حرمت متعہ و نکاح مؤقت پر اجماع امت - ردِ رافضیت | دفاع…

حرمت متعہ و نکاح مؤقت پر اجماع امت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 1 از 2

حرمتِ متعہ و نکاح مؤقت پر اجماع امت

جو ہوا سو ہوا مگر آخر فرمانِ نبویﷺ سے متعہ حرام ثابت ہے اور اس پر تمام امت کا اجماع و اتفاق ہے جن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یا تابعینؒ سے خلاف ہوا بوجہ عدمِ بلوغِ حرمت کے ہوا پھر بلوغ کے بعد ان سے رجوع ثابت ہے۔

1) اعلم ان نكاح المتعة قد كان مباحا بين ايام خيبر وايام فتح مكة الا انه صار منسوخًا باجماع الصحابة حتىٰ لو قضى بجوازه لم يجزوا لو اباحه صار کافرا۔

(مضمرات) اس بات کو جان لیں کہ نکاحِ متعہ مباح تھا۔ درمیان فتح خیبر اور فتح مکہ کے مگر بعد میں یہ منسوخ ہو گیا باجماع صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حتیٰ کہ اگر قاضی شرعی جواز متعہ کا فتویٰ دے تو جائز نہ ہوگا اگر متعہ کو مباح کہے تو کافر ہو جائے گا۔ کذافی المضمرات کتاب مضمرات میں ہے۔

2) والاجماع انعقد على عدم جواز المتعة وتحريمها ما لاخلاف فی ذالك فی علماء و الا مصار الا طائفه من الشيعة

(تفسير مظہری: صفحہ 75)

متعہ کے حرام ہونے پر امت کا اجماع ہو چکا ہے کسی عالم کو اس کے حرام ہونے میں اختلاف نہیں، سوائے جماعت شیعہ کے۔

3) وكان تحريم تابيد لاخلاف بين الائمه وعلماء و الا مصار الا طائفة من الشيعة۔ 

(فتح القدير شرح ہدایہ: جلد 2 صفحہ 34)

متعہ کے ہمیشہ کے لیے حرام ہونے پر تمام شہروں کے علماء کا اتفاق ہے سوائے شیعہ کی ایک جماعت کے۔

4) ثم اجمع السلف و الخلف علىٰ تحريمها الا من لا يلتفت اليه من الروافض

(فتح الباری: جلد 9 صفحہ 139)

پھر تمام علماۓ سلفِ صالحین و خلف کا حرمتِ متعہ پر اتفاق ہے سوائے شیعہ کی جماعت کے جن کی طرف توجہ کرنا جائز نہیں ہے۔

5) وقد اختلف السلف فی نكاح المتعة قال ابن المنذر جاء عن الأوائل الرخصة فيها ولا اعلم اليوم بخيرها الابعض الرافضة ولا معنىٰ لقول يخالف كتاب الله وسنة رسوله

(فتح الباری جلد 9 صفحہ 139)

 سلفِ صالحین میں اختلاف ہوا۔ ابنِ منذر نے کہا کہ متقدمین میں سے اباحت کی اجازت پائی جاتی ہے۔ مگر آج کل دنیا میں کوئی آدمی بھی متعہ کی حرمت میں مخالف نہیں مگر بعض شیعہ کے، مگر ان کا یہ قول قرآن وحدیث کے مخالف ہے اس لیے ان کا قول بے معنیٰ ہے۔

6)۔ قلنا ثبت النسخ باجماع الصحابة وابنِ عباسؓ صح رجوع الى قولهم فتقرر الاجماع

(فتح القدیر: جلد 2 صفحہ، 33)

 ہم کہتے ہیں کہ متعہ باجماع صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین منسوخ ہو چکا ہے، اور سیدنا ابنِ عباسؓ اباحتِ متعہ سے رجوع کر کے حرمتِ متعہ کے قائل ہو گئے تھے۔ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے حرمتِ متعہ پر متفق ہو گئے تھے لہٰذا تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجماع ہوا۔

7) قال عياض ثم وقع الاجماع من جميع العلماء على تحريحمها الا الروافض 

(فتح الباری: جلد 2 صفحہ 138)۔

قاضی عیاض نے کہا کہ پھر تمام علمائے دین کا حرمتِ متعہ پر اتفاق ہو چکا ہے مگر شیعہ کی جماعت قائل نہیں ہے۔

8) ثبت النسخ باجماع الصحابة وابنِ عباسؓ صح رجوعه الى قولهم فتقرر الاجماع۔ 

(ہدایہ شریف: جلد 2 صفحہ 293)

متعہ کا منسوخ ہونا باجماع صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت ہے اور سیدنا عبداللہ بن عباسؓ نے رجوع کر لیا تھا اور حرمتِ متعہ پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے متفق ہو گئے۔ لہٰذا تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا حرمتِ متعہ پر اتفاق ثابت ہوگیا۔

9) قال الخطابی تحريم المتعة بالاجماع الا بعض الشيعة

(فتح الباری: جلد 2 صفحہ 138) 

خطابی نے کہا کہ حرمتِ متعہ اجماعی ہے مگر بعض شیعہ قائل ہیں۔ 

10) فقال بعضهم باباحتها لعدم البلوغ النسخ ثم رجعوا عن الاباحة وقالوا بحرمتها فانعقدت الاجماع علىٰ حرمتها

(بذل المجہود شرح ابو داؤد: جلد 3 صفحہ17)

 پس بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یا تابعینؒ سے متعہ کی اباحت جو ثابت ہوتی ہے۔ وہ عدم بلوغ نسخ کے یعنی حرمتِ متعہ کی حدیث ان کو نہ پہنچی تھی جب حدیثِ رسولﷺ کا علم ہوا کہ رسولﷺ نے متعہ حرام فرمایا ہے تو پھر تمام نے متعہ کے حرام ہونے پر اتفاق کر لیا۔

11) وذهب جمهور العلماء من الصحابة فمن بعدهم الٰى ان نكاح المتعة حرام

(خازن مصری: جلد 5 صفحہ 423)

 تمام علماء صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین

 اور بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حُرمتِ متعہ پر متفق ہیں۔

12) واما الاجماع فان الامة باسرها امتنعوا عن العملبالمتعة مع ظهور الحاجة لهم اليها

(فتح الملہم: جلد 3 صفحہ 444)۔

بہر حال اجماعِ امت حرمتِ متعہ پر یہ ہے کہ تمام امت نے عمل کرنا چھوڑ دیا ہے حالانکہ متعہ کی طرف سخت محتاج بھی تھے۔

13) ثم اتفق العلماء على تحريمها (متعة) وهو كالاجماع بین المسلمين

(مسویٰ شرح مؤطا امام شاہ ولی اللهؒ جلد 2 صفحہ 6)۔ پھر تمام علماۓ امت حرمتِ متعہ پر متفق ہو چکے ہیں کوئی مسلمان اس میں خلاف نہیں۔

14) ونقل ابو عبيده الاجماع على نسخها ای متعة النساء

(تفسر تبصیر الرحمٰن جلد 10 صفحہ 146)۔

ابو عبیدہ نے متعہ کے منسوخ ہونے پر اجماع نقل کیا ہے۔

15) عن بسرة الجهنی وابی هريرةؓ حديث صحيح حسن والعمل علىٰ هٰذا عند اهل العلم من الصحابة وغيرهم (ترمذی: جلد 1 صفحہ 133) 

حرمت متعہ کی حدیث بسرہ جہنی کی جو سیدنا ابو ہریرہؓ سے آتی ہے وہ حسن صحیح ہے اس حرمتِ متعہ پر اہلِ علم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وغیرہ کا عمل تھا۔

16) امراكثر اهل العلم تحريم المتعة وهو قول الثوری و ابن المبارك والشافعی واحمد و اسحاق۔ (رواه الترمذی)۔

 حکم صرف اہلِ علم کا تحریمِ متعہ کا ہے اور یہی حکم ہے سفیان ثوریؒ کا اور عبداللہ بن مبارکؒ امام شافعیؒ و امام احمدؒ و اسحاقؒ کا۔

17) وثبت حرمة المتعة باجماع الصحابة والاجماع قوى من هٰذا

(تفسير ابو جعفر نحاس الناسخ المنسوخ: جلد 1 صفحہ 105)۔

اور حرمتِ متعہ پر تمام صحابه کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجماع ہے اور اجماع بہت قوی ہے۔

18) فقد اختلف العلماء فی هٰذه بعد اجماع من تقوم به الحجة ان المتعة حرام بكتاب الله وسنة رسوله وقول خلفاء الراشدين المهديين(تفسیر ابونحاس)

صفحہ 1 از 2