ان شبہات کا جائزہ جو اہل بیت رضی اللہ عنہن کے متعلق ہیں -…

ان شبہات کا جائزہ جو اہل بیت رضی اللہ عنہن کے متعلق ہیں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی دوسری حدیث کہ جس کے الفاظ یہ ہیں: ’’اللہ کی قسم! میں جانتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سیدنا علی رضی اللہ عنہ مجھ سے اور میرے باپ سے زیادہ محبوب ہیں اور آپ رضی اللہ عنہا نے یہ بات دو یا تین مرتبہ کہی۔‘‘

(اس کی تخریج گزر چکی ہے)

تو یہ اضافہ ہے جس کے متعلق ہیثمی نے کہا: ’’اسے ابو داؤد نے علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ محبت کے تذکرہ کے بغیر روایت کیا ہے۔‘‘

(مجمع الزوائد للہیثمی: جلد 9 صفحہ 127۔ اس روایت کی علت یونس بن ابی اسحاق ہے۔ اس میں شدید قسم کی غفلت پائی جاتی تھی اور امام احمد رحمہ اللہ نے کہا: لوگوں کی حدیث سے اس کی حدیث میں اضافے ہوتے ہیں۔ عبداللہ بن احمد نے اپنے باپ سے روایت کی۔ اس کی حدیث مضطرب ہے۔ (تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 11 صفحہ 381۔) 

اگر اس اضافے کو صحیح مان بھی لیا جائے تو اس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بغض کی کوئی دلیل نہیں اور اگر ایسے ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بات پر خاموش نہ رہتے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نسبت بعض پہلوؤں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب ہوں۔ جس طرح کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دیگر پہلوؤں کی نسبت زیادہ محبوب ہوں۔ جہاں تک علی رضی اللہ عنہ کی شہادت سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خوشی کا معاملہ اور اس موقع پر ان کے شعر کہنے کی بات ہے تو اسے طبری نے اپنی تاریخ میں روایت کیا جو بلاسند ہے۔ جبکہ ابو الفرج اصفہانی نے اسے اپنی کتاب ’’مقاتل الطالبیین‘‘ میں سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اس نے کہا: مجھے محمد بن حسین اشنانی نے حدیث سنائی، اس نے کہا، ہمیں موسی بن عبدالرحمن مسروقی نے حدیث سنائی، اس نے کہا: ہمیں عثمان بن عبدالرحمٰن نے حدیث سنائی، اس نے کہا: ہمیں اسماعیل بن راشد نے اپنی سند کے ساتھ حدیث سنائی، اس نے کہا: ’’جب عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر پہنچی تو انھوں نے یہ شعر پڑھ کر اپنا حال بیان کیا۔‘‘ 

(مقاتل الطالبیین لابی الفرج اصفہانی: جلد 1 صفحہ 55)

اصفہانی علوی شیعہ ہے۔

(سیراعلام النبلاء للذہبی: جلد 16 صفحہ 202)

خطیب نے اس کی سند محمد بن حسن بن حسین نوبختی تک پہنچائی ہے۔ 

(حسن بن حسین بن علی ابو محمد نوبختی معتزلی شیعہ ہے۔ اس کا حدیث کا سماع صحیح ہے، حدیث میں ثقہ ہے۔ 452 ہجری میں فوت ہوا۔ (میزان الاعتدال للذہبی: جلد 1 صفحہ 485۔ تاریخ بغداد للخطیب: جلد 7 صفحہ 299) 

اس نے کہا: ’’ابو الفرج اصبہانی سب سے بڑا جھوٹا ہے، وہ کتابوں کے بازار میں جاتا اور وہاں کتابوں سے بھری ہوئی دکانیں ہوتیں، وہ وہاں سے بکثرت صحائف خریدتا اور اپنے گھر لاتا، پھر اس کی سب روایات ان صحائف سے ہوتیں۔‘‘

(تاریخ بغداد للخطیب البغدادی: جلد 11 صفحہ 398)

شاید یہ سند بھی انہی صحائف میں سے ہے۔ کیونکہ اس میں اسماعیل بن راشد اپنی سند کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتا ہے اور اسی اسماعیل کے متعلق کتب جرح و تعدیل میں کچھ نہیں ملتا اور نہ ہی یہ کسی کو معلوم ہے کہ وہ کب فوت ہوا ہے۔ نہ یہ پتہ ہے کہ اس کے اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان کتنے راوی ہیں، پھر اس سے روایت کرنے والا راوی عثمان بن عبدالرحمٰن طرائفی ہے۔ یہ صدوق ہے اس کی اکثر روایات ضعفاء اور مجہول راویوں سے ہوتی ہیں، اسی لیے اسے ضعیف کہا گیا، حتیٰ کہ ابن نمیر نے اس کی نسبت کذب کی طرف کر دی ہے۔

(تقریب التہذیب لابن حجر: جلد 1 صفحہ 662)

اصبہانی نے یہ تدلیس کی ہے کہ اس نے عثمان بن عبدالرحمٰن کی کنیت بیان نہیں کی تاکہ اسے پہچانا نہ جا سکے اور تاکہ یہ گمان کیا جائے کہ وہ کوئی ثقہ راوی ہے۔ کیونکہ متعدد ثقات راوی اس نام میں مشترک ہیں اور جب طرائفی اور اسماعیل بن راشد کے اساتذہ اور شاگردوں کے متعلق تحقیق کی گئی تو یہ امر موکد ہو گیا کہ یہ طرائفی ہی ہے اور سند کے ردّ کرنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ طرائفی سند میں موجود ہے۔


صفحہ 4 از 4