Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

آٹھواں شبہ

  علی محمد الصلابی

مردوں کے سامنے ایسی باتیں صراحت کے ساتھ کہنا جن کا کہنا قباحت سے خالی ہو جو کچھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان خاص لمحات میں پیش آتا تھا۔

مرتضیٰ حسینی اپنی بدنیتی ظاہر کرتے ہوئے لکھتا ہے: اس کا بیان کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مردوں کو وہ سناتی تھیں جو ان کے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان راز کی باتیں تھیں اور جن کو بیان کرنا نامناسب ہے۔ جیسے بوسہ لینا، زبان چوسنا، بغیر انزال کے مردانہ عضو کا عورت کے زیریں جسم میں داخل کر دینا وغیرہ وغیرہ۔

(السبعۃ من السلف لمرتضی الحسینی: صفحہ 160)

متعدد احادیث سے استدلال کرتے ہوئے۔ جیسے ’’جب ختنے مل جائیں تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔‘‘

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا: جب خاوند بیوی سے جماع کرے اور اسے انزال نہ ہو تو اس نے کہا: میں نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے کیا پھر اس وجہ سے اکٹھے غسل کیا۔

(سنن دار قطنی: جلد 1 صفحہ 111۔ شرح معانی الآثار للطحاوی: جلد 1 صفحہ 55۔ و البیہقی: جلد 1 صفحہ 164، حدیث نمبر: 799۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا راوی حدیث ہیں۔ دارقطنی نے کہا یہ مرفوع اور موقوف دونوں طرح سے مروی ہے اور ابن قطان نے اسے الوہم و الایہام: جلد 5 صفحہ 268 پر صحیح کہا اور البانی رحمہ اللہ نے سلسلہ الاحادیث الصحیحۃ میں اس کی سند کو صحیح کہا، جلد 5 صفحہ 96)

یہ حدیث کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوتے تو اس کا بوسہ لے لیتے اور اس کی زبان چوس لیتے۔

(سنن أبی داؤد: حدیث نمبر: 2386۔ مسند احمد: جلد 6 صفحہ 123، حدیث نمبر: 24960۔ صحیح ابن خزیمۃ: جلد 3 صفحہ 246۔ الکامل فی الضعفاء لابن عدی: جلد 6 صفحہ 198۔ بیہقی: جلد 4 صفحہ 234، حدیث نمبر: 8359 ۔ ابو داؤد نے اس کی سند کو ضعیف کہا اور ابن قطان نے الوہم و الایہام میں کہا جلد 3 صفحہ 110 اس کی سند میں ابو یحییٰ مصدع الاعرج ضعیف ہے اور نووی نے المجموع: جلد 6 صفحہ 318  میں کہا اس کی سند میں سعد بن اوس اور مصدع دونوں کی جرح اور توثیق میں اختلاف ہے اور ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری: جلد 4 صفحہ 181 میں اس کی سند کو ضعیف کہا اور عینی نے عمدۃ القاری: جلد 11 صفحہ 13 میں اسے ضعیف کہا اور یہ کہ یَمُصُّ لِسَانَہَا کے الفاظ غیر محفوظ ہیں اور زیلعی نے نصب الرایۃ، جلد 4 صفحہ 253 میں اسے سند کو ضعیف کہا اور البانی رحمہ اللہ نے ضعیف سنن ابی داود: حدیث نمبر: 2386 میں اسے ضعیف کہا)

یہ حدیث کہ کبھی کبھار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو غسل جنابت کر لیتے اور میں ابھی تک نہ کر پاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم آتے تو میں آپ کو اپنے ساتھ لپٹا لیتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرمی پہنچاتی۔

(سنن ترمذی: 123۔ مسند ابی یعلیٰ:  جلد 8 صفحہ 260، حدیث نمبر: 4846۔ سنن دار قطنی: جلد 1 صفحہ 143۔ امام ترمذی نے کہا: اس کی سند ٹھیک ہی ہے۔ ابن العربی نے عارضۃ الاحوذی: جلد 1 صفحہ 168 پر لکھا یہ صحیح نہیں اور ابن دقیق العید نے الامام: جلد 3 صفحہ 81۔ میں کہا یہ مسلم کی شرط پر ہے اور البانی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف سنن ترمذی: 123  میں ضعیف کہا۔)

عمارہ بن غراب کی حدیث کہ اس کی پھوپھی نے اسے حدیث سنائی کہ اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ہم میں کسی کو حیض آ جائے اور اس کے اور اس کے خاوند کے لیے صرف ایک بچھونا ہو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں تمھیں وہ بتاتی ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں آئے اور گھر میں بنی ہوئی اپنی مسجد (جائے نماز) کی طرف چلے گئے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک واپس نہ آئے کہ مجھے نیند آ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سردی لگنے لگی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میرے قریب ہو جاؤ۔‘‘ میں نے کہا: میں حائضہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگرچہ تم ہو، تم اپنی رانوں سے کپڑا ہٹاؤ۔‘‘ میں نے اپنی دونوں رانوں سے کپڑا ہٹایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا رخسار اور اپنا سینہ میری رانوں پر رکھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک گئی تاآنکہ آپ کو گرمی پہنچی اور آپ سو گئے۔

(ابو داود حدیث نمبر: 270۔ بیہقی: جلد 1 صفحہ 313، حدیث نمبر: 1561۔ ذہبی نے اس کی سند کو المہذب: جلد 1 صفحہ 312 میں اور بوصیری نے اتحاف الخیرۃ المہرہ: جلد 4 صفحہ 79 میں ضعیف کہا اور البانی رحمہ اللہ نے ضعیف سنن ابی داود: حدیث نمبر 270 میں اس حدیث کو ضعیف کہا۔

پھر رافضی کہتا ہے بظاہر عائشہ رضی اللہ عنہا کو مردوں سے ایسی گفتگو کرنے پر اس علت نے آمادہ کیا جس کے بارے میں مردوں سے گفتگو نامناسب ہوتی ہے کہ وہ اسے اپنی فضیلت اور منقبت سمجھتی تھیں اور اسے یہ تک معلوم نہ تھا کہ یہ تو تمام مردوں اور عورتوں کے عادی معاملات ہیں اور انسانی تقاضے ہیں ہر نبی، آدم سے لے کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک اور اس کی بیوی کے درمیان پیش آتے ہیں اور آج تک پہلے انبیاء میں سے یا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سوائے عائشہ کے کسی بیوی نے ایسی بات کسی کو نہیں بتائی جو نامناسب ہو اور اگر ان باتوں کے بتانے سے عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقصد یہ تھا کہ وہ معصوم نبی کے افعال لوگوں کو بتائے کیونکہ معصوم کا ہر فعل امت کے لیے حجت ہوتا ہے تو اس کے لیے یہ بھی ممکن تھا کہ وہ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال بتاتی اور درمیان میں اپنا تذکرہ نہ کرتی۔ بہرحال عائشہ کا اندازہ غلط ہو گیا اور اس کے لیے رسوائی ہوئی۔

(السبعۃ من السلف: صفحہ 161، 162)

جواب

اے رافضی! میرا اندازہ اور تخمینہ تیرے لیے رسوائی کا پھندا بن جائے گا۔

ان باتوں میں سے جو احادیث ضعیف ہیں یہی اس کا رد ہے اور جو ان میں سے صحیح ہیں تو اللہ تعالیٰ حق بات کہنے سے نہیں شرماتا۔ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا :اگر کوئی آدمی اپنی بیوی سے جماع کرے، پھر اس کا عضو ڈھیلا ہو جائے تو کیا ان دونوں پر غسل واجب ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا وہاں بیٹھی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اور یہ ایسا کام کرتے ہیں، پھر ہم غسل کر لیتے ہیں۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 350)

تو کیا یہ رافضی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی قلت حیا اور سوء ادب کا طعنہ دے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس عیب سے پاک و منزہ ہیں۔ یا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ تبلیغ پر اعتراض کرو گے یا یہ کہو گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی کے راز افشا کیے۔ سوء ظن لامحدود ہے۔

نووی رحمہ اللہ نے کہا: ’’بیوی کی موجود گی میں اس طرح کی بات کرنے کا جواز ملتا ہے۔ جب اس میں کوئی مصلحت مرتب ہوتی ہو اور کسی کو اذیت پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اسلوب سے اس لیے جواب دیا کہ یہ سائل کے دل پر زیادہ اثر انداز ہو گی نیز اس حدیث میں یہ بھی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل وجوب کے لیے ہوتا ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو سائل کو جواب نہ ملا ہوتا۔

(شرح مسلم: للنووی: جلد 4 صفحہ 42)

یہی بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کہی جائے گی کہ ان کا ایسی احادیث کی روایت کا سبب مسلمانوں کے طہارت کے معاملات کی تعلیم تھا۔ اگرچہ وہ تفصیل طلب ہوں، نیز اس ضروری علم کی تحصیل میں حیا مانع نہیں، اسی لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں: انصاری عورتیں بہت اچھی ہیں، انھیں دین کو سمجھنے میں حیا مانع نہیں۔

(اس کی تخریج پیچھے گزر چکی ہے)

اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقصد وحید اس خبر کی تاکید کرنا تھا جس میں لوگوں کا اختلاف تھا اور ایسے واضح طریقے سے حدیث پیش کی کہ اس میں تاویل کی گنجائش نہ رہی۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: اَلْمَائُ مِنَ الْمَائِ ’’پانی پانی سے ہے۔ یا غسل احتلام سے ہے۔‘‘

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 343۔ یہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ جس میں ہر زمانے کے علماء میں اختلاف قائم رہتا ہے۔

اب اگر کسی دماغ میں شیطان نے بسیرا کیا ہوا ہو تو وہ سورۂ یوسف سے بھی جنسی تلذذ کشید کرے گا۔ وہ لوگ کہ جن کے ہاں نکاحِ متعہ جائز ہی نہیں، افضلیت کے درجات کا حامل ہے، وہ کس منہ سے اسلام کی پاکیزہ جنسی تعلیمات پر حرف گیری کر سکتے ہیں؟ ایسا وہی کر سکتا ہے کہ جس کے نزدیک شرم و حیا ایک بے معنیٰ چیز ہو۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسوہ بنانے کی ترغیب اور حدیث پر عمل نہ کرنے کے اندیشے کا سدباب یعنی صرف ختنے ملنے سے غسل چھوڑنے کا اندیشہ اور غسل کے لیے صرف انزال کا اعتبار کرنا اور نماز پر اس کا اثر واضح کرنا جوکہ ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے۔

ہاں! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ان مسائل میں منفرد ہونے کا دعویٰ خالص جھوٹ ہے۔ چنانچہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے روزہ دار کے بوسے لینے والی حدیث روایت کی ہے۔

(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 320، حدیث نمبر: 2718۔ السنن الکبری للنسائی: جلد 6 صفحہ 20، حدیث نمبر: 3074۔ ابن عبدالبر نے التمھید: جلد 5 صفحہ 121 پر لکھا: اس میں ایک راوی عبداللہ بن فروخ لیس بہ باس (وہ مقبول ہے) اور البانی رحمہ اللہ نے ارواء الغلیل: جلد 4 صفحہ 83 پر لکھا اس کی سند مسلم کی شرط پر جید ہے۔ )

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے حیض کے بارے میں وہ حدیث بھی روایت کی جس میں ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک چادر میں لیٹی ہوئی تھیں۔ (صحیح بخاری: حدیث نمبر: 294۔ صحیح مسلم: حدیث 298۔)

اور میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے حائضہ کے ساتھ لیٹنے کی حدیث روایت کی۔

(اسے بخاری نے 303 اور مسلم نے 294 نمبرات سے روایت کیا۔ 

ام قیس بنت اسے بخاری نے 303 اور مسلم نے 294 نمبرات سے روایت کیا۔  رضی اللہ عنہا نے حیض کے خون کا کپڑے پر لگ جانے کے بارے میں احادیث روایت کی ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس کے سوال کا جواب بیان کیا ہے۔

(سنن ابی داود حدیث نمبر: 363۔ النسائی: جلد 1 صفحہ 154۔ سنن ابن ماجہ: حدیث نمبر: 628۔ مسند احمد: جلد 6 صفحہ 355، حدیث نمبر: 27043۔ سنن الدارمی: جلد 1 صفحہ 256، حدیث نمبر: 1019۔ صحیح ابن حبان: جلد 4 صفحہ 240، حدیث: 1395 البیہقی: جلد 2 صفحہ 407، حدیث نمبر: 4279۔ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ابی داود میں اس حدیث کو صحیح کہا

حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے اپنے شدید حیض کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ’’تم اسے روئی کے پھاہے سے بند کر دو۔‘‘

(سنن ترمذی حدیث نمبر: 128۔ سنن ابن ماجہ: حدیث نمبر: 516 مسند احمد: جلد 9 صفحہ 381، حدیث نمبر: 27288۔ امام احمد: بخاری اور ترمذی رحمہم اللہ نے کہا: ’’حسن: صحیح‘‘ اور البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ترمذی میں اسے حسن کہا۔

البتہ اس رافضی کا یہ کہنا کہ ان احادیث کی روایت عائشہ رضی اللہ عنہا کی منقبت و فضیلت نہیں تو وہ ایسا اپنے حسد اور بغض کی وجہ سے کہہ رہا ہے اور ان احادیث کی روایت میں ان کی منقبت کے دو پہلو ہیں۔

1۔ اللہ تعالیٰ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جو صفات حمیدہ و محمودہ عطا فرمائی تھیں جیسے قوت حافظہ اور امانت کے ساتھ تبلیغ۔

2۔ ان احادیث نے امت کو اس کی طہارت اور عبادت میں کتنا فائدہ دیا اور امت کی ایسی مشکلات حل کیں جن کا حل آسان نہ تھا اور یہ ایسا فضل ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے صرف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حصہ میں ہی آیا۔

(غیر مطبوعہ بحث: امنا عائشۃ رضی اللہ عنہا ملکۃ العفاف لنبیل زیانی)