Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ابتداء اسلام اور متعہ

  مولانا اللہ یار خانؒ

ابتداء اسلام اور متعہ

علی نقی شیعہ نے اپنی کتاب کے صفحہ 88 سے 96 تک صرف اسی امر کو ثابت کیا ہے کہ متعہ ابتداء اسلام میں جائز تھا اور اس کا جواز ایک استمراری امر پایا جاتا تھا اور طویل مدت تک جائز رہا۔

الجواب: اس خدا کے بندے سے کوئی پوچھے کہ خیبر کے دن متعہ کی حرمت کا رسولﷺ نے اعلان کر دیا تھا اور خیبر سے اول جواز کا ثبوت ہی نہیں ہے اور کسی صحابی کے فعل سے ثابت نہیں۔ یہ اعلان حرمتِ متعہ قبل از وقوع ہوا جب کسی صحابی کے فعل سے متعہ ثابت ہی نہیں تو استمراری کہاں سے آگیا۔ یہ مروجہ متعہ جس پر شیعہ زور دے رہے ہیں اس کا ثبوت اسلام میں پایا ہی نہیں جاتا نہ ہی اسلام نے اس کی اجازت دی ہے۔

حرمت کا ثبوت ہے فتح مکہ کے دن نکاحِ مؤقت کا جواز صرف ایک صحابی سے تین دن کا ملتا ہے نہ متعہ کا، ہاں اگر جہالت کی رسومات سے یہ متعہ بھی کوئی رسم ہو تو جدا بات ہے باقی بخاری میں جو جاہلیت کے نکاحوں کا ذکر ہے اور متعہ کا نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ جہالت کے زمانہ میں بھی ممکن ہے کہ اس فعلِ قبیح کو نکاح میں داخل نہ کیا جاتا ہو بلکہ یہ ایک ایسی کوئی رسم ہو، دوم عدمِ ذکرِ متعہ سے عدمِ وجودِ متعہ لازم نہیں آئے گا۔

قال القرطبی الروايات كلها متفقة على ان زمن اباحت المتعة لم يطل۔ 

علامہ قرطبیؒ فرماتے ہیں کہ تمام حدیثیں اس پر متفق ہیں کہ زمانہ متعہ کا چند دن رہا ہے لمبا نہیں ہوا تھا۔

 (فتح الباری: جلد 9 صفحہ 138)۔