عہد نبوی سے ثبوت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

عہد نبوی سے ثبوت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

ج: سنت نبوی سے ثبوت

متفق علیہ روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر آئے تو ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں مخاطب کیا: ’’السلام علیکم اہل البیت و رحمۃ اللہ‘‘۔۔۔ اے گھر والو! تم پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو۔

تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب میں کہا: ’’آپ پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4793۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1428)

چادر والی حدیث

صفیہ بنت شیبہ بیان کرتی ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سیاہ بالوں کی دھاری دار چادر تھی۔ اس دوران سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چادر میں لپیٹ لیا، پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے تو اسے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر میں لپیٹ لیا۔ پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں تو اسے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر میں لپیٹ لیا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بھی چادر میں لپیٹ لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی:

اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞(سورۃ الأحزاب آیت 33)

ترجمہ: اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور رکھے، اور تمہیں ایسی پاکیزگی عطا کرے جو ہر طرح مکمل ہو۔

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)

عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞

تو آپ (میری والدہ) ام سلمہ کے گھر میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا اور ان کو چادر سے ڈھانپ دیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پیچھے تھے۔ ان سب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر سے ڈھانپ دیا۔ پھر فرمایا: ’’اے اللہ! یہ میرے گھر والے ہیں تو ان سے نجاست دُور کر دے اور ان کو پاک کر دے اچھی طرح پاک کرنا۔‘‘ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم اپنی جگہ پر رہو اور تم بھلائی پر ہو۔‘‘

(سنن الترمذی: حدیث نمبر: 3205۔ طبرانی: جلد 9 صفحہ 25، حدیث نمبر: 8311۔ امام ترمذی نے کہا: یہ غریب ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح سنن ترمذی میں صحیح کہا۔)

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، حسن، حسین اور فاطمہ رضی اللہ عنہم پر چادر ڈال دی اور فرمایا: اے اللہ! یہ میرے گھر والے اور میرے خاص لوگ ہیں۔ تو ان سے نجاست دُور کر دے اور ان کو اچھی طرح پاک کر دے، ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں بھی ان کے ساتھ ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تو نیکی کی طرف گامزن ہے۔‘‘

(سنن الترمذی: 3871۔ مسند أحمد: جلد 6 صفحہ 304، حدیث نمبر: 26639۔ طبرانی: جلد 23 صفحہ 333، ح: 768۔ مسند أبی یعلیٰ: جلد 12 صفحہ 451 حدیث نمبر: 7021۔ ترمذی نے اسے حسن کہا اور اس باب میں سب روایات سے عمدہ یہی روایت ہے اور حافظ ابن حجر نے تہذیب التہذیب: جلد 2 صفحہ 297 میں کہا: اس کی متعدد اسناد ہیں اور البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح سنن ترمذی: ح: 3871 میں صحیح لغیرہ کہا۔ حاکم نے اسے ایک اور سند کے ساتھ روایت کیا، جلد 3 صفحہ 158 اور بیہقی نے جلد 2 صفحہ 150، حدیث نمبر: 2975 اور بغوی رحمہ اللہ نے شرح السنۃ: جلد 7 صفحہ 204 میں کچھ الفاظ کے اختلاف کے ساتھ روایت کیا۔ اس کی سند کو حاکم نے صحیح کہا۔ جیسا کہ سنن کبری للبیہقی: جلد 2 صفحہ 150۔ پر ہے۔ اور بغوی نے کہا: اس کے راوی ثقات ہیں اور ذہبی رحمہ اللہ نے ’’المہذب: جلد 2 صفحہ 597 میں کہا اس کی سند صالح ہے اور اس میں کچھ منکر بھی ہے اور شوکانی نے فتح القدیر: جلد 4 صفحہ 392 میں کہا اس کے ساتھ تمسک کیا جا سکتا ہے اور اس کی متعدد اسناد ہیں۔ علامہ مبارک پوری رحمہ اللہ نے کہا: ام سلمہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟ یہاں شروع میں صرف استفہام مقدر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم اپنی جگہ پر رہو اور تم بھلائی پر ہو۔‘‘

اس معنیٰ کا احتمال بھی ہے کہ تم بھلائی پر ہو اور تم اپنی جگہ رہو۔ یعنی تم تو میرے اہل بیت میں سے ہو اور تمھیں چادر کے نیچے آنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی موجودگی کی وجہ سے وہاں آنے سے روک دیا۔

(تحفۃ الأحوذی بشرح جامع الترمذی للمبارکفوری: جلد 9 صفحہ 48)

شیخ محمد طاہر بن عاشور تونسی رحمہ اللہ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر کرتے ہوئے کہا:

اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 33)

ترجمہ: اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور رکھے، اور تمہیں ایسی پاکیزگی عطا کرے جو ہر طرح مکمل ہو۔

(سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے حدیث سنائی کہ یہ آیت ان کے گھر میں نازل ہوئی (اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞) تو انھوں نے کہا: میں دروازے کے قریب بیٹھی ہوئی تھی تو میں نے کہا: اے رسول اللہ! کیا میں اہل بیت میں سے نہیں ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم بھلائی کی طرف ہو۔ بے شک تم نبی کی بیویوں میں سے ہو۔‘‘ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، علی، فاطمہ اور حسن و حسین سب گھر میں تھے رضی اللہ عنہم۔ (اسے ابو نعیم اصبہانی نے معرفۃ الصحابۃ: جلد 6 صفحہ 3222، حدیث نمبر: 7418 میں روایت کیا۔ نیز شرح مشکل الآثار للطحاوی: جلد 2 صفحہ 238 دیکھیں۔)

صفحہ 1 از 3