Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دیگر شبہات

  علی محمد الصلابی

پہلا شبہ

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سمیت تمام ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم اہل بیت میں سے نہیں۔‘‘

(موقف الشیعۃ الاثنی عشریۃ من الصحابۃ رضی اللہ عنہم لعبد القادرمحمد عطاء صوفی: صفحہ 1234، 1240)

اہل تشیع کا یہ دعویٰ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے نہیں اور وہ اہل بیت میں علی، فاطمہ، حسن، حسین اور حسین رضی اللہ عنہن کی اولاد میں سے صرف اپنے بارہ اماموں کو شمار

کرتے ہیں اور ان کے علاوہ ہر کسی کو اہل بیت سے خارج کرتے ہیں، حتیٰ کہ علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما کی دیگر اولاد کو بھی اہل بیتؓ میں شمار نہیں کرتے۔

اس لیے ان کے نزدیک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی دیگر اولاد اہل بیت میں شمار نہیں ہوتی جیسے محمد بن حنفیہ، ابوبکر، عمر، عثمان، عباس، جعفر، عبداللہ، عبیداللہ، یحییٰ اور نہ ہی ان کے بارہ بیٹے اور ان کی اٹھارہ یا انیس بیٹیاں (اختلاف روایات کی بنا پر)، اسی طرح انھوں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی دیگر بیٹیوں کو بھی اہل بیت سے نکال دیا ہے، جیسے زینب، ام کلثوم اور ان دونوں کی اولاد کو۔ اسی طرح وہ حسن بن علی کی ساری اولاد کو اہل بیت سے نکالتے ہیں۔ بلکہ وہ حسین کی اکثر اولاد پر جھوٹ، فسق و فجور حتیٰ کہ کفر و ارتداد تک کے بہتان لگاتے ہیں۔ اسی طرح وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچوں اور پھوپھیوں کے بیٹوں اور ان کی اولاد کو گالیاں دیتے ہیں، حتیٰ کہ علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ ابو طالب کی دیگر اولاد سے بھی وہ یہی سلوک کرتے ہیں، اسی طرح وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تینوں بیٹیوں زینب، ام کلثوم اور رقیہ علیہ السلام کو سوائے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ان سب کے خاوندوں اور اولادوں کو اہل بیت میں شمار نہیں کرتے۔

(اس موضوع کے مطالعہ کے لیے ان کی معتبر کتب جیسے ’’فرق الشیعۃ‘‘ لابی محمد الحسن بن موسی نوبختی کی طرف رجوع کریں۔ صفحہ 39، 40۔) اور ’’اعیان الشیعۃ‘‘ للسید محسن امین: جلد 1 صفحہ 11۔ البحث الاوّل اور ’’الشیعۃ فی عقائدہم و احکامہم‘‘ للسید امیر محمد الکاظمی القزوینی، صفحہ 16)