عہد نبوی سے ثبوت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

عہد نبوی سے ثبوت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

اہل تشیع حدیث کساء کو غلط طور پر پیش کرتے ہیں اور انھوں نے اہل بیت کا وصف غصب کر لیا اور اسے صرف فاطمہ، ان کے خاوند اور ان دونوں کے دونوں بیٹوں رضی اللہ عنہم تک محدود کر لیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اہل البیت میں شامل نہیں۔ یہ مؤقف قرآن کے خلاف ہے، کیونکہ اس آیت کو نعوذ باللہ من ذلک بے معنیٰ بنا دیا گیا ہے جو خصوصی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو خطاب کر رہی ہے اور حدیث کساء (چادر والی حدیث) میں کوئی ایسا لفظ نہیں ہے جس سے یہ مفہوم نکلے کہ اہل بیت کی اصطلاح صرف چادر والوں کے لیے خاص ہے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: (ہٰؤُلَائِ اَہْلُ بَیْتِیْ) میں ایسا کوئی لفظ نہیں جو قصر اور تحدید کا فائدہ دے کہ صرف یہی میرے گھر والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بالکل اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی لوط علیہ السلام کی زبان سے جو الفاظ کہلوائے انہی کی طرح ہیں: 

قَالَ اِنَّ هٰٓؤُلَاۤءِ ضَيۡفِىۡ فَلَا تَفۡضَحُوۡنِ ۞ (سورۃ الحجر آیت 68)

ترجمہ: لوط نے (ان سے) کہا کہ: یہ لوگ میرے مہمان ہیں، لہٰذا مجھے رسوا نہ کرو۔

اس آیت کا قطعاً یہ معنیٰ نہیں کہ ان کے علاوہ میرا کوئی مہمان نہیں وگرنہ روافض کے کیے جانے والے معنیٰ کا تقاضا ہے کہ آیت اپنے سیاق و سباق سے لاتعلق اور منقطع ہو جائے۔ جو نظم قرآنی کے خلاف ہے۔ بہرحال جو عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما کی روایت میں الفاظ ہیں کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم اپنی جگہ پر رہو اور تم بھلائی پر ہو۔‘‘اس حدیث میں روافض کو وہم ہوا ہے اور اسی وہم کی بنیاد پر انھوں نے گمان باطل کر لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو اپنے اہل بیت میں شمار کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ جہالت کی انتہا ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سوال کے مطابق ہی انھیں جواب دیا۔

یہ آیت ام سلمہ کے اور ان کی سوکنوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس لیے انھیں تو ان (چادر والوں ) کے ساتھ الحاق کی کوئی ضرورت نہ تھی اور مزید یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے دعا کرتے کہ اللہ ان سے نجاست دُور کر دے اور انھیں پاک کر دے۔ ایسی چیز کو حاصل کرنے کی دعا جو حاصل ہو چکی ہو۔ یہ آداب دعا کے منافی ہے۔ جیسا کہ شہاب الدین قرافی نے تحریر کیا ہے کہ دعا کی دو اقسام ہیں:

1۔ جس دعا کی اجازت دی گئی ہو۔

2۔ جو دعا ممنوع ہو۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی تعلیم کے لیے تھا۔

کچھ روایات کے الفاظ یہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کہا: ’’بے شک تم تو نبی کی بیوی ہو۔‘‘

یہ الفاظ مراد سمجھنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان ’’بے شک تو بھلائی پر ہے‘‘ سے زیادہ واضح ہیں۔

(التحریر و التنویر لابن عاشور: جلد 22 صفحہ 17۔ بیان موقف شیخ الاسلام و امام اکبر محمد طاہر بن عاشور تیونسی من الشیعۃ من خلال تفسیرہ التحریر و التنویر لخالد احمد الشامی۔)

روافض یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ تطہیر سے پہلی آیات مؤنث کے صیغہ کے ساتھ ہیں جبکہ آیت تطہیر مذکر کے صیغہ کے ساتھ آئی ہے۔ آیت تطہیر کے بعد والی آیت بھی مؤنث کے صیغے کے ساتھ آئی ہے۔ چنانچہ اس سے مراد صرف علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم ہیں، کیونکہ وہ مذکر ہیں۔

جواب: اول: اثنی عشریہ آیت تطہیر میں لفظ (عنکم) اور (یطہرکم) سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ اس میں صرف مذکروں کو خطاب ہے (اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞)اس لیے امہات المؤمنین اہل بیت والے جملے میں شامل نہیں۔ یہ استدلال اور دعویٰ باطل ہے اور ان کی تردید اس طرح ہوتی ہے کہ جب مذکر اور مؤنث کے صیغے اکٹھے آتے ہیں تو مذکر کا غلبہ ہوتا ہے۔ جبکہ آیت عام ہے تمام اہل البیت مرد و زن کو خطاب ہے۔ اس لیے مناسب یہی تھا کہ مذکر کا صیغہ لایا جاتا۔

(موقف الشیعۃ الاثنی عشریہ من الصحابۃ رضی اللہ عنہم لعبد القادر محمد عطاء صوفی: صفحہ 1240 و فضل آل البیت للمقریزی: صفحہ 32، 35)

قرآن کریم میں اس طرح کی مثالیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے قصے میں بار بار آئی ہیں جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے حکایتاً بیان کیا کہ انھوں نے ابراہیم علیہ السلام کی بیوی سارہ رضی اللہ عنہا کو اسحق اور اس کے بعد یعقوب علیہ السلام کی بشارت دی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَامۡرَاَ تُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتۡ فَبَشَّرۡنٰهَا بِاِسۡحٰقَ وَمِنۡ وَّرَآءِ اِسۡحٰقَ يَعۡقُوۡبَ ۞ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰٓى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّهٰذَا بَعۡلِىۡ شَيۡخًا ‌اِنَّ هٰذَا لَشَىۡءٌ عَجِيۡبٌ ۞ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ‌ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكٰتُهٗ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ‌ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ‏ ۞ سورۃ ہود آیت 71، 72، 73)

ترجمہ: اور ابراہیم کی بیوی کھڑی ہوئی تھیں، وہ ہنس پڑیں، تو ہم نے انہیں (دوبارہ) اسحاق کی، اور اسحاق کے بعد یعقوب کی پیدائش کی خوشخبری دی۔ وہ کہنے لگیں: ہائے! کیا میں اس حالت میں بچہ جنوں گی کہ میں بوڑھی ہوں، اور یہ میرے شوہر ہیں جو خود بڑھاپے کی حالت میں ہیں ؟ واقعی یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ فرشتوں نے کہا : کیا آپ اللہ کے حکم پر تعجب کر رہی ہیں ؟ آپ جیسے مقدس گھرانے پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہی برکتیں ہیں، بیشک وہ ہر تعریف کا مستحق، بڑی شان والا ہے۔

صفحہ 2 از 3