ان شبہات کا جائزہ جو اہل بیت رضی اللہ عنہن کے متعلق ہیں -…

ان شبہات کا جائزہ جو اہل بیت رضی اللہ عنہن کے متعلق ہیں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

اس روایت پر کلام کرتے ہوئے زرقانی لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ انسانی جبلت کے مطابق پیش آیا۔ جس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر کوئی ملامت نہیں اور نہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر کچھ بوجھ ہے۔‘‘ 

(شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ: جلد 12 صفحہ 84)

یہ مسئلہ ہر انسان کے ساتھ لازماً جڑا ہوا ہے حتیٰ کہ ایک ہی خاندان کے افراد کے درمیان مثلاً بھائی آپس میں ناراض ہو جاتے ہیں یا بھائی بہن کے ساتھ ناراض ہو جاتا ہے تو وہ صرف ایک دوسرے کا نام لینا چھوڑ دیتے ہیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بھی یہی عادت تھی وہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خوش ہوتیں (تو قسم اٹھاتے ہوئے) وَ رَبِّ مُحَمَّدٍ فرماتیں، یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رب کی قسم! اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی معاملہ میں کوئی تلخی ہوتی تو وہ قسم اٹھاتے ہوئے فرماتیں وَ رَبِّ اِبْرَاہِیْمَ ’’ابراہیم کے رب کی قسم!‘‘ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی معرفت کے بارے میں انھیں بتایا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: میں صرف آپ کا نام ہی تو چھوڑتی ہوں۔ گویا غصہ یا ناراضی اور چیز ہے اور دلی بغض و کینہ اور چیز ہے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ناراض ہونا ممکن ہے، لیکن یہ کہنا جس طرح رافضی کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بغض رکھتی تھیں، غلط ہے۔ یقیناً وہ اس الزام سے بری ہیں۔

اگر کبھی کبھار سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے دل میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق کچھ تلخی محسوس کرتی تھیں جو انسانی فطرت کا تقاضا ہے تو اسی طرح کتنے ہی مواقع پر ان کے موافق بھی ہوتی تھیں۔ لیکن یہ محال ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے ان کے خلاف کینہ اور دائمی عداوت رکھتی تھیں، بلکہ یہ چیز سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فطرت سے بہت بعید ہے۔ کیونکہ جو لوگ واقعہ افک میں ملوث تھے وہ ان کے خلاف دل میں کبھی کچھ محسوس نہ کرتی تھیں۔ حالانکہ وہ واقعہ ان پر سب سے بڑی مصیبت بن کر آیا تھا اور جو لوگ اس میں ملوث تھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے ان کو عفو و درگزر بدلے میں ملا۔ حتیٰ کہ جب کوئی آپ رضی اللہ عنہا کے سامنے ان لوگوں میں سے کسی کے خلاف کوئی بات کرتا تو آپ رضی اللہ عنہا ان کا دفاع کرتی تھیں۔

مثلاً حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا معاملہ ہی لے لیجیے، یہ بھی واقعہ افک میں ملوث لوگوں میں شامل تھے، بلکہ اپنی سادہ لوحی کی وجہ سے بڑھ چڑھ کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خلاف باتیں کرتے تھے۔ اس کے باوجود سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کبھی ان کے خلاف اپنے دل میں کینہ نہ رکھا۔ بلکہ انھیں برا کہنے سے یا ان کے ساتھ بدسلوکی کے ساتھ پیش آنے سے وہ منع کیا کرتی تھیں۔

چنانچہ صحیحین میں روایت ہے کہ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے جبکہ وہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو برا کہہ رہے تھے، فرمایا: تم ان کو برا مت کہو، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا کرتے تھے۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3532۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2487)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مسروق کو بھی ایسی ہی تلقین کی۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4146۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2488)

کیا یہ بات ممکن ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حسان رضی اللہ عنہ کی نیکیوں کی تو ان کے دل میں قدر ہو اور وہ اپنے ساتھ اس کی برائی سے چشم پوشی کریں جس سے ان کو بے انتہاء اذیت کا سامنا کرنا پڑا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے احسانات کی ان کے دل میں کوئی قدر نہ ہو جو ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور اللہ عزوجل کے دین کی سربلندی کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر جہاد کرتے رہے؟

بلاشبہ جس شخص نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اخلاق کا مطالعہ کیا اور ان کے مناقب کے بارے میں پڑھا وہ ان کے لامحدود عفو و درگزر کے بارے میں بخوبی جانتا ہے۔ ان اشخاص کے بارے میں کہ جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آزمائشیں برداشت کیں اگر ان کی طرف سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو کوئی اذیت پہنچی تو صدق دل سے سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے انھیں معاف کر دیا۔ جبکہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ پر تو بہت بڑی بڑی آزمائشیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے آتی رہیں۔ جو شخص سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اخلاق، مناقب اور ان کے لامحدود عفو و درگزر کو جانتا ہے وہ یہ بات بخوبی سمجھتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان جو تلخی یا چپقلش تھی وہ ویسی ہی تھی جو سسرالی رشتہ داروں کے درمیان ہوتی ہے۔ جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود بتایا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کی بات کی تصدیق کی۔

(الصاعقۃ فی نسف اباطیل و افتراء ات الشیعۃ لعبد القادر محمد عطاء صوفی: صفحہ 175، 177)

چہارم: یہ کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نہایت شفقت والا معاملہ کرتی تھیں اور ان کے لیے اپنے دل میں بے حد تکریم اور تعظیم محسوس کرتی تھیں۔

(تفصیل کے لیے گزشتہ صفحات کا مطالعہ کیجیے۔)

اگر یہ کہا جائے کہ ان دونوں کے درمیان کچھ ان بن تھی تو گزشتہ صفحات میں یہ بات گزر چکی ہے کہ ان دونوں میں زندگی کے آخری لمحات میں نہایت خوشگوار تعلقات قائم ہو چکے تھے اور باہمی تکریم و توقیر بحال ہو چکی تھی۔ جس کا اعتراف کچھ شیعوں نے بھی کیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مسئلہ پوچھنے والوں کو عموماً سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجتی تھیں اور یہ کوئی بعید نہیں کہ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اپنا اجتہاد ہو۔ کیونکہ سیدنا علی اور عائشہ رضی اللہ عنہما کے آخری دنوں میں تعلقات نہایت عمدہ اور مثالی تھے، بالخصوص جنگ جمل کے بعد جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میرے اور علی رضی اللہ عنہما کے درمیان پہلے کی کوئی بات نہ تھی سوائے جو عورت اور اس کے سسرالیوں کے درمیان ہوتی ہے اور بلاشبہ انھوں نے حسن نیت کے ساتھ میرا مواخذہ کیا۔

صفحہ 3 از 4