نواں شبہ
علی محمد الصلابی’’عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ پر لعن طعن کی۔ ‘‘
حاکم نے اپنی سند کے ساتھ مسروق سے روایت کی کہ مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے خواب میں اپنے آپ کو ایک ٹیلے پر دیکھا اور میرے اردگرد گائیاں ذبح کی جا رہی تھیں۔ میں نے انھیں کہا: اگر آپ کا خواب سچ ہوا توآپ کے اردگرد ایک بڑی جنگ ہو گی۔ انھوں نے کہا: میں تیرے شر سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ تم نے نامناسب بات کی۔ میں نے ان سے کہا: شاید کوئی ایسا معاملہ ہو جو آپ کو برا لگے گا۔ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر میں آسمان سے گر پڑوں تو یہ مجھے زیادہ محبوب ہے اس سے کہ میں کوئی ایسا کام کروں۔ جب کچھ وقت گزرا تو انھیں بتایا گیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے ابھری ہوئی چھاتی والے شخص کو قتل کر دیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے کہا: جب تم کوفہ جاؤ تو میرے لیے کچھ لوگوں کے نام لکھ بھیجنا جو اس واقعہ کے گواہ ہیں۔ جو اس علاقے میں معروف ہوں۔ جب میں کوفہ آیا تو لوگوں کو گروہوں میں منقسم دیکھا۔ میں نے ہر گروہ سے دس آدمیوں کے نام ان کی طرف لکھ بھیجے جو اس واقعہ کے گواہ تھے۔ بقول راوی میں ان کے پاس ان لوگوں کی گواہیاں لایا تو انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ عمرو بن عاص پر لعنت کرے، اس نے مجھ سے کہا کہ اس نے مصر میں اس شخص کو قتل کیا۔
(مستدرک حاکم: جلد 4 صفحہ 14۔ حاکم نے کہا یہ حدیث شیخان کی شرط پر صحیح ہے اور ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔)
اس روایت سے استدلال کا درج ذیل وجوہ سے جواب دیا جائے گا:
اول: یہ روایت شاذ ہے۔ کیونکہ مصنف ابن ابی شیبہ میں یہ روایت اس سند کے ساتھ مسروق سے اس طرح مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں: میں نے خواب میں اپنے آپ کو ایک ٹیلے پر دیکھا گویا کہ میرے اردگرد گائیاں ذبح کی جا رہی ہوں۔ تو مسروق نے کہا: اگر آپ کر سکیں کہ وہ آپ نہ ہوں تو ضرور ایسا کریں۔ مسروق نے کہا: پس وہ اس آزمائش میں پڑ گئیں۔ اللہ ان پر رحم فرمائے۔
اس روایت میں سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لعنت کرنے کا تذکرہ نہیں ہے۔ اس لیے حاکم کی روایت میں اضافہ شاذ ہے، کیونکہ اس کی سند میں جریر نے ابو معاویہ محمد بن خازم کی مخالفت کی ہے یہ اس طرح ہے کہ ابو معاویہ اعمش سے جو روایت کرتا ہے وہ اوثق ہوتی ہے اس روایت سے جو روایت جریر بن عبدالحمید اعمش سے کرے۔
(مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 11 صفحہ 77)
یحییٰ بن معین فرماتے ہیں: اعمش سے روایت کرنے میں ابو معاویہ جریر سے اثبت ہے۔
(الجرح و التعدیل لابن ابی حاتم: جلد 7 صفحہ 247)
بلکہ جریر خود کہتے ہیں: ’’ہم اعمش کے پاس سے واپس آتے تھے تو اس کی بیان کردہ حدیث یاد کرنے میں ہم میں ابو معاویہ سے زیادہ کوئی نہ ہوتا۔‘‘
(تذکرۃ الحفاظ للذہبی: جلد 1 صفحہ 215)
دوم: جو کچھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی سیرت و اخلاق کے بارے میں مروی ہے حاکم کی روایت میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے عمرو پر لعنت اس کے منافی ہے۔ کیونکہ جو بھی ان سے بدسلوکی کرتا وہ اس کے ساتھ کثرت سے عفو و درگز کرنے والی خاتون تھیں۔ بلکہ وہ دوسروں کو ایسے شخص سے بدسلوکی کرنے سے روکتی تھیں۔
اس کی دلیل ہشام کی وہ روایت ہے جو انھوں نے اپنے باپ سے کی ہے کہ واقعہ افک میں حسان بن ثابتؓ عائشہ رضی اللہ عنہا کے کردار کے بارے میں بڑھ چڑھ کر انگشت نمائی کرنے والوں میں سے ایک تھے۔ میں نے ان کے متعلق بدکلامی کی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے میرے بھانجے! تو اسے چھوڑ دے کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا کرتا تھا۔
( اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)