ان شبہات کا جائزہ جو اہل بیت رضی اللہ عنہن کے متعلق ہیں -…

ان شبہات کا جائزہ جو اہل بیت رضی اللہ عنہن کے متعلق ہیں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

اسی طرح ابن اسحق نے زہری سے بلاواسطہ بھی یہ حدیث روایت کی۔ اس میں بھی یہ الفاظ نہیں۔ تو جن راویوں نے یہ حدیث اضافہ مذکورہ کے بغیر روایت کی ان میں سفیان بن عیینہ، شعیب، عقیل، ابراہیم بن سعد، یعقوب بن عتبہ اور ابن اسحق ہیں البتہ معمر اضافے کے ساتھ متفرد ہے۔

امام بخاری و مسلم نے بھی یہ حدیث روایت کی لیکن اضافے سے احتراز پر دونوں متفق ہیں، حالانکہ دونوں نے یہ حدیث معمر سے روایت کی گویا حدیث میں ان الفاظ کا اضافہ صحیح نہیں۔

(نقد حدیث کے یہ اقتباسات ہشام بن بہرام کی مشارکت سے ویب سائٹ ’’ملتقٰی اہل الحدیث‘‘ سے لیے گئے ہیں۔)

دوم: اگر فرض کر لیں کہ یہ روایت صحیح ہے، تو پھر بھی شارحین حدیث نے اس کا جواب متعدد طریقوں سے دیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دوسرے آدمی کا نام ابہام میں رکھا اس لیے کہ ساری مسافت میں کوئی ایک مخصوص نہ رہا۔ بلکہ کبھی تو فضل بن عباس رضی اللہ عنہما آپ کو کندھا دیتے اور کبھی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کندھا دیتے۔

(فتح الباری لابن حجر: جلد 2 صفحہ 156)

نیز بتقاضا ہائے بشریت ان دونوں نفوس قدسیہ رضی اللہ عنہما کے درمیان کچھ نفسانی عوارض واقع ہو بھی گئے ہوں تو ان پر انھیں نہ ملامت کی جا سکتی ہے اور نہ ہی ان کا کوئی قول و فعل حرام کی حد عبور کرتا ہے۔ خصوصاً جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کوئی ایسی بات کہہ دیتی ہوں جس سے نفس انسانی کو ایذاء پہنچے کیونکہ علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے علیحدگی کا مشورہ دیا تھا۔

(یہ اہل تشیع کا شبہ ہے اور اس کا جواب آگے آئے گا۔)

انسان اس شخص کو دیکھنا پسند نہیں کرتا جو اسے کسی ناپسندیدہ بات کی یاد دلائے۔ یا اسے دیکھ کر اسے کوئی ایسا واقعہ یاد آ جائے جو گزر تو چکا ہو لیکن اس کا اثر ابھی انسان پر باقی ہو اور گزشتہ جملوں کی وضاحت کرنے والی قریب ترین روایت وہ ہے جو امام بخاری لائے ہیں اور جو صحابی جلیل وحشی (وحشی بن حرب حبشی رضی اللہ عنہ ابو دسمہ۔ اسلام لانے سے پہلے غزوۂ احد میں انھوں نے بہترین آدمی سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو شہید کیا اور اسلام لانے کے بعد بدترین آدمی مسیلمہ کذاب کے قتل میں جنگ یمامہ کے دن حصہ لیا۔ 34 ہجری میں وفات پائی۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 496۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 6 صفحہ 601) رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ جنھوں نے اسلام سے پہلے سیدنا حمزہ (حمزہ بن عبدالمطلب بن ہاشم ابو عمارہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا اور رضاعی بھائی تھے۔ سید الشہداء ان کا لقب ہے۔ اسد اللہ اور اسد الرسول بھی کہا جاتا ہے۔ ان کے اسلام لانے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کفار پر غلبے کی راہ ہموار ہو گئی۔ بدر میں موجود تھے۔ غزوہ احد 3 ہجری میں شہید ہوئے اور ان کا مثلہ کیا گیا۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 109، الاصابۃ لابن حجر: جلد 2 صفحہ 121) رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا، تو اسلام لانے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا تو نے حمزہ کو قتل کیا؟ (وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ) میں نے کہا: وہ ساری خبر آپ سن چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے لیے ممکن ہے کہ تم اپنا چہرہ مجھ سے چھپا لو؟ 

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4072)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’اس حدیث میں یہ بات ہے کہ آدمی اس شخص کو دیکھنا ناپسند کرتا ہے۔ جس نے اس کے کسی قریبی یا دوست کو تکلیف پہنچائی ہو، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان دونوں کے درمیان ایسی دوری ہو جس سے منع کیا گیا ہے۔‘‘

(فتح الباری لابن حجر: جلد 7 صفحہ 371۔ تعریف عام بدین الاسلام علی طنطاوی: صفحہ 176)

گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وحشی رضی اللہ عنہ کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ شاید کہ حمزہ رضی اللہ عنہ یاد آ جائیں کیونکہ ان کی افسوس ناک موت اور مثلے کا آپﷺ کے دل پر گہرا اثر تھا اور جو کچھ واقعہ افک میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر اثر ہوا وہ بھی کم نہ تھا۔ جیسا کہ اس کی شدت الم کی خبر واقعہ افک میں بیان کردہ حدیث سے واضح ہے۔

(سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب مجھ پر بہتان لگا جو بھی لگا تو میں نے چاہا کہ اپنے آپ کو کنویں میں گرا دوں۔ (مسند بزار: جلد 18 صفحہ 212۔ المعجم الاوسط للطبرانی: جلد 1 صفحہ 184) یہ روایت محمد بن خالد بن خداش نے اپنے باپ سے روایت کی ہے اور وہ دونوں متکلم فیہ ہیں۔ 

یہ چیز بخوبی معلوم ہے کہ انسان کسی واقعہ کا تذکرہ ایک مدت تک پسند نہیں کرتا، پھر کچھ عرصے بعد دل اس کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور تعلقات نہایت خوشگوار ہو جاتے ہیں بلکہ احسان کی آخری حد کو چھونے لگتے ہیں اور یہی کچھ سیدہ عائشہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے درمیان حاصل ہوا، ان دونوں کے آخری ایام میں تعلقات باہمی نہایت خوشگوار ہو گئے تھے۔ جیسا کہ گزشتہ صفحات میں ان کے باہمی خوشگوار تعلقات کے ضمن میں گزر چکا ہے۔ (آئندہ صفحات میں جب واقعہ جمل پر بحث کی جائے گی تو وہاں بھی یہ موضوع زیر بحث آئے گا۔)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وہ گواہی کافی ہے جو انھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے دی کہ جس میں انھوں نے نہ کچھ تبدیلی کی اور نہ وہ خود بدلے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا لوگوں کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلافت کے لیے بیعت کرنے کا مشورہ دینا اس بات کی کھلی دلیل ہے۔

سوم: اگر ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اس خبر میں اجتہاد صحیح ہو تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے صرف نام نہیں لیا۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ترک جائز پر کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں: جب اہل و عیا ، بھائیوں اور دوستوں میں ناراضگی ہو تو ایسے میں کسی کا نام نہ لینا جائز ہے۔ مثلاً کھلتے ہوئے چہرے سے نہ ملنا وغیرہ البتہ سلام و کلام ترک کرنا حرام ہے۔

(فتح الباری لابن حجر: جلد 10 صفحہ 497)

صفحہ 2 از 4