متعہ اور اولاد متعہ
مولانا اللہ یار خانؒمتعہ اور اولادِ متعہ
علی نقی شیعہ نے اپنی کتاب کے صفحہ 84 پر لکھا ہے کہ متعہ سے جو اولاد ہوگی وہ وطی متمتع کی ہوگی اور اس پر صرف ایک حدیث ابنِ بزیغ کی سیدنا رضا سے پیش کی جس حدیث کا راوی ہی مجہول ہے جیسا من لا یحضرہ الفقيه (من سئال رجل ابا الحسن عليه وسلم) ایک مرد نے امام سے سوال کیا، اب خود ظاہر ہے کہ وہ رجل یعنی شخص کون تھا؟۔
ایسی مجہول روایات پر جس مذہب کی بنیاد ہو اس کا خدا ہی حافظ؛
اب علی نقی شیعہ کو سابقہ صحیح احادیث کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔ جن میں ائمہ معصومین و علماء شیعہ و مجتہدین شیعہ کی تصریحات موجود ہیں کہ جس نکاح سے اولاد یا میراث مقصود ہو اس نکاح پر گواہوں کا ہونا شرط ہے جس نکاح میں گواہ نہ ہوئے اس کے لیے نہ میراث نہ نسب صحیح ہوگی۔ ان احادیث کا جواب دیں جب متعہ میں گواہ نہ تھے پھر نسبِ اولاد کس طرح صحیح تسلیم کی جائے گی، علی نقی شیعہ آپ ایک نظیر (مثال) صوبہ پنجاب میں پیش کریں کہ فلاں جگہ فلاں لڑکی سے متعہ ہوا بغیر گواہوں کے بغیر والدین و والیان طرفین کے پھر اولاد ہوئی ہو اس کو میراث ورثاء نے دی ہو کوئی مثال ہے تو پیش کریں اور ان کا نام بھی تحریر کریں۔