حرمت متعہ و نکاح مؤقت پر اجماع امت - ردِ رافضیت | دفاع…

حرمت متعہ و نکاح مؤقت پر اجماع امت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 2 از 2

 علماء کا اختلاف ہوا تھا اس میں بعد کو اجماع ہوا۔ ان علماء کا جن کا قول حجت و دلیل ہے کہ متعہ حرام ہے قرآن سے حدیثِ رسولﷺ سے، خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حکم سے۔

19) ان ابن عباسؓ لما خاطبه علىؓ بهذا لم يحاحجه و فصار تحريم المتعة اجماعا لان الذين يحلونها اعتمادهم على ابنِ عباس۔

(تفسیر نحاس صفحہ106)

 جب سیدنا علیؓ نے سیدنا ابنِ عباسؓ سے خطاب کیا اور سیدنا ابنِ عباسؓ نے سیدنا علیؓ کو کوئی جواب نہ دیا اباحتِ متعہ کا تو پس حرمت پر تمام کا اجماع ہوگیا۔ چونکہ لوگ اباحتِ متعہ کے قائل تھے وہ سیدنا ابنِ عباسؓ کے قول پر بھروسہ رکھے ہوئے تھے جب سیدنا ابنِ عباسؓ نے رجوع کر لیا تو متعہ اجماعاً حرام ہو گیا۔

20) وظهر عن الصحابة تحريم ذلك فان عمر ابن الخطابؓ خطب بتحريمه على المنبر واصحاب رسول اللهﷺ متوفرون فصار ذلك كالاجماع وانكر ذلك علىؓ لما بلغه اباحة ابنِ عباسؓ انکار ظاهرا و قد حكى عنه رضى الله عنه الرجوع عن ذلك فصار حظره اجماعا من كل صحابة

( تفسير تنزيہ القرآن: قاضی عبدالجبار معتزلی صفحہ 84 مصری)۔

اور متعہ کی حرمت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ظاہر ہے چونکہ سیدنا عمرؓ نے خطبہ دیا تھا منبر پر اور اصحابِ رسولﷺ سب حاضر موجود تھے پس حرمتِ متعہ اجماعی ہوگئی چونکہ کسی نے حرمت کا انکار نہیں کیا تھا، اور جب سیدنا علیؓ کو سیدنا ابنِ عباسؓ کے مباحِ متعہ ہونے کی خبر ملی تو آپؓ نے سیدنا ابنِ عباسؓ پر سخت انکار کیا۔ اور سیدنا ابنِ عباسؓ کے رجوع کی روایت بھی موجود ہے، تو پس حرمتِ متعہ اجماعی ہوئی تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے۔

21) واعلم انه تاءكد هذا باجماع التابعين على مذهبابنِ عباسؓ والاصح فی اصول الفقه ان الاجماع الحاصل عقيب الخلاف حجة۔

(تفسیر کبیر: جلد 3 صفحہ 4) 

اور جان لے اس امر کو کہ یہ بات باجماع تابعینؒ پختہ ہوچکی ہے اوپر ساقط کرنے مذہبِِ سیدنا ابنِ عباسؓ کے اور اصولِ فقہ میں یہ بات طے ہو چکی ہے کہ اجماع بعد خلافت بھی دلیل قوی ہوتا ہے۔

فائده: گو قبل از عدم بلوغ نسخ متعہ و حرمت متعہ دو چار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یا تابعینؒ نے خلاف کیا تھا اول تو دو تین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یا تابعینؒ کے مخالفت کئی ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مقابل کوئی معنیٰ نہیں رکھتی مگر پھر بھی سب نے رجوع کر لیا تھا جیسا کہ آئندہ آئے گا۔ اور بعد رجوع تمام کا اتفاق حرمتِ متعہ پر ہو گیا تھا۔

22) ان الاجماع اذا انعقد على الاجتهاد فانه يحرم مخالفته

(تفسير کبیر: جلد 3 صفحہ 4)

جب اجماع اجتہاد کے ساتھ مل جائے تو وہ اجتہاد قطعی ہو جاتا ہے۔

فائدہ: بسرہ جہنی کی حدیث جو امام مسلمؒ نے نقل کی ہے اس کے ساتھ اجماعِ امت بھی مل گیا تو حرمتِ متعہ اجماعی و قطعی ہوگئی جیسا کہ قرآن سے حرمت ثابت ہوتی ہے اسی طرح یہ حرمت بھی قطعی ہے۔ اور پھر قانون یہ ہے کہ حلتِ حرمت کا جب کسی چیز میں اختلاف پیدا ہو جائے تو حکم حرمت کا ہوگا حلت کو ترک کیا جائے گا چیز کو حرام کہا جائے گا۔ لہٰذا متعہ کی حلت و حرمت میں بالفرض اختلاف مان لیا جائے تو پھر بھی عمل حرمت پر ہوگا نہ کہ حلت پر۔

23) اذا تعارض دليل التحريم و دليل الاباحت فقد اجمعوا علىٰ ان جانب الحرمة راحج۔

(تفسير كبير: جلد 5 صفحہ 395)

اصول کا اتفاق ہے کہ جب دلیل حرمت و حلت کی مخالف و متعارض ہو جائیں تو حکم حرمت پر ہو گا۔


صفحہ 2 از 2