Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

متعہ شیعہ اور عدت

  مولانا اللہ یار خانؒ

متعہ شیعہ اور عدت

علی نقی شیعہ مجتہد نے متعہ اور نکاح میں مساوات قائم کرنے کے لیے اپنی کتاب کے صفحہ 61 تا 70 پر لکھا ہے کہ ممتوعہ عورت پر بھی عدت ہے بعد انقضاءِ مدتِ متعہ۔

الجواب: علی نقی شیعہ ممتوعہ عورت کو کوئی بیوقوف سے بیوقوف بھی زوجہ منکوحہ میں داخل کرنے کے لیے تیار نہیں متعہ دس منٹ یا سات منٹ کے لیے دو آنہ پر بھی کیا جا سکتا ہے کہاں نکاح چونکہ منکوحہ جن کا نکاح صحیح مطلقہ کی عدت تین حیض ہے اور ممتوعہ بعد انقضاء وقت کی عدت دو حیض ہے "لا يحل يغرك حتىٰ تنقض عدتها وعدتها حيضتان" ممتوعہ کی مدت غیر کی وطی کے لیے دو حیض کے بعد پاک ہو جائے گی اور علی نقی شیعہ نے اپنے رسالہ متعہ اور اسلام کے صفحہ 69 پر دبی زبان تسلیم بھی کر گئے کہ واقعی نکاح صحیح و متعہ کی عدت میں فرق ضروری ہے باقی یہ اعتراض کرنا کہ باندی کو ذمیہ کو قاتلہ خاوند کو بھی میراث نہیں ملتی تو کیا وہ زوج میں داخل نہیں حالانکہ وہ پھر بھی زوجہ میں داخل ہے۔

الجواب: جی علی نقی شیعہ! سمجھتے تو خود نہیں اور اعتراض غیروں پر کرتے ہیں۔ باندی کو میراث اس لیے نہیں ملی کہ غلام خود کی چیز کا مالک نہیں اس کو میراث کہاں سے دی جائے۔ ذمیہ کو اختلافِ دین کی وجہ سے محرم کیا گیا، قاتلہ کو بوجہ قتل کے بھلا ممتوعہ عورت میں کون سی چیز ان چیزوں سے پائی گئی تھی جس کی وجہ سے وہ میراث سے محروم کی گئی۔ علی نقی شیعہ اگر ممتوعہ عورت منکوحہ و زوجہ میں داخل تھی اور آپ داخل ہی فرماتے ہیں۔ تو زوجہ منکوحہ کے لیے تو قرآن نے عدت قروء تین حیض بیان فرمائی ہے اور ممتوعہ کی عدت شیعہ نے دو حیض و پنتالیس دن قرآن کی یہ کس آیت سے اخذ کی ہے وہ آیت ذرا پیش فرمائیں! منکوحہ بنکاحِ صحیح کو طلاق سے جدا کیا جاتا ہے قرآن نے ممتوعہ کے لیے جو وقت مقرر کیا ہے وہ آیت پیش کرنا منکوحہ بنکاح خلع بھی ہے لعان بھی ہے ظہار بھی، میراث بھی ہے اور گواہ بھی ہیں۔ اگر ممتوعہ کو زوجہ میں داخل فرمانے کی آرزو ہے تو یہ احکام بھی ممتوعہ کے لیے ثابت کریں ورنہ دنیا کے سامنے اس صاف سفید جھوٹ کو پیش نہ کریں کہ ممتوعہ بھی زوجہ ہے۔