Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عہد نبوی سے ثبوت

  علی محمد الصلابی

ج: سنت نبوی سے ثبوت

متفق علیہ روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر آئے تو ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں مخاطب کیا: ’’السلام علیکم اہل البیت و رحمۃ اللہ‘‘۔۔۔ اے گھر والو! تم پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو۔

تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب میں کہا: ’’آپ پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4793۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1428)

چادر والی حدیث

صفیہ بنت شیبہ بیان کرتی ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سیاہ بالوں کی دھاری دار چادر تھی۔ اس دوران سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چادر میں لپیٹ لیا، پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے تو اسے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر میں لپیٹ لیا۔ پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں تو اسے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر میں لپیٹ لیا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بھی چادر میں لپیٹ لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی:

اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞(سورۃ الأحزاب آیت 33)

ترجمہ: اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور رکھے، اور تمہیں ایسی پاکیزگی عطا کرے جو ہر طرح مکمل ہو۔

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)

عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞

تو آپ (میری والدہ) ام سلمہ کے گھر میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا اور ان کو چادر سے ڈھانپ دیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پیچھے تھے۔ ان سب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر سے ڈھانپ دیا۔ پھر فرمایا: ’’اے اللہ! یہ میرے گھر والے ہیں تو ان سے نجاست دُور کر دے اور ان کو پاک کر دے اچھی طرح پاک کرنا۔‘‘ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم اپنی جگہ پر رہو اور تم بھلائی پر ہو۔‘‘

(سنن الترمذی: حدیث نمبر: 3205۔ طبرانی: جلد 9 صفحہ 25، حدیث نمبر: 8311۔ امام ترمذی نے کہا: یہ غریب ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح سنن ترمذی میں صحیح کہا۔)

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، حسن، حسین اور فاطمہ رضی اللہ عنہم پر چادر ڈال دی اور فرمایا: اے اللہ! یہ میرے گھر والے اور میرے خاص لوگ ہیں۔ تو ان سے نجاست دُور کر دے اور ان کو اچھی طرح پاک کر دے، ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں بھی ان کے ساتھ ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تو نیکی کی طرف گامزن ہے۔‘‘

(سنن الترمذی: 3871۔ مسند أحمد: جلد 6 صفحہ 304، حدیث نمبر: 26639۔ طبرانی: جلد 23 صفحہ 333، ح: 768۔ مسند أبی یعلیٰ: جلد 12 صفحہ 451 حدیث نمبر: 7021۔ ترمذی نے اسے حسن کہا اور اس باب میں سب روایات سے عمدہ یہی روایت ہے اور حافظ ابن حجر نے تہذیب التہذیب: جلد 2 صفحہ 297 میں کہا: اس کی متعدد اسناد ہیں اور البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح سنن ترمذی: ح: 3871 میں صحیح لغیرہ کہا۔ حاکم نے اسے ایک اور سند کے ساتھ روایت کیا، جلد 3 صفحہ 158 اور بیہقی نے جلد 2 صفحہ 150، حدیث نمبر: 2975 اور بغوی رحمہ اللہ نے شرح السنۃ: جلد 7 صفحہ 204 میں کچھ الفاظ کے اختلاف کے ساتھ روایت کیا۔ اس کی سند کو حاکم نے صحیح کہا۔ جیسا کہ سنن کبری للبیہقی: جلد 2 صفحہ 150۔ پر ہے۔ اور بغوی نے کہا: اس کے راوی ثقات ہیں اور ذہبی رحمہ اللہ نے ’’المہذب: جلد 2 صفحہ 597 میں کہا اس کی سند صالح ہے اور اس میں کچھ منکر بھی ہے اور شوکانی نے فتح القدیر: جلد 4 صفحہ 392 میں کہا اس کے ساتھ تمسک کیا جا سکتا ہے اور اس کی متعدد اسناد ہیں۔ علامہ مبارک پوری رحمہ اللہ نے کہا: ام سلمہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟ یہاں شروع میں صرف استفہام مقدر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم اپنی جگہ پر رہو اور تم بھلائی پر ہو۔‘‘

اس معنیٰ کا احتمال بھی ہے کہ تم بھلائی پر ہو اور تم اپنی جگہ رہو۔ یعنی تم تو میرے اہل بیت میں سے ہو اور تمھیں چادر کے نیچے آنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی موجودگی کی وجہ سے وہاں آنے سے روک دیا۔

(تحفۃ الأحوذی بشرح جامع الترمذی للمبارکفوری: جلد 9 صفحہ 48)

شیخ محمد طاہر بن عاشور تونسی رحمہ اللہ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر کرتے ہوئے کہا:

اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 33)

ترجمہ: اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور رکھے، اور تمہیں ایسی پاکیزگی عطا کرے جو ہر طرح مکمل ہو۔

(سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے حدیث سنائی کہ یہ آیت ان کے گھر میں نازل ہوئی (اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞) تو انھوں نے کہا: میں دروازے کے قریب بیٹھی ہوئی تھی تو میں نے کہا: اے رسول اللہ! کیا میں اہل بیت میں سے نہیں ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم بھلائی کی طرف ہو۔ بے شک تم نبی کی بیویوں میں سے ہو۔‘‘ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، علی، فاطمہ اور حسن و حسین سب گھر میں تھے رضی اللہ عنہم۔ (اسے ابو نعیم اصبہانی نے معرفۃ الصحابۃ: جلد 6 صفحہ 3222، حدیث نمبر: 7418 میں روایت کیا۔ نیز شرح مشکل الآثار للطحاوی: جلد 2 صفحہ 238 دیکھیں۔)

اہل تشیع حدیث کساء کو غلط طور پر پیش کرتے ہیں اور انھوں نے اہل بیت کا وصف غصب کر لیا اور اسے صرف فاطمہ، ان کے خاوند اور ان دونوں کے دونوں بیٹوں رضی اللہ عنہم تک محدود کر لیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اہل البیت میں شامل نہیں۔ یہ مؤقف قرآن کے خلاف ہے، کیونکہ اس آیت کو نعوذ باللہ من ذلک بے معنیٰ بنا دیا گیا ہے جو خصوصی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو خطاب کر رہی ہے اور حدیث کساء (چادر والی حدیث) میں کوئی ایسا لفظ نہیں ہے جس سے یہ مفہوم نکلے کہ اہل بیت کی اصطلاح صرف چادر والوں کے لیے خاص ہے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: (ہٰؤُلَائِ اَہْلُ بَیْتِیْ) میں ایسا کوئی لفظ نہیں جو قصر اور تحدید کا فائدہ دے کہ صرف یہی میرے گھر والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بالکل اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی لوط علیہ السلام کی زبان سے جو الفاظ کہلوائے انہی کی طرح ہیں: 

قَالَ اِنَّ هٰٓؤُلَاۤءِ ضَيۡفِىۡ فَلَا تَفۡضَحُوۡنِ ۞ (سورۃ الحجر آیت 68)

ترجمہ: لوط نے (ان سے) کہا کہ: یہ لوگ میرے مہمان ہیں، لہٰذا مجھے رسوا نہ کرو۔

اس آیت کا قطعاً یہ معنیٰ نہیں کہ ان کے علاوہ میرا کوئی مہمان نہیں وگرنہ روافض کے کیے جانے والے معنیٰ کا تقاضا ہے کہ آیت اپنے سیاق و سباق سے لاتعلق اور منقطع ہو جائے۔ جو نظم قرآنی کے خلاف ہے۔ بہرحال جو عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما کی روایت میں الفاظ ہیں کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم اپنی جگہ پر رہو اور تم بھلائی پر ہو۔‘‘اس حدیث میں روافض کو وہم ہوا ہے اور اسی وہم کی بنیاد پر انھوں نے گمان باطل کر لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو اپنے اہل بیت میں شمار کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ جہالت کی انتہا ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سوال کے مطابق ہی انھیں جواب دیا۔

یہ آیت ام سلمہ کے اور ان کی سوکنوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس لیے انھیں تو ان (چادر والوں ) کے ساتھ الحاق کی کوئی ضرورت نہ تھی اور مزید یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے دعا کرتے کہ اللہ ان سے نجاست دُور کر دے اور انھیں پاک کر دے۔ ایسی چیز کو حاصل کرنے کی دعا جو حاصل ہو چکی ہو۔ یہ آداب دعا کے منافی ہے۔ جیسا کہ شہاب الدین قرافی نے تحریر کیا ہے کہ دعا کی دو اقسام ہیں:

1۔ جس دعا کی اجازت دی گئی ہو۔

2۔ جو دعا ممنوع ہو۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی تعلیم کے لیے تھا۔

کچھ روایات کے الفاظ یہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کہا: ’’بے شک تم تو نبی کی بیوی ہو۔‘‘

یہ الفاظ مراد سمجھنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان ’’بے شک تو بھلائی پر ہے‘‘ سے زیادہ واضح ہیں۔

(التحریر و التنویر لابن عاشور: جلد 22 صفحہ 17۔ بیان موقف شیخ الاسلام و امام اکبر محمد طاہر بن عاشور تیونسی من الشیعۃ من خلال تفسیرہ التحریر و التنویر لخالد احمد الشامی۔)

روافض یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ تطہیر سے پہلی آیات مؤنث کے صیغہ کے ساتھ ہیں جبکہ آیت تطہیر مذکر کے صیغہ کے ساتھ آئی ہے۔ آیت تطہیر کے بعد والی آیت بھی مؤنث کے صیغے کے ساتھ آئی ہے۔ چنانچہ اس سے مراد صرف علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم ہیں، کیونکہ وہ مذکر ہیں۔

جواب: اول: اثنی عشریہ آیت تطہیر میں لفظ (عنکم) اور (یطہرکم) سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ اس میں صرف مذکروں کو خطاب ہے (اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞)اس لیے امہات المؤمنین اہل بیت والے جملے میں شامل نہیں۔ یہ استدلال اور دعویٰ باطل ہے اور ان کی تردید اس طرح ہوتی ہے کہ جب مذکر اور مؤنث کے صیغے اکٹھے آتے ہیں تو مذکر کا غلبہ ہوتا ہے۔ جبکہ آیت عام ہے تمام اہل البیت مرد و زن کو خطاب ہے۔ اس لیے مناسب یہی تھا کہ مذکر کا صیغہ لایا جاتا۔

(موقف الشیعۃ الاثنی عشریہ من الصحابۃ رضی اللہ عنہم لعبد القادر محمد عطاء صوفی: صفحہ 1240 و فضل آل البیت للمقریزی: صفحہ 32، 35)

قرآن کریم میں اس طرح کی مثالیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے قصے میں بار بار آئی ہیں جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے حکایتاً بیان کیا کہ انھوں نے ابراہیم علیہ السلام کی بیوی سارہ رضی اللہ عنہا کو اسحق اور اس کے بعد یعقوب علیہ السلام کی بشارت دی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَامۡرَاَ تُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتۡ فَبَشَّرۡنٰهَا بِاِسۡحٰقَ وَمِنۡ وَّرَآءِ اِسۡحٰقَ يَعۡقُوۡبَ ۞ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰٓى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّهٰذَا بَعۡلِىۡ شَيۡخًا ‌اِنَّ هٰذَا لَشَىۡءٌ عَجِيۡبٌ ۞ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ‌ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكٰتُهٗ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ‌ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ‏ ۞ سورۃ ہود آیت 71، 72، 73)

ترجمہ: اور ابراہیم کی بیوی کھڑی ہوئی تھیں، وہ ہنس پڑیں، تو ہم نے انہیں (دوبارہ) اسحاق کی، اور اسحاق کے بعد یعقوب کی پیدائش کی خوشخبری دی۔ وہ کہنے لگیں: ہائے! کیا میں اس حالت میں بچہ جنوں گی کہ میں بوڑھی ہوں، اور یہ میرے شوہر ہیں جو خود بڑھاپے کی حالت میں ہیں ؟ واقعی یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ فرشتوں نے کہا : کیا آپ اللہ کے حکم پر تعجب کر رہی ہیں ؟ آپ جیسے مقدس گھرانے پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہی برکتیں ہیں، بیشک وہ ہر تعریف کا مستحق، بڑی شان والا ہے۔

چنانچہ ابتدائے آیات میں ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ کو مؤنث کے صیغوں سے خطاب کیا گیا ہے، مثلاً ﴿ فَبَشَّرْنَاهَا ﴾ و ﴿ قَالَتْ يَاوَيْلَتَى ﴾﴿ أَتَعْجَبِينَ ﴾پھر آیات کا اسلوب خطاب مؤنث سے مذکر کی طرف تبدیل ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ ﴾ اسی طرح صیغہ مونث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے لیے استعمال کیا گیا اور پھر مونث سے مذکر میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ وہی صورت ہے جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بیوی کے ساتھ پیش آئی۔

دوم: اگر ہم کہیں کہ آیت تطہیر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے لیے آنے والا مؤنث کا صیغہ مذکر میں تبدیل ہو گیا۔ اس لیے رافضیوں کے کہنے کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اہل البیت میں شامل نہیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا بھی نص قرآنی میں داخل نہیں اور یہ ایسی بات! ہی جس کے روافض بھی دعوے دار نہیں، کیونکہ یہی آیت ان کے نزدیک مسئلہ کی اساس اور بنیاد ہے گویا شیعہ کے باطل دعووں پر یہ ردّ قوی و صریح ہے۔

اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سیدنا علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو اہل البیت میں اضافی طور پر شامل نہ کیا جاتا تو آیت کریمہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں تک ہی محدود و مقصور ہوتی۔ جس طرح کہ ابراہیم علیہ السلام کی بیوی سارہ رحمہ اللہ کے ساتھ اور موسیٰ علیہ السلام کی بیوی کے ساتھ ہوا، چنانچہ قرآن کریم وضاحت کر رہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیویاں ہی آپ کی اہل البیت ہیں ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ اضافی طور پر علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کوبھی شامل کر لیا اور یہ لغت عربی کے اسلوب اور ثقافت کے ساتھ میلان رکھتا ہے۔ نیز جو لوگوں کے ہاں مروج ہے اور رافضیوں کے باطل دعوؤں کے برعکس ہے۔

سوم: سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا و نبیّنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کے تذکرے میں مؤنث سے مذکر کے صیغے میں تبدیلی کیوں ہوئی؟

جواب: کیونکہ گھر سب سے پہلے نبی علیہ السلام کا گھر ہے۔ جب اس میں کوئی غلطی واقع ہو تو سب سے پہلے گھر کے مالک کا نام لیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے کہ گھر کے دوسرے افراد کا نام لیا جائے، کیونکہ انجام کار طعن و تشنیع کا اصل نشانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شرافت و نبوت کو بنایا جائے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے (اہل البیت) ہیں اور گھر والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر قسم کی نجاست سے پاک ہوں اور طہارت و نفاست ان کی پہچان ہو۔

گویا آیات کریمہ میں نبی علیہ السلام کو اس کی بیویوں سمیت مخاطب کیا گیا ہے اور دلالت حدیث کے ذریعے علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم ان میں اضافی طور پر شامل ہیں اور یہ اسلوب لغت عربی کا اسلوب ہے کہ جس میں مذکر کو مخاطب کیا جاتا ہے، لیکن اس سے مراد مذکر اور مونث دونوں ہوتے ہیں اور اسے غالب اسلوب یا تغلیبی اسلوب کہتے ہیں اور یہ قرآن میں بکثرت استعمال ہوا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا (سورة البقرۃ آیت 104) ’’اے ایمان والو!‘‘

تو اس آیت میں مومن مرد اور مومن عورتیں سب شامل ہیں۔

(غیر مطبوعہ مقالہ بعنوان امنا عائشۃ ملکۃ العفاف لشحاتہ محمد صقر۔)