Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ازواج مطہرات کو اہل بیت میں شمار نہ کرنے والوں کا ردا

  علی محمد الصلابی

الف: لغوی اعتبار سے

الاہل للبیت: گھر والوں سے مراد اس میں رہنے والے ہی ۔

اہل القری: بستیوں میں رہنے والے۔

الاہل للمذہب: مذہب اختیار کرنے والے اور مخصوص اعتقاد رکھنے والے اور بطور مجاز کہا جاتا ہے:

الاہل للرجل: مرد کی بیوی اور اس کے ساتھ اولاد بھی شامل ہوتی ہے۔ اسی معنیٰ میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿وَ سَارَ بِاَھْلِہٖٓ ﴾ (سورة القصص: آیت 29) ’’اور اپنے گھر والوں کو لے کر چلا‘‘ یعنی اپنے اہل و عیال کے ساتھ۔

اہلہ اور اہلتہ: ہم معنی ہیں۔

الاہل للنبی صلي اللّٰه عليه وسلم: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ، بیٹیاں ، آپ کے داماد علی رضی اللہ عنہ یا آپ سے متعلقہ دیگر عورتیں۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ اہل سے مراد وہ مرد جو ان کی اولاد سے ہوں، اس میں پوتے اور نواسے بھی شامل ہیں۔ اسی معنیٰ میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

وَاۡمُرۡ اَهۡلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَاصۡطَبِرۡ عَلَيۡهَا‌۞(سورۃ طه آیت 132)

ترجمہ: ’’اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور خود بھی اس پر ثابت قدم رہو۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 33)

ترجمہ: اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور رکھے، اور تمہیں ایسی پاکیزگی عطا کرے جو ہر طرح مکمل ہو۔

اور فرمایا:

رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكٰتُهٗ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ‌ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ‏ ۞ (سورۃ هود آیت 73)

ترجمہ: آپ جیسے مقدس گھرانے پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہی برکتیں ہیں، بیشک وہ ہر تعریف کا مستحق، بڑی شان والا ہے۔

’’ہر نبی کے اہل‘‘ سے مراد اس کی امت اور اس کی ملت والے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَ كَانَ يَاۡمُرُ اَهۡلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ وَكَانَ عِنۡدَ رَبِّهٖ مَرۡضِيًّا ۞ (سورۃ مريم آیت 55)

ترجمہ: اور وہ اپنے گھر والوں کو بھی نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا کرتے، اور اپنے پروردگار کے نزدیک پسندیدہ تھے۔

راغب ( حسین بن محمد بن مفضل ابو القاسم اصفہانی۔ الراغب کے نام سے مشہور ہے۔ العلامہ، الماہر، المحقق، الباہر، ذہین و فطین، اہل کلام میں سے تھا، حتیٰ کہ امام غزالی کا ہم پلہ شمار ہوتا ہے۔ اس کی تصنیفات ’’مفردات الفاظ القرآن الکریم‘‘ اور ’’الذریعۃ الی مکارم الشریعۃ‘‘ ہیں۔ 502 ہجری میں فوت ہوا۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 18 صفحہ 120۔ الاعلام للزرکلی: جلد 2 صفحہ 255) نے کہا اور مناوی (عبدالرؤوف بن تاج العارفین بن علی المناوی، الحافظ، الفقیہ شافعی المذہب۔ 952 ہجری میں پیدا ہوا۔ تصنیف و تحقیق میں مشغول ہو گیا۔ کھانا کم کھاتا اور رات کو دیر تک بیدار رہتا۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’فیض القدیر شرح الجامع الصغیر‘‘ اور ’’شرح شمائل الترمذی‘‘ ہیں۔ 1031 میں فوت ہوا۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 6 صفحہ 204۔ ہدیۃ العارفین لاسماعیل باشا البغدادی: جلد 5 صفحہ 510) نے اس کی متابعت کی۔

اہل الرجل: جو لوگ اس کے ساتھ ہوں نسب، دین، پیشہ، گھر یا شہر وغیرہ میں۔

درحقیقت اہل الرجل: جو اس کے ساتھ ایک رہائش گاہ میں رہتے ہوں، پھر اس معنیٰ کو وسیع کیا گیا، یہ بھی ایک رائے ہے۔ جو لوگ نسب وغیرہ کے ساتھ اکٹھے ہوں اور مطلق طور پر اس لفظ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان مراد لیا جاتا ہے۔

(تاج العروس للزبیدی: جلد 28 صفحہ 41۔ ابن منظور کہتے ہیں: کسی آدمی کے اہل سے مراد وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس کے لیے سب سے زیادہ خاص ہوں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے مراد آپﷺ کی بیویاں، آپﷺ کی بیٹیاں، آپﷺ کے داماد یعنی علی و عثمان رضی اللہ عنہما ہیں اور ایک رائے یہ بھی ہے وہ مرد اور عورتیں جنھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی وہ آپﷺ کی آل میں سے ہیں۔ (لسان العرب: جلد 11 صفحہ 29)

درج بالا تعریفات کے خلاصے کے طور پر ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ بیویاں تو اہل بیت کے مفہوم میں داخل ہی ہیں۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں اور جب مفہوم میں وسعت پیدا کر دی جائے تو آدمی کی اولاد اور اس کے اقارب بھی اس کے اہل بیت میں شامل ہو جاتے ہیں۔