۔ فسألوا اہل الذکر لمحمد التیجانی السماوی: صفحہ 323۔ خلاصۃ المواجہۃ لاحمد حسین یعقوب: صفحہ 111۔ دفاع من وحی الشریعۃ حسین الرجا: صفحہ 317۔)

وہ روایت جو عام طور پر مشہور ہے، جس میں یہ زائد کلام نہیں ہے وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خود بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت بیمار ہو گئے اور آپ کی تکلیف بڑھ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے اجازت طلب کی کہ آپﷺ کی عیادت میرے گھر میں ہو۔ سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دے دی۔ آپ دو آدمیوں کے درمیان میں پاؤں زمین پر گھسیٹتی ہوئے عباس بن عبدالمطلب اور ایک اور آدمی رضی اللہ عنہما کے درمیان آ رہے تھے۔

عبیداللہ کہتے ہیں: ’’میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے الفاظ بتلائے تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے سوال کیا: تمھیں معلوم ہے کہ وہ دوسرا آدمی کون تھا جس کا نام عائشہ رضی اللہ عنہا نے نہیں لیا؟ بقول راوی میں نے کہا: پتا نہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: وہ علی رضی اللہ عنہ تھے۔‘‘

مرتضیٰ حسینی نے کہا: (اس کا بیان کہ عائشہ رضی اللہ عنہا علی کے ساتھ بغض و حسد رکھتی تھیں اور وہ علی علیہ السلام کے قتل سے خوش ہوئیں) نیز عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی سابقہ حدیث میں ہے اور نعمان بن بشیر سے مروی حدیث میں بھی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی بلند آواز سنی وہ کہہ رہی تھیں، اللہ کی قسم! مجھے معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک مجھ سے اور میرے باپ سے علی زیادہ محبوب ہے۔ دو بار یا تین بار یہ کہا۔ ابوبکر اجازت لے کر اندر آئے اور انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا: اے فلاں عورت کی بیٹی! کیا میں تیری بلند آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نہیں سن رہا؟

(مسند أحمد: جلد 4 صفحہ 275، حدیث نمبر 18444۔ سنن کبری للنسائی: جلد 5 صفحہ 139، حدیث نمبر: 8495۔ مسند بزار: جلد 8 صفحہ 223، حدیث نمبر: 3275۔ شرح مشکل الآثار للطحاوی: جلد 13 صفحہ 333۔ ہیثمی نے مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 129۔ پر کہا اس حدیث کے راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں اور اس کی سند کو حافظ ابن حجر نے فتح الباری: جلد 7 صفحہ 32 پر صحیح کہا اور الاجوبۃ المرضیۃ: جلد 2 صفحہ 764 میں سخاوی نے اس کی سند کو صحیح کہا۔

حدیث میں ہے: عائشہ نے جب علی علیہ السلام کے قتل کی خبر سنی تو خوشی سے یہ شعر پڑھا:

فَاَلْقَتْ عَصَاہَا وَ اسْتَقَرَّتْ بِہَا النَّوٰی

کَمَا قَرَّ عَیْنًا بِالْاَیَابِ الْمُسَافِرِ

’’موت نے اپنی لاٹھی رکھ دی اور دور کی مسافت سے قرار پکڑا جس طرح مسافر کے لوٹنے سے آنکھ قرار پکڑتی ہے۔‘‘

پھر یہ رافضی کہتا ہے کہ اس شعر کی مثال اس وقت دی جاتی ہے جب شدت سفر کے بعد راحت میسر آتی ہے اور غم و اندوہ کے بعد کشادگی ملتی ہے۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ شعر کہہ کر اپنے دل کی بھڑاس ہی نہیں نکالی بلکہ وہ علی علیہ السلام کی شہادت سے صراحتاً خوش ہوئی۔

(السبعۃ من السلف: صفحہ 169، 170)

اس شبہ کا ازالہ:

اول: پہلی حدیث میں یہ اضافہ کہ (عائشہ رضی اللہ عنہا اسے دل سے پسند نہیں کرتی تھیں ) شاذ ہے، صحیح نہیں ہے۔ بخاری و مسلم کا اس اضافے سے احتراز اور زہری کے شاگردوں کا اس پر عدم اتفاق کی وجہ سے اس اضافے کے متعلق دل میں وسوسہ پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ زہری کے شاگردوں سے سفیان، عقیل اور شعیب نے اس اضافے کو نقل نہیں کیا۔ جبکہ معمر نے یہ اضافہ روایت کیا اور ابن مبارک نے معمر اور یونس دونوں کو ایک ہی حدیث میں جمع کر دیا ہے، لیکن شیخان نے یہ اضافہ نقل نہیں کیا۔ اگرچہ ان دونوں نے ابن مبارک کے واسطے سے معمر سے روایت کی۔ مزید برآں موسیٰ بن ابی عائشہ نے اس اضافہ میں زہری کی متابعت نہیں کی۔

اسی طرح زہری سے جنھوں نے اس اضافے کے بغیر حدیث روایت کی ابراہیم بن سعد بھی ہے جو الطبقات میں ہے۔

(طبقات الکبری لابن سعد: جلد 2 صفحہ 231)

حدیث سے پہلے بلا واسطہ سوال نقل کرتا ہے تو بیہقی نے دلائل (دلائل النبوۃ: جلد 7 صفحہ 169) میں مغازی ابن اسحق سے یونس بن بکیر کی سند سے یہ حدیث نقل کی اور مغازی میں ابن حجر کی یہی سند ہے۔ اسے ابن اسحق نے یعقوب بن عتبہ سے، اس نے زہری سے روایت کیا اور اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں جبکہ ابن اسحق نے تحدیث کی صراحت کی ہے۔

صفحہ 1 از 4